www.allamaiqbal.com
  bullet سرورق   bullet شخصیت bulletتصانیفِ اقبال bulletگیلری bulletلائبریری bulletہمارے بارے میں bulletرابطہ  

فلسفہ عجم

فلسفہ عجم

مندرجات

دیباچۂ
حصہ اوّل قبل اسلامی فلسفۂ ایران
باب اوّل ایرانی ثنویت
حصہ دوم یونانی ثنویت
باب دوم ایران کے نوفلاطونی...
باب سوم اسلام میں عقلیت کا عروج...
باب چہارم - تصوریت اور عقلیت کے...
باب پنجم - تصوف کا مآخذ اور قرآن...
باب ششم - مابعد کا ایرانی تفکر
خاتمہ


دیگر زبانیں

دیباچۂ مترجم

پیش نظر کتاب علامہ اقبال کی The Development of Metaphysics in Persia کا ترجمہ ہے۔ ۱۹۲۷ء میں علامہ اقبال سے اس ناچیز نے اس کتاب کا ترجمہ شائع کرنے کی اجازت چاہی تھی۔ علامہ موصوف نے ازراہِ کرم اجازت دیتے ہوئے تحریر فرمایا تھا کہ "یہ کتاب اس سے اٹھارہ سال پہلے لکھے گئے تھی۔ اُس وقت بہت سے نئے اُمور کا انکشاف ہوا ہے، اور خود میرے خیالات میں بھی بہت سا انقلاب آچکا ہے۔ جرمن زبان میں غزالی، طوسی وغیرہ پر علیحدہ کتابیں لکھی گئی ہیں جو میری تحریر کے وقت موجود نہ تھیں۔ میرے خیال میں اب اس کتاب صرف تھوڑا سا حصہ باقی ہے جو تنقید کی زد سے بچ سکے۔”
علمی دنیا میں تحقیقات کی رفتار اس قدر تیز ہے کہ جو نظریہ آج رائج ہوتا ہے وہ کل متغیر ہوجاتا ہے۔ افلاطون اور ارسطو کے نظریات آج رائج نہیں، تاہم اُن کی تصانیف کو جو تاریخی اہمیت حاصل ہے اُس سے کون انکار کرسکتا ہے علامہ کے خیالات میں گو بہت سا انقلاب آچکا ہے۔ تاہم پیش نظر کتاب کی تاریخی اہمیت قابل لحاظ ہے۔ عصر جدید کے مستشرقین اس کے حوالے و اقتباسات پیش کرتے ہیں، جس سے اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کتاب کی چند خصوصیات ایسی ہیں جو متعلّمین فلسفہ کے لیے دلچسپی سے خالی نہیں۔
فرد کی طرح ہر قوم کے قالب میں بھی ایک مخصوص روح موجود رہتی ہے۔ اس کی ایک خاص سیرت اور خاص طبیعت ہوتی ہے۔ علامہ اقبال نے ایرانی قوم کی مخصوص روح اور اس کی خاص سیرت کو اس کتاب میں منکشف کیا ہے، جیسا کہ علامہ موصوف نے تمہید میں فرمایا ہے۔ اس کتاب میں دو اُمور سے بحث کی گئی ہے۔
(الف) میں نے ایرانی تفکر کا منطقی سراغ لگانے کی کوشش کی ہے اور اس کو میں نے فلسفۂ جدید کی زبان میں پیش کیا ہے۔
(ب) تصوف کے موضوع پر میں نے زیادہ سائنٹفک طریقے سے بحث کی ہے اور اُن ذہنی حالات و شرائط کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی ہے جو اس قسم کے واقعے کو معرضِ ظہور میں لے آتے ہیں۔ لہٰذا اُس خیال کے برخلاف جو عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ میں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ تصوف اُن مختلف عقلی و اخلاقی قوتوں کے باہمی عمل و اثر کا لازمی نتیجہ ہے جو ایک خوابیدہ روح کو بیدار کرکے زندگی کے اعلیٰ ترین نصب العین کی طرف ر ہنمائی کرتی ہیں۔
چونکہ اُردو زبان میں اس موضوع پر کوئی قابل تصنیف موجود نہیں ہے اس لیے اس ناچیز نے یہ ضروری سمجھا کہ اس کتاب کو اُردو زبان میں منتقل کیا جائیج و متعلّمین فلسفہ علامہ کے جدید ترین خیالات و افکار سے واقف ہونا چاہتے ہیں ان کو علامہ موصوف کی جدید تصنیف Reconstruction of Religious thought in Islam (اسلامی تفکر کی تشکیل جدید) کا بغور مطالعہ کرنا چاہیے جو اپنے اندر ایک اجتہادی شان رکھتی ہے۔
آخر میں قارئین سے یہ عرض کروں گا کہ یہ فلسفہ کی کتاب ہے۔ اس کے مطالب کے سمجھنے میں کچھ دقت ضرور پیش آئے گی۔ لیکن غور و توجہ سے اس کا مطالعہ کیا جائے تو یہ دقت رفع ہوسکتی ہے۔ حتی الامکان اصل کے مطابق ترجمہ کرنے اور مطلب کو صحت کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن اس میں وہ ادبی خوبیاں نہ آسکیں جو اصل کتاب میں ہیں۔
اس کتاب کا ترجمہ ۱۹۲۸ء میں ختم ہوچکا تھا۔ لیکن طباعت کی گوناں گوں دقتوں کی وجہ سے اشاعت کی نوبت ۱۹۳۶ء میں آرہی ہے۔ میں مولوی تصدق حسین کا شکریہ ادا کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ان کی کوششوں کے بغیر اس کا ترجمہ شائع ہونا دشوار تھا۔
۱۹۳۶ء حیدرآباد دکن میر حسن الدین

تمہید

مابعد الطبعی تفکر کا شوق ایرانیوں کی سیرت کے نمایوں خط و خال میں سے ہے۔ پھر بھی کوئی محقق جو ایرانی ادبیات کی طرف اس اُمید سے رجوع کرتا ہے کہ کپیلا یا کانٹ کے نظامات کی طرح یہاں بھی کوئی جامع نظام فکر دستیاب ہوگا اس کو مایوسی کے ساتھ ٹوٹنا پڑے گا۔ اس میں شک نہیں کہ اس کے ذہن پر اُس حیرت انگیز عقلی دقیقہ سنجی و باریک بینی کا گہرا نقش بیٹھ جائے گا جو یہاں ظاہر کی گئی ہے۔ میرے خیال میں ایرانی ذہن تفصیلات کا متحمل نہیں ہوسکتا اور یہی وجہ ہے کہ اس میں اس منتظمہ کا فقدان ہے جو عام واقعات کے مشاہدے سے اساسی اصول کی تفسیر کرکے ایک نظام تصورات کو بتدریج تشکیل دیتی ہے دقیق النظر برہمن کی طرح ایک ایرانی بھی اشیا کی باطنی وحدت کا تعقل کرلیتا ہے۔ اوّل الذکر اس وحدت کو انسانی تجربے کے تمام پہلوئوں میں منکشف کرنے کی کوشش کرتا اور مادہ میں اس کے پوشیدہ وجودہ کی مختلف پیرایوں میں توضیح کرنا چاہتا ہے اور آخر الذکر خالص کلیت سے مطمئن نظر آتا ہے۔ اور اس کلیت کے باطنی مظروف کی تحقیق و تفتیش کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ ایرانیوں کا تتلی کا سا بیتاب تخیل گویا ایک نیم مستی کے عالم میں ایک پھول سے دوسرے پھول کی طرف اڑتا پھرتا ہے اور وسعت چمن پر بحیثیت مجموعی نظر ڈالنے کے ناقابل نظر آتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کے گہرے سے گہرے افکار اور جذبات غیر مربوط اشعار (غزل) میں ظاہر ہوتے ہیں، جو اس کی فنّی لطافت کا آئینہ ہیں۔ ایک ہندی بھی ایک ایرانی کی طرح علم کے ایک اعلیٰ ماخذکی ضرورت کو تسلیم کرتا ہے، لیکن وہ ایک تجربہ سے دوسرے تجربہ کی طرف خاموشی کے ساتھ آگے بڑھتا ہے، اور بے رحمی سے ان تجارب کا تجزیہ کرتا جاتا ہے۔ تاکہ وہ کلیت ان تجارب سے منکشف ہوجائے، جو اُن کی تہ میں پوشیدہ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ایرانی کو مابعد الطبیعیات کا بحیثیت ایک نظامِ فکر کے شعور خفی ہوتا ہے، اس کے برخلاف ایک برہمن اس بات کو پوری طرح محسوس کرتا ہے کہ اس کے نظریہ کو ایک مدلل نظام کی صورت میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ ان دونوں اقوام کے ذہنی اختلاف کا نتیجہ ظاہر ہے۔ ایک طرف تو ایسے نظاماتِ فکر دستیاب ہوتے ہیں، جو پوری طرح مربوط و منضبط نہیں ہیں اور دوسری طرف متجسس ویدانت ہے جس کی عظمت مرعوب کن ہے۔ اسلامی تصوف کے متعلّم کو جسے اصول وحدت کی ایک جامع و محیط تشریح سے واقف ہونے کی خواہش ہو، اُندلسی فلسفی ابن عربی کی ضخیم مجلدات دیکھنی چاہییں۔
بہرحال اس زبردست آریائی خاندان کی مختلف شاخوں کی عقلی جدوجہد کے نتائج میں ایک حیرت انگیز مشابہت پائی جاتی ہے۔ تمام تصوری فلسفہ کا نتیجہ ہندوستان میں بدھ ایران میں بہاء اللہ اور مغرب میں شوپن ہور ہے، جس کا نظامِ فلسفہ ہیگل کی زبان میں آزاد، مشرقی کلیت اور مغربی جبریت کا امتزاج ہے۔
لیکن ایران کی تاریخ فکر ایک ایسے واقعہ کو پیش کرتی ہے جو اسی کے لیے مخصوص ہے ایران میں غالباً سامی اثرات کی وجہ سے فلسفیانہ تفکر مذہب کے ساتھ غیر منفک طور پر متحد ہوگیا تھا اور ایک ایسے منکرین جو نئے نظاماتِ فکر کے بانی تھے ہمیشہ نئی مذہبی تحریکات کے بھی بانی رہے ہیں۔ بہرحال عربوں کے حملہ کے بعد سے ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کے نوفلاطونی ارسطاطالیئین نے فلسفۂ خالص کو مذہب سے الگ کردیا تھا۔ لیکن یہ انفصال وجدائی محض ایک عارضی حادثہ تھی۔ یونانی فلسفہ جو ایران کی سرزمین کے لیے ایک بدیسی پودا تھا، بالآخر ایرانی تفکر کا ایک جزو لاینفک بن گیا۔ اور مابعد کے مفکرین، جن میں ناقدین اور یونانی حکمت کے حامی بھی شامل تھے، ارسطو اور افلاطون کی زبان بولنے لگ گئے تھے اور ساتھ ہی ساتھ وہ قدیم مذہبی خیالات سے بھی بہت متاثر تھے۔ اس واقعہ کو ذہن نشین کرلینا بہت ضروری ہے۔ تاکہ بعد اسلامی ایرانی تفکر کو پوری طرح سمجھنے میں مدد ملے۔
اس تحقیق کا مقصد جیسا کہ ظاہر ہوجائے گا، ایرانی مابعد الطبیعیات کی آیندہ تاریخ کے لیے ایک بنیاد تیار کرنا ہے۔ ایسے تبصرہ میں جس کا نقطۂ نظر خالص تاریخی ہے ایسے تفکر کی اُمید نہ رکھنی چاہیے جس میں جدت و اُپج ہو۔ تاہم حسب ذیل دو اُمور کی طرف آپ کی توجہ منعطف کرانے کی جسارت کرتا ہوں۔
(ا) میں نے ایرانی تفکر کے منطقی تسلسل کا سراغ لگانے کی کوشش کی ہے، اور اس کو میں نے فلسفۂ جدید کی زبان میں پیش کیا ہے۔
(ب) تصوف کے موضو پر میں نے زیادہ سائنٹفک طریقہ سے بحث کی ہے اور اُن ذہنی حالات و شرائط کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی ہے جو اس قسم کے واقعہ کو معرض ظہور میں لے آتے ہیں۔ لہٰذا اس خیال کے برخلاف جو عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، میں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ تصوف اُن مختلف عقلی و اخلاقی قوتوں کے باہمی عمل و اثر کا لازمی نتیجہ ہے جو ایک خوابیدہ روح کو بیدار کرکے زندگی کے اعلیٰ ترین نصب العین کی طرف اس کی رہنمائی کرتی ہیں۔
چونکہ میں ژند سے ناواقف ہوں اس لیے زرتشت کے متعلق میری معلومات بالواسطہ ہیں۔ کتاب ہذا کے حصہ دوم کے لیے میں نے فارسی و عرب کے اصلی مسودوں اور ان مطبوعہ تصانیف کا مطالعہ کیا ہے جو اس تحقیق سے متعلق تھیں۔ میں ذیل میں اُن فارسی و عربی مخطوطات کے نام پیش کرتا ہوں جن سے میں نے اس کتاب کے لیے بیشتر مواد اخذ کیا ہے۔
(۱) تاریخ الحکماء از البہیقی رائل لائبریری برلن
(۲) شرح انواریہ (مع متن) از محمد شریف ہراتی //
(۳) حکمت العین از الکاتبی //
(۴) شرح حکمت العین از محمد ابن مبارک البخاری کتب خانہ انڈیا آفس
(۵) شرح حکمت العین از حسینی //
(۶) عوارف المعارف از شہاب الدین کتب خانہ انڈیا آفس
(۷) مشکواۃ الانوار از الغزالی //
(۸) کشف المحجوب از علی ہجویری //
(۹) رسالہ نفس ترجمہ ارسطو از افضل کاشی //
(۱۰) رسالہ میر سید شریف //
(۱۱) خاتمہ از سید محمد گیسو دراز //
(۱۲) منازل السائرین از عبداللہ اسمٰعیل ہراتی //
(۱۳) جاودان نامہ از افضل کاشی //
(۱۴) تاریخ الحکمائ از شہر زوری کتب خانہ برٹش میوزیم
(۱۵) مجموعہ تصانیف ابن سینا //
(۱۶) رسالۂ فی الوجود از میر جرجانی //
(۱۷) جاودان کبیر کتب خانہ جامعہ کیمبرج
(۱۸) جامِ جہاں نما //
(۱۹) مجموعہ فارسی رسالہ نمبر(۱) و (۲) از النفسی کتب خانہ ٹرینٹی کالج
شیخ محمد اقبال

اگلا>>

دیباچۂ

دیباچۂ مترجم


دیگر زبانیں
English
اردو

logo Iqbal Academy
اقبال اکادمی پاکستان
حکومتِ پاکستان
اقبال اکادمی پاکستان