ا علےحضرت شہيد اميرالمومنين نادر شاہ غازي رحمتہ اللہ عليہ کے لطف و کرم سے نومبر1933ء ميں مصنف کو حکيم سنائي غزنوي رحمتہاللہ عليہ کے مزار مقدس کي زيارت نصيب ہوئي - يہ چند افکار پريشاں جن ميں حکيم ہي کے ايک مشہور قصيدے کي پيروي کي گئي ہے ، اس روز سعيد کي يادگار ميں سپرد قلم کيے گئے-:


'
ما از پے سنائي و عطار آمديم'
سما سکتا نہيں پہنائے فطرت ميں مرا سودا
غلط تھا اے جنوں شايد ترا اندازہ صحرا
خودي سے اس طلسم رنگ و بو کو توڑ سکتے ہيں
يہي توحيد تھي جس کو نہ تو سمجھا نہ ميں سمجھا
نگہ پيدا کر اے غافل تجلي عين فطرت ہے
کہ اپني موج سے بيگانہ رہ سکتا نہيں دريا
رقابت علم و عرفاں ميں غلط بيني ہے منبر کي
کہ وہ حلاج کي سولي کو سمجھا ہے رقيب اپنا
خدا کے پاک بندوں کو حکومت ميں ، غلامي ميں
زرہ کوئي اگر محفوظ رکھتي ہے تو استغنا
نہ کر تقليد اے جبريل ميرے جذب و مستي کي
تن آساں عرشيوں کو ذکر و تسبيح و طواف اولي!
بہت ديکھے ہيں ميں نے مشرق و مغرب کے ميخانے
يہاں ساقي نہيں پيدا ، وہاں بے ذوق ہے صہبا
نہ ايراں ميں رہے باقي ، نہ توراں ميں رہے باقي
وہ بندے فقر تھا جن کا ہلاک قيصر و کسري
يہي شيخ حرم ہے جو چرا کر بيچ کھاتا ہے
گليم بوذر و دلق اويس و چادر زہرا!
حضور حق ميں اسرافيل نے ميري شکايت کي
يہ بندہ وقت سے پہلے قيامت کر نہ دے برپا
ندا آئي کہ آشوب قيامت سے يہ کيا کم ہے
'
گرفتہ چينياں احرام و مکي خفتہ در بطحا1 '!
لبالب شيشہ تہذيب حاضر ہے مے 'لا' سے
مگر ساقي کے ہاتھوں ميں نہيں پيمانہ 'الا'
دبا رکھا ہے اس کو زخمہ ور کي تيز دستي نے
بہت نيچے سروں ميں ہے ابھي يورپ کا واويلا
اسي دريا سے اٹھتي ہے وہ موج تند جولاں بھي
نہنگوں کے نشيمن جس سے ہوتے ہيں تہ و بالا
غلامي کيا ہے ؟ ذوق حسن و زيبائي سے محرومي
1
يہ مصرع حکيم سنائي کا ہے
------------------
جسے زيبا کہيں آزاد بندے ، ہے وہي زيبا
بھروسا کر نہيں سکتے غلاموں کي بصيرت پر
کہ دنيا ميں فقط مردان حر کي آنکھ ہے بينا
وہي ہے صاحب امروز جس نے اپني ہمت سے
زمانے کے سمندر سے نکالا گوہر فردا
فرنگي شيشہ گر کے فن سے پتھر ہوگئے پاني
مري اکسير نے شيشے کو بخشي سختي خارا
رہے ہيں ، اور ہيں فرعون ميري گھات ميں اب تک
مگر کيا غم کہ ميري آستيں ميں ہے يد بيضا
وہ چنگاري خس و خاشاک سے کس طرح دب جائے
جسے حق نے کيا ہو نيستاں کے واسطے پيدا
محبت خويشتن بيني ، محبت خويشتن داري
محبت آستان قيصر و کسري سے بے پروا
عجب کيا رمہ و پرويں مرے نخچير ہو جائيں
'
کہ برفتراک صاحب دولتے بستم سر خود را'1
1
يہ مصرع مرزا صائب کا ہے جس ميں ايک لفظي تغير کيا گيا
------------------
وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادي سينا
نگاہ عشق و مستي ميں وہي اول ، وہي آخر
وہي قرآں ، وہي فرقاں ، وہي يسيں ، وہي طہ
سنائي کے ادب سے ميں نے غواصي نہ کي ورنہ
ابھي اس بحر ميں باقي ہيں لاکھوں لولوئے لالا