|
ہمدردی( ماخوذ از ولیم کو پر )بچوں کے لیے |
ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا بُلبل تھا کوئی اُداس بیٹھا |
کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی اُڑنے چُگنے میں دن گزارا |
پہنچوں کِس طرح آشیاں تک ہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا |
سُن کر بُلبل کی آہ و زاری جُگنو کوئی پاس ہی سے بولا |
حاضر ہُوں مدد کو جان و دل سے کِیڑا ہوں اگرچہ مَیں ذرا سا |
کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری مَیں راہ میں روشنی کروں گا |
اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل چمکا کے مجھے دِیا بنایا |
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھّے آتے ہیں جو کام دوسرں کے |