اک دن رسُولِ پاکؐ نے اصحابؓ سے کہا دیں مال راہِ حق میں جو ہوں تم میں مالدار ارشاد سُن کے فرطِ طرب سے عمَرؓ اُٹھے اُس روز اُن کے پاس تھے درہم کئی ہزار دل میں یہ کہہ رہے تھے کہ صِدّیقؓ سے ضرور بڑھ کر رکھے گا آج قدم میرا راہوار لائے غَرضکہ مال رُسولِ امیںؐ کے پاس ایثار کی ہے دست نِگر ابتدائے کار پُوچھا حضور سروَرِ عالمؐ نے، اے عمَرؓ! اے وہ کہ جوشِ حق سے ترے دل کو ہے قرار رَکھّا ہے کچھ عیال کی خاطر بھی تُو نے کیا؟ مسلم ہے اپنے خویش و اقارب کا حق گزار کی عرض نصف مال ہے فرزند و زن کا حق باقی جو ہے وہ ملّتِ بیضا پہ ہے نثار |