عا شق ہر جائي
(1)

 
ہے عجب مجموعہء اضداد اے اقبال تو
رونق ہنگامہء محفل بھي ہے، تنہا بھي ہے
تيرے ہنگاموں سے اے ديوانہ رنگيں نوا!
زينت گلشن بھي ہے ، آرائش صحرا بھي ہے
ہم نشيں تاروں کا ہے تو رفعت پرواز سے
اے زميں فرسا ، قدم تيرا فلک پيما بھي ہے
عين شغل ميں پيشاني ہے تيري سجدہ ريز
کچھ ترے مسلک ميں رنگ مشرب مينا بھي ہے
مثل بوئے گل لباس رنگ سے عرياں ہے تو
ہے تو حکمت آفريں ، ليکن تجھے سودا بھي ہے
جانب منزل رواں بے نقش پا مانند موج
اور پھر افتادہ مثل ساحل دريا بھي ہے
حسن نسواني ہے بجلي تيري فطرت کے ليے
پھر عجب يہ ہے کہ تيرا عشق بے پروا بھي ہے
تيري ہستي کا ہے آئين تفنن پر مدار
تو کبھي ايک آستانے پر جبيں فرسا بھي ہے ؟
ہے حسينوں ميں وفا نا آشنا تيرا خطاب
اے تلون کيش! تو مشہور بھي ، رسوا بھي ہے
لے کے آيا ہے جہاں ميں عادت سيماب تو
تيري بے تابي کے صدقے، ہے عجب بے تاب تو

 

(2)


عشق کي آشفتگي نے کر ديا صحرا جسے
مشت خاک ايسي نہاں زير قبا رکھتا ہوں ميں
ہيں ہزاروں اس کے پہلو ، رنگ ہر پہلو کا اور
سينے ميں ہيرا کوئي ترشا ہوا رکھتا ہوں ميں
دل نہيں شاعر کا ، ہے کيفيتوں کي رستخيز
کيا خبر تجھ کو درون سينہ کيا رکھتا ہوں ميں
آرزو ہر کيفيت ميں اک نئے جلوے کي ہے
مضطرب ہوں ، دل سکوں نا آشنا رکھتا ہوں ميں
گو حسين تازہ ہے ہر لحظہ مقصود نظر
حسن سے مضبوط پيمان وفا رکھتا ہوں ميں
بے نيازي سے ہے پيدا ميري فطرت کا نياز
سوز و ساز جستجو مثل صبا رکھتا ہوں ميں
موجب تسکيں تماشائے شرار جستہ اے
ہو نہيں سکتا کہ دل برق آشنا رکھتا ہوں ميں
ہر تقاضا عشق کي فطرت کا ہو جس سے خموش
آہ! وہ کامل تجلي مدعا رکھتا ہوں ميں
جستجو کل کي ليے پھرتي ہے اجزا ميں مجھے
حسن بے پاياں ہے ، درد لادوا رکھتا ہوں ميں
زندگي الفت کي درد انجاميوں سے ہے مري
عشق کو آزاد دستور وفا رکھتا ہوں ميں
سچ اگر پوچھے تو افلاس تخيل ہے وفا
دل ميں ہر دم اک نيا محشر بپا رکھتا ہوں ميں
فيض ساقي شبنم آسا ، ظرف دل دريا طلب
تشنہء دائم ہوں آتش زير پا رکھتا ہوں ميں
مجھ کو پيدا کر کے اپنا نکتہ چيں پيدا کيا
نقش ہوں ، اپنے مصور سے گلا رکھتا ہوں ميں
محفل ہستي ميں جب ايسا تنک جلوہ تھا حسن
پھر تخيل کس ليے لا انتہا رکھتا ہوں ميں
در بيابان طلب پيوستہ مي کوشيم ما
موج بحريم و شکست خويش بر دوشيم ما