Official Website of Allama Iqbal
  bullet سرورق   bullet سوانح bulletتصانیفِ اقبال bulletگیلری bulletکتب خانہ bulletہمارے بارے میں bulletرابطہ  

بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے زیراہتمام علامہ اقبال کے معاشی تصورات پر ویبینار کا انعقاد

اقبال اکادمی پاکستان کی فروغِ اقبالیات کی سرگرمیوں کے سلسلے میں بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے زیراہتمام اقبال اکادمی پاکستان کے تعاون سے 5 اکتوبر 2022 کو ایک ویبینار کا اہتمام کیا گیا۔ ویبی نار کا موضوع
Social Protection in Modern Economics - A study in perspective of Allama Iqbal's Economic Thought
تھا۔ صدر شعبہ پروفیسر ڈاکٹر رضا المصطفی نے ویبینار کے مقاصد پر روشنی ڈالی ۔ اقبال اکادمی پاکستان سے ڈاکٹر طاہر حمید تنولی نے اس موضوع پر لیکچر دیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ سماجی تحفظ کے جتنے اقدامات جدید علم معاشیات نے تجویز کیے ہیں وہ ایک لحاظ سے علامہ اقبال کی معاشی فکر کا تسلسل ہیں جن کی تفصیل ہمیں علامہ اقبال کی فکر میں ملتی ہے۔ علامہ اقبال نے سرمایہ دارانہ معیشت کے نقائص کو بیان کرتے ہوئے ان کے ازالے کے لئے اپنی شعری اور نثری تحریروں میں موثر اقدامات تجویز کیے ہیں۔ علامہ اقبال نے مثالی ریاست مرغدین کے تصور اور محکمات عالم قرآنی میں جو معاشی تصورات پیش کیے ہیں وہ انسانیت کے لئے سوشل پروٹیکشن کی مضبوط بنیاد بن سکتے ہیں۔ انہوں نے اس نکتے کی وضاحت کی کہ علامہ اقبال جس نظام معیشت کی بات کر رہے ہیں وہ اسلام کے اصول امانت پر مشتمل تصور ملکیت، اصول قل العفو اور معاشی و سماجی نفع بخشی کے اصول پر مبنی ہے۔ ان اصولوں کو نظام میں ڈھال کر روبہ عمل کرنے سے نہ صرف ہمارا معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن سکتا ہے بلکہ ہم عالمی سطح پر انسانیت کے لیے بھی ایک مثالی رول ماڈل پیش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے معاشیات کی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء پر زور دیا کہ وہ جدید معاشی افکار کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال کے معاشی افکار اور جس انداز سے علامہ اقبال نے قرآن حکیم کے نظام معیشت کو سمجھا اور بیان کیا اسے بھی موضوع تحقیق بنائیں۔ کیونکہ اسی صورت میں ہمارے نوجوان علم معیشت میں نئے تصورات متعارف کروا سکتے ہیں اور علوم کے نئے امکانات کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔

اقبال اکادمی پاکستان