رات کیوں میری چاندنی میں پھرتا ہے تُو پریشاں خاموش صورتِ گُل، مانندِ بُو پریشاں تاروں کے موتیوں کا شاید ہے جوہری تُو مچھلی ہے کوئی میرے دریائے نور کی تُو یا تُو مری جبیں کا تارا گرا ہُوا ہے رفعت کو چھوڑ کر جو بستی میں جا بسا ہے خاموش ہو گیا ہے تارِ ربابِ ہستی ہے میرے آئنے میں تصویرِ خوابِ ہستی دریا کی تہ میں چشمِ گرادب سو گئی ہے ساحل سے لگ کے موجِ بے تاب سو گئی ہے بستی زمیں کی کیسی ہنگامہ آفریں ہے یوں سو گئی ہے جیسے آباد ہی نہیں ہے شاعر کا دل ہے لیکن ناآشنا سکُوں سے آزاد رہ گیا تُو کیونکر مرے فسوں سے؟ |