|
موٹر |
کیسی پتے کی بات جُگندر نے کل کہی موٹر ہے ذوالفقار علی خاں کا کیا خموش |
ہنگامہ آفریں نہیں اس کا خرامِ ناز مانندِ برق تیز، مثالِ ہوا خموش |
میں نے کہا، نہیں ہے یہ موٹر پہ منحصر ہے جادۂ حیات میں ہر تیزپا خموش |
ہے پا شکستہ شیوۂ فریاد سے جرَس نکہت کا کارواں ہے مثالِ صبا خموش |
مِینا مدام شورشِ قُلقُل سے پا بَہ گل لیکن مزاجِ جامِ خرام آشنا خموش |
شاعر کے فکر کو پرِ پرواز خامشی سرمایہ دارِ گرمیِ آواز خامشی! |