تاتاري کا خواب


کہيں سجادہ و عمامہ رہزن
کہيں ترسا بچوں کي چشم بے باک!
ردائے دين و ملت پارہ پارہ
قبائے ملک و دولت چاک در چاک!
مرا ايماں تو ہے باقي وليکن
نہ کھا جائے کہيں شعلے کو خاشاک!
ہوائے تند کي موجوں ميں محصور
سمرقند و بخارا کي کف خاک!
'
بگرداگرد خود چندانکہ بينم
بلا انگشتري و من نگينم '
يکايک ہل گئي خاک سمرقند
اٹھا تيمور کي تربت سے اک نور
شفق آميز تھي اس کي سفيدي
صدا آئي کہ ''ميں ہوں روح تيمور
اگر محصور ہيں مردان تاتار
نہيں اللہ کي تقدير محصور
تقاضا زندگي کا کيا يہي ہے
کہ توراني ہو توراني سے مہجور؟
'
خودي را سوز و تابے ديگرے دہ
جہاں را انقلابے ديگرے دہ''
------------------------------------
يہ شعر معلوم نہيں کس کا ہے ، نصير الدين طوسي نے غالباً' شرح اشارات 'ميں اسے نقل کيا ہے