|
مذ ہبتضمین بر شعرِ میرزا بیدلؔ |
تعلیمِ پیرِ فلسفۂ مغربی ہے یہ ناداں ہیں جن کو ہستیِ غائب کی ہے تلاش |
پیکر اگر نظر سے نہ ہو آشنا تو کیا ہے شیخ بھی مثالِ بَرہمن صنَم تراش |
محسوس پر بِنا ہے علومِ جدید کی اس دَور میں ہے شیشہ عقائد کا پاش پاش |
مذہب ہے جس کا نام، وہ ہے اک جنُونِ خام ہے جس سے آدمی کے تخیّل کو انتعاش |
کہتا مگر ہے فلسفۂ زندگی کچھ اور مجھ پر کِیا یہ مُرشدِ کامل نے راز فاش |
“باہر کمال اند کے آشفتگی خوش است ہر چند عقلِ کُل شدہ ای بے جُنوں مباش” |