www.allamaiqbal.com : Chronology
  bullet سرورق   bullet شخصیت bulletتصانیفِ اقبال bulletگیلری bulletکتب خانہ bulletہمارے بارے میں bulletرابطہ  

شخصیت
حیاتِ اقبال
سوانح
سنین کے آئينے میں
سوانحی مواد
کتابیات
اکثر پوچھے گئے سوالات

سنین کے آئينے میں

ابتدائی دور: ۱۹۰۵ تک پندرھویں صدی


Date of Birth

"I was born on the 3rd of Dhu Q'ad 1294 A.H. (1876 A.D.)," Iqbal wrote in the 'Lebenslauf' of his Ph.D Thesis (Below). Iqbal usually quoted 1876 as the year of his birth approximately but the Islamic date actually corresponded to November 9, 1877 A.D. as pointed out in Rozgar-i-Faqir (Vol. 2) in 1963 and later ratified by two special committees appointed for this purpose by the Bazm-i-Iqbal in late 1972 and the Federal Ministry of Education in 1974. The findings seem to be genuine but they are sometimes subjected to unfounded suspicion since they matched the expedient needs of the Government of Pakistan – India had already celebrated the Iqbal Centenary in 1973!

The mistaken date of birth, February 22, 1873, was first mentioned in the Lahore-based Urdu daily Inquilab on May 7, 1938 (sixteen days after Iqbal's death) and it later gained currency through Iqbal's first standard biography written by the editor of the same newspaper in 1955. The entry in the Municipal Register of Sialkot, on which this date was based is now seen as unrelated to Iqbal. Other dates regarded as Iqbal's nativity at some point include December 29, 1873 (propounded in 1971 by a family member who later relegated), 1875 (mentioned on Iqbal's Middle School Certificate) and December 1876 (miscalculated by Iqbal and his brother from the Islamic date actually corresponding to November 9, 1877).

بابا لول حج، کشمیر کے سپرو ذات کا برہمن، مسلمان ہوگیا۔ وہ اقبال کے اجداد میں سے تھا۔
اٹھارھویں صدی کے آخر یا انیسویں صدی کے آغاز میں
شیخ جلال الدین، جو لول حاجی کی نسل سے ہیں، اپنے چار بیٹوں کے ساتھ سیالکوٹ ہجرت کرتے ہیں؛ان ہی چار بیٹوں میں سے ایک اقبال کے پردادا شیخ رفیق (المعروف فیقا) بھی ہیں
۱۸۳۷کے لگ بھگ
اقبال کے والد شیخ نور محمد، شیخ رفیق اور ان کی اہلیہ گجری کے گھر پیدا ہوئے۔ ان سے پہلے ان کی دس اولادیں ہوئیں مگر کوئی بھی زندہ نہ رہ سکا، یہ گیارھویں بیٹے تھے مگر زندہ رہ جانے والوں میں سے پہلے۔
۱۸۵۷کے لگ بھگ
شیخ نور محمد کی شادی امام بی بی سے ہوئی، جو سمبڑیال میں رہنے والے ایک کشمیری خاندان سے تعلق رکھتی تھیں
۱۸۵۹
عطا محمد، شیخ نور محمد اور امام بی بی کے پہلے بیٹے کی ولادت ہوئی
۱۸۶۱
شیخ رفیق اور ان کا وسیع کنبہ اس مکان میں منتقل ہوتے ہیں جو بعد ازاں ’’اقبال منزل‘‘ کے نام سے مشہور ہوا
۱۸۶۵کے لگ بھگ
شیخ نور محمد سیالکوٹ کے اے سی سی کے ساتھ ایک نوکری حاصل کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اور پھر ٹوپیاں بنانے اور فروخت کرنے کا اپناکاروبار شروع کرتے ہیں، جو کہ مرداور خواتین دونوںکے لیے قابلِ استعمال ہیں
۱۸۷۰
۶ستمبر، نور محمد اور امام بی بی کے گھر طالع بی بی کی ولادت ہوئی؛یہ ان کی دوسری صاحبزادی ہیں (پہلی فاطمہ بی بی ہیں، جن کی تاریخِ پیدائش معلوم نہیں)
۱۸۷۳کے لگ بھگ
شیخ نور محمد اور امام بی بی کے دوسرے بیٹے کی ولادت ہوئی جو طفولیت ہی میں فوت ہوگیا۔ شیخ رفیق اور ان کے چھوٹے بیٹے کولرا کی وبا کا شکار ہوگئے، جن کے خاندان کی دیکھ بھال اب شیخ نور محمد کے ذمہ ہوگئی
۱۸۷۷
۹و نومبر کو اقبال کی ولادت ہوئی (بروز جمعہ، ۳ذی القعدہ، ۱۲۹۴ہجری)
۱۸۷۹کے لگ بھگ
نومولود اقبال اپنی بینائی کھوبیٹھے جب ایک روایتی علاج کے لیے پر انھیں جونکیں لگوائی گئیں
۱۸۸۰کے لگ بھگ
شیخ عطا محمد کی شادی ہوئی۔ انھیں فوج میں سول ورکس میں ملازمت مل گئی؛اقبال کی چھوٹی بہن کریم بی بی کی ولادت ہوئی
۱۸۸۲
اقبال نے مولوی عمر شاہ (وفات۔ ۱۹۲۵) کے مدرسہ میں اپنی ابتدائی تعلیم شروع کی
۱۸۸۳
اقبال مولوی غلام حسن کے مدرسہ میں داخل ہوئے، مولوی عمر شاہ کے تدریس سے کنارہ کش ہوجانے کے بعد؛اقبال کی سب سے چھوٹی بہن زینب بی بی کی ولادت ہوتی ہے؛ایک خاندانی دوست اور آزاد خیال ماہرِ تعلیم سید میر حسن نے شیخ نور محمد کوراضی کرلیا کہ وہ اقبال کو جدید تعلیم کے لیے اسکاچ مشن اسکول میں داخل کردیں
۱۸۸۵
اقبال نے ۸اپریل کو فرسٹ گریڈ پاس کیا، جس میں انھوں نے پوری کلاس میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے
۱۸۸۸
اقبال نے اپر پرائمری امتحان (۵واں گریڈ) پاس کیا
۱۸۹۱
اقبال نے فروری میں تھرڈ مڈل (۸واں گریڈ) پاس کیا
۱۸۹۳
اقبال نے میٹرک پاس کیا (۱۰واں گریڈ) جس دن ان کی شادی کریم بی بی سے ہوئی، جو ان سے عمر میں کچھ بڑی تھیںاور گجرات (پنجاب) کے ایک کھاتے پیتے کشمیری خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ اسکاچ مشن کالج میں داخل ہوئے؛اس وقت تک ان کی ابتدائی معلوم نظمیں مقبول رسائل میںشائع ہونا شروع ہوگئی تھیں اور وہ داغ دہلوی سے خط وکتابت کے ذریعہ اصلاح لیا کرتے تھے
۱۸۹۵
اقبال نے اپریل میں ایف۔ اے کا امتحان پاس کیا (ہائی اسکول، یا ۱۲واں گریڈ) سیکنڈ ڈویژن میں (۵۷۰میں سے ۲۷۶نمبروں کے ساتھ) ؛ گورنمنٹ کالج لاہور میں بی اے میں داخلہ لیا، جہاں ان کے مضامین فلسفہ، انگریزی ادب اور عربی ہیں، اور لاہور منتقل ہوگئے (بعد ازاں کالج ہوسٹل میں ہی رہائش اختیار کرلی)
۱۸۹۶
اقبال کی پہلی صاحبزادی معراج بانو کی ولادت ہوئی؛فروری میں انجمنِ کشمیری مسلمانان کے نام سے ایک فلاحی انجمن کی تشکیل عمل میں آئی جو لاہور کے کشمیری مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے قائم ہوئی۔ اقبال اس کے بانی اراکین میں سے ہیں اوراس موقع پر کشمیر سے متعلق نظموں کے کئی بند پڑھ کر سناتے ہیں؛نومبر میںبازارِ حکیماں (لاہور) کے ایک مشاعرے میں ایک شاعر کی حیثیت سے متعارف ہوتے ہیں
۱۸۹۷
اقبال نے بی اے سیکنڈ ڈویژن میں پاس کیا، اور انگریزی ادب اور عربی کے مضامین میں پہلی پوزیشن حاصل کی (میڈلز اور ڈگری اگلے سال جنوری میں پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے تقسیم کیے گئے)
۱۸۹۸
ٹامس آرنلڈ (بعد ازاں سرٹامس) ایم۔ اے۔ او کالج (علی گڑھ) سے گورنمنٹ کالج (لاہور) منتقل ہوئے؛اقبال ایم۔ اے فلسفہ میں ان کے واحد شاگرد تھے؛اقبال پہلی مرتبہ میں ایک بار یقینا فیل ہوئے ہوں گے (یا پھر انھوںنے امتحان ہی نہیں دیا ہوگا) ؛اقبال کے پہلے بیٹے، آفتاب کی ولادت
۱۸۹۸
دسمبر میں وہ لا کے امتحان میں بیٹھے، مگر جب اگلے مہینے نتیجہ کا اعلان ہوا تو وہ فقہ کے مضمون میں فیل قراردیے گئے
۱۸۹۹
اپریل میںایم۔ اے (فلسفہ) میں تیسری ڈویژن اور ایک میڈل حاصل کیا، کیونکہ وہ مضمون کے واحد امیدوار تھے؛انھوں نے اورینٹل کالج میں مکلائڈ عربک ریڈر کے اسامی میں لیے پہلے ہی سے درخواست دے رکھی تھی، جہاں ٹامس آرنلڈ قائم مقام پرنسپل کے طور پر جانے والے تھے؛اقبال نے ۵مئی سے اپنے فرائض کا آغاز کیا، یہاں ان کی تنخواہ ۷۴روپے سالانہ یعنی ۱۴روپے ماہوار تھی؛بعد میں، اس ادارے کے لیے انھوں نے مختلف وقفوں کے دوران خدمات انجام دیں:مئی ۱۸۹۹سے دسمبر ۱۹۰۰تک، جولائی ۱۹۰۱ سے ستمبر۱۹۰۲، نومبر۱۹۰۲سے مئی ۱۹۰۳؛بھاٹی گیٹ کے نواح میں کرائے پر ایک گھر حاصل کیا؛جولائی میںوہ انجمنِ حمایتِ اسلام کی انتظامیہ میں شامل ہوئے، جو کہ لاہور کے مسلمانوں کی امداد کے لیے قائم کی گئی تھی، خاص طور پر بیوائوں اور یتیموں کی امداد کے لیے
۱۹۰۰
اقبال نے ۲۴ فروری کو ہونے والے انجمنِ حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسہ میں اپنی نظم’نالۂ یتیم‘سنا کربے پناہ شہرت حاصل کی؛کلاسز لیے بغیر لا کے امتحان میں دوبارہ بیٹھنے کی ان کی درخواست۲۱جون کو ایک بار پھر مستردہوگئی؛ان کا پہلا معلوم مقالہ، ’وحدتِ مطلق کا تصور‘ (The Concept of Absolute Unity) (جو کہ مارچ میں مکمل ہوا تھا) The Indian Antiquary کے شمارہ ستمبر میں شائع ہوا
۱۹۰۱
اقبال جنوری میں گورنمنٹ کالج کے شعبۂ فلسفہ میں عارضی طور پر اسسٹنٹ پروفیسر مقرر ہوئے، ان کی تنخواہ ۲۰۰روپے ماہوار تھی؛بعد میں، یہی عارضی پوزیشن انھوں نے اکتوبرمیں دوبارہ اختیار کی (شعبۂ انگریزی میں) اور پھر جون ۱۹۰۳سے ۱۹۰۸میں اپنے استعفیٰ تک (جو کہ ستمبر۱۹۰۵سے شروع ہونے والی ایک طویل رخصت کے اختتام پر انھوںنے دیا تھا) ؛ملکہ وکٹوریہ کے لیے ایک قصیدہ لکھا؛فروری میں انجمنِ حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسہ میں ’یتیم کا خطاب، ہلالِ عید سے‘کے عنوان سے نظم پڑھی اور عارضی طور پرجولائی تک اسلامیہ کالج (جس کا قیام انجمنِ حمایتِ اسلام کا کارنامہ تھا) میں انگریزی ادب پڑھانے کی خدمت انجام دی؛ مخزن کے پہلے ایڈیشن میں اپنی نظم’ہمالہ‘کے شائع ہونے کے بعد ایک وسیع پیمانے پر مقبولیت حاصل کی، یہ رسالہ رومانوی مزاج لیے ہوئے ایک ادبی رسالہ تھاجو کہ بہت جلد اقبال کی نظموں کی اشاعت کا بنیادی ذریعہ بن گیا؛ستمبر کے قریب وہ ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کی اسامی کے لیے پبلک سروس کے امتحان میں بیٹھے اور طبیّ بنیادوں پر مسترد ہوگئے (غالباً دائیں آنکھ کی بینائی سے معذوری کی وجہ سے)
۱۹۰۲
فروری میں اقبال نے انجمنِ حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسہ میں قدرے معمولی نوعیت کی کچھ نظمیں پڑھیں
۱۹۰۳
اقبال کو ایک مغنیہ امیر بیگم سے دلچسپی پیدا ہوئی، جو کم ازکم ایک سال جاری رہی؛’ابرِ گلبہار‘، جو کہ مارچ میں انجمنِ حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسہ میں پڑھی گئی، اب تک کی نظموں میں سے ان کی سب سے مقبول نظم ثابت ہوئی (گوکہ بعد ازاں، اپنے مجموعے’ بانگِ درا‘ میں انھوںنے اس نظم کا صرف ایک بند شامل کیا) ؛گرمیوں کے دوران عطامحمد مالی بدعنوانی کے الزام کے تحت گرفتار ہوئے اور اقبال ان کو چھڑوانے کوئٹہ گئے
۱۹۰۴
فروری میں ٹامس آرنلڈ برطانیہ کے لیے روانہ ہوئے، اور اگلے ماہ گورنمنٹ کالج میں اقبال کی ملازمت مستقل ہوگئی، ان کی تنخواہ میں ۵۰ روپے کا اضافہ کیا گیا؛انھوںنے انجمنِ حمایتِ اسلام کے جلسہ میں ’تصویرِ درد‘پڑھی، جس کو بہت سالوں بعداپنے مجموعے’ بانگِ درا‘ میں شامل کرتے ہوئے انھوں نے اس قسم کی نظموں میں پہلے نمبر پر رکھا؛ایبٹ آباد میں اپنے بھائی عطا محمد سے ملنے گئے اور وہاں ’قومی زندگی‘کے عنوان سے ایک لیکچر دیا؛لاہور واپس آنے کے فوراً بعد انھوں نے ’ترانۂ ہندی‘ (سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا) لکھا، جس کو راتوں رات شہرت حاصل ہوگئی

تشکیلی دور:۱۹۰۵سے ۱۹۱۳


۱۹۰۵
۲ستمبر، اقبال بیرونِ ملک حصولِ تعلیم کی غرض سے لاہور سے روانہ ہوگئے؛راستے میں دہلی رکتے ہوئے، وہ بمبئی سے ایک سٹیمر میں سوارہوئے اور ۲۴کوڈوور پہنچے؛ یکم اکتوبر، ٹرنٹی کالج (کیمبرج) میں بی اے کے لیے ایڈوانس اسٹوڈنٹ کی حیثیت سے داخلہ لیا اور ۲۱اکتوبر کو اسی جامعہ سے میٹرک کا سارٹیفیکیٹ لیا؛۲نومبر کو لنکنز اِن (لندن) میں بارایٹ لا کے لیے داخلہ لیا۔
۱۹۰۶
اگست۔ ستمبر، شیخ (بعدازاں سر) عبدالقادر اور مشیر حسین قدوائی نے استنبول کا دورہ کیا؛جدیدیت کی کشمکش کے دور میں ترکی کے بارے میں ان لوگوں کے آنکھوں دیکھے بیان نے یقینا اقبال کے ذہن پر گہرا اثر چھوڑا ہوگا۔
۱۹۰۷
۷مارچ، ’ایران میں مابعدالطبیعات کا ارتقائ‘بی ایک کے مقالے کے طور پر جمع کروایا (جس پر انھیں یہ ڈگری بعد ازاں ۱۳جون کو دی گئی) ؛یکم اپریل، ان کی لندن میں عطیہ فیضی سے ملاقات ہوئی؛جولائی (۲۰کے لگ بھگ)، وہ جرمنی پہنچے اور میونخ یونیورسٹی میں جمع کروائے گئے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کے زبانی امتحان کی تیاری کے لیے ہائیڈل برگ میں ٹھہرے؛ایما ویگانیسٹ سے ملاقات ہوئی اور ان کے درمیان دوستانہ تعلقات استوار ہوگئے؛نومبر (پہلا ہفتہ)، میونخ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد لندن واپس آگئے؛لندن یونیورسٹی میں اسکول آف اوریینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز میں ٹامس آرنلڈ کی غیر موجودگی میں ان کی جگہ عارضی طور پر عربی پڑھائی۔
۱۹۰۸
’ایران میں مابعدالطبیعات کا ارتقائ‘، لیوزک اینڈ کمپنی (لندن) نے شائع کیا؛۲۲جنوری، گورنمنٹ کالج (لاہور) میں اپنے اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے سے استعفیٰ ڈاک کے ذریعے بھجوایا؛فروری، کیکسٹن ہال (لندن) میں پان اسلامک سوسائٹی کے تحت’مسلم تصوف‘پر ایک لیکچر دیا؛مئی، آل انڈیا مسلم لیگ (لندن برانچ) میں شمولیت اختیار کی؛یکم جولائی، بار ایٹ لنکنز اِن میں حاضری دی؛۳جولائی، ہندوستان کے لیے روانہ ہوئے اور لاہور پہنچنے سے پہلے راستے میں ۲۶تاریخ کو سسلی پر ایک نظم لکھی؛اکتوبر، لاہور کے چیف کورٹ میں پریکٹس کے لیے درخواست دی (جو ۲۰تاریخ کو منظور ہوگئی) اور اپنا آفس سیٹ کیا؛ان کا مضمون ’اسلام میں سیاسی فکر‘ سوشیولوجیکل ریویو (لندن) میں شائع ہوا؛
۲۷تا۲۹دسمبر، امرتسر میں محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے سالانہ جلسہ میں شرکت کی اور کشمیری مسلمانوں کے ایک وفد میں شامل ہوکر نواب سلیم اللہ خان سے ملے۔
۱۹۰۹
انجمنِ حمایت ِ اسلام (لاہور) کی سرگرمیوں میں اپنی عملی شمولیت دوبارہ شروع کی؛۶جنوری، نوتشکیل شدہ ’’انجمنِ کشمیری مسلمانان‘‘ کے جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے؛۱۰اپریل، انجمنِ حمایتِ اسلام، لاہور کے سالانہ جلسہ میں اپنا مضمون ’اسلام بہ حیثیت اخلاقی و سیاسی تصور‘، پڑھا (یہ مضمون بعد میں، اسی ماہ، دی آبزورمیں شائع ہوا) ؛مئی، نہ چاہتے ہوئے بھی گورنمنٹ کالج (لاہور) میں فلسفہ پڑھانے پر راضی ہوئے، سیکریٹری اسٹیٹ کی جانب سے کیے گئے خاص انتظام کے تحت (کورٹس کو یہ ہدایت نامہ دیا گیا کہ وہ اقبال کے کیسزکی سماعت صبح میں ان کی کلاسز کے بعدکریں؛اقبال نے ۱۲اکتوبرکوکلاسز لینا شروع کیا اور اگلے سال کے آخر تک جاری رکھا) ؛اسی سال اقبال نے انڈین کیسز لا رپورٹس کی مجلسِ ادارت میں بھی شمولیت اختیار کی، جوکہ لاہور سے جاری ہونے والا ایک قانونی جریدہ تھا۔
۱۹۱۰
۲مارچ، پنجاب یونیورسٹی میں فیلو منتخب ہوئے؛یونیورسٹی سے دس دن کی رخصت پر (۱۸تا۲۷مارچ) انھوں نے حیدرآباد (دکن) کا دورہ کیا؛اپنی نوٹ بک Stray Reflections (شذراتِ فکرِ اقبال) لکھنا شروع کی؛دسمبر، گورنمنٹ کالج (لاہور) میں اپنا آخری لیکچر رابرٹ براؤننگ کی شاعری پر دیا؛سردار بیگم سے نکاح ہوا، مگر رخصتی ملتوی ہوگئی؛’مسلم برادری ۔ ایک سماجی مطالعہ کے نام سے ایک مضمون محمڈن اینگلو ۔ اوریینٹل کالج (علی گڑھ) میں پڑھا۔
۱۹۱۱
اپریل، انجمنِ حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسہ میں’شکوہ‘پڑھ کر سنائی؛دسمبر، دہلی میں محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے سالانہ جلسہ کی صدارت کی، جہاں انھیں شبلی نعمانی کے بدست تمام مسلمانانِ ہند کی جانب سے پھولوں کا ہار بھی پیش کیا گیا
۱۹۱۲
فروری، نظم’شمع اور شاعر‘لکھی (جو بعدازاں ۱۶اپریل کوانجنِ حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسہ میں پڑھی گئی) ؛۳۰نومبر، نظم’جوابِ شکوہ‘جنگِ بلقان (۱۹۱۲) میں ترکوں کی مدد کے لیے چندہ جمع کرنے کے مقصد سے ہونے والے جلسہ میں پڑھی
۱۹۱۳
جالندھرسے تعلق رکھنے والی مختاربیگم سے شادی ہوئی اور سردار بیگم کے ہمراہ، جن کے ساتھ ان کا نکاح ہواتھا، رخصتی بھی عمل میں آئی؛۷ستمبر، مسجد کے مسئلہ پر احتجاج کرنے پر گرفتار ہونے والوں کو رہا کروانے کے لیے کمشنر سے ملنے ایک دن کے لیے کانپور گئے؛واپسی میں اکبر الہ آبادی اور حکیم اجمل خاں سے ملاقات کی۔

درمیانی دور:۱۹۱۴ء سے ۱۹۲۲ء


۱۹۱۴
انجمنِ حمایتِ اسلام (لاہور) کے سالانہ جلسہ میں اپنی نامکمل فارسی مثنوی ’اسرارِ خودی‘کے کچھ حصہ پڑھ کر سنائے؛ ۹نومبر، والدہ امام بی بی وفات پاگئیں اور ان کے بعد ۱۷نومبر کی اقبال کی بیٹی معراج بانو بھی انتقال کرگئیں
۱۹۱۵
۱۲ستمبر، فارسی کی طویل نظم (مثنوی) ’اسرارِ خودی‘شائع ہوئی
۱۹۱۶
۸جولائی، ریکارڈ کے مطابق اقبال کو اپنی زندگی میں پہلی بار دردِ گردہ کی شکایت ہوئی
۱۹۱۷
۲۸جولائی، لکھنو سے شائع ہونے والے ایک جریدے دی نیوایرا میں اقبال کامضمون’اسلام اور تصوف‘شائع ہوا (اگلے چند ہفتوں کے دوران اس رسالے میں اقبال کے دیگر مضامین جو شائع ہوئے ان میں ’مسلم جمہوریت‘، ’اپنی ہم عصر شاعری پر ہمارے رسولؐ کی تنقید‘، ’لسان العصر اکبر کی شاعری میں ہیگلینزم کارنگ‘، اور ’نیٹشا اور جلال الدین رومی‘شامل ہیں۔
۱۹۱۸
طویل فارسی نظم ’رموزِ بیخودی‘شائع ہوئی؛جون، اسرارِ خودی کادوسرا ایڈیشن بہت سی اہم تبدیلیوں کے ساتھ شائع ہوا
۱۹۱۹
پنجاب یونیورسٹی میں اوریینٹل فیکلٹی کے ڈین مقررکئے گئے؛۱۴دسمبر، انجمنِ حمایتِ اسلام کے جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے؛اسی ماہ انھوں نے خلافت کانفرنس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے امرتسر میں ہونے والے مشترکہ جلسہ میں شرکت کی (دیگر شرکا میں حکیم اجمل خان، ایم ۔ کے۔ گاندھی اور علی برادران شامل ہیں۔۔۔اقبال کی نظم ’قید‘میں آخر الذکر کو مخاطب کیا گیا ہے)
۱۹۲۰
Secret of the Self کے عنوان سے آر۔ اے۔ نکلسن نے ’اسرارِخودی‘کا ترجمہ کرکے میکملن ناشران (لندن) سے شائع کروایا
۱۹۲۱
جون۔ جولائی، ایک کیس کے سلسلے میں چودہ دن کے لیے پہلی بار کشمیر کا دورہ کیا
۱۹۲۲
۱۶اپریل، نظم’خضرِ راہ‘انجمنِ حمایتِ اسلام (لاہور) کے سالانہ جلسہ میں پڑھ کر سنائی

دَورِ عروج:۱۹۲۲تا۱۹۳۰


۱۹۲۲
یکم جنوری، اقبال کو سر کا خطاب ملا؛نظم’طلوعِ اسلام‘انجمنِ حمایتِ اسلام (لاہور) کے سالانہ جلسہ میں پڑھ کر سنائی؛یکم مئی، فارسی نظموں کا مجموعہ پیامِ مشرق شائع ہوا
۱۹۲۴
ستمبر، اردو نظموں کا پہلا مجموعہ ’بانگِ درا‘شائع ہوا؛۵اکتوبر، سردار بیگم کے ہاںاقبال کے چھوٹے بیٹے جاوید کی ولادت ہوئی؛دوسری بیوی مختار بیگم اسی ماہ کی ۲۱ کو بچے کی ولادت کے دوران انتقال کرگئی؛لوئر سیکنڈری کلاسزکے لیے حکیم احمد شجاع کے ساتھ مل کر اردو کا کورس ترتیب دیا
۱۹۲۵
اسلامیہ کالج میں ہونے والے ایک اجتماع میں’اسلام میں اجتہاد‘کے موضوع پر ایک مضمون پیش کیا؛ترکی شاعر ضیا گوکلپ کے اشعار پڑھ کر سنائے
۱۹۲۶
دسمبر، پنجاب کی قانون ساز اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے
۱۹۲۷
۱۰مارچ، پنجاب کی قانون ساز اسمبلی میں تعلیم کے موضوع پر خطاب کیا؛۱۶اپریل، ’مسلم ثقافت کی روح‘کے عنوان سے ایک مضمون انجمنِ حمایتِ اسلام (لاہور) کے سالانہ جلسہ میں پڑھا؛جون، فارسی مجموعۂ کلام’زبورِ عجم‘شائع ہوا؛جولائی، پنجاب کی قانون ساز اسمبلی سے ایک خطاب میں پبلک سروسز میں قابلیت کی بنیاد پر تقرری کی حمایت کی؛نومبر، آل انڈیا مسلم لیگ میں مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخابات کے موضوع پر تنازعہ کے نتیجے میں سر شفیع اور جناح کی سرکردگی میں بننے والے دو گروپوں میں سے سرشفیع والے گروپ میں شمولیت اختیار کی جو جداگانہ انتخابات کے حق میں تھا، اور جناح اس کی مخالفت میں۔
۱۹۲۸
۲۲فروری، پنجاب کی قانون ساز اسمبلی میں ایک خطاب کے دوران زرعی ٹیکسوں کے مروّجہ طریقوں میں پوشیدہ نا انصافیوں کی مخالفت؛
۱۸اپریل، مسلم فلسفہ پر ایک مضمون انجمنِ حمایتِ اسلام (لاہور) کے سالانہ جلسہ میں پڑھا؛مئی، حکیم نابینا سے گردوں کا علاج کروانے دہلی گئے؛۳۱دسمبر، ’اسلامی فکر کی تشکیل ِ جدید‘پر لیکچر دینے جنوبی ہندوستان تشریف لے گئے۔
۱۹۲۹
یکم جنوری، دہلی میں آل انڈیا مسلم کانفرنس میں شرکت کی؛۱۹تک وہ مدراس، بنگلور اور حیدرآباد (دکن) کادورہ کرتے رہے جہاں انھوں نے تین لیکچرز دیے جن کے عنوانات یہ ہیں:’علم اور مذہبی تجربہ‘، ’مذہبی تجربہ کے نزول کی فلسفیانہ جانچ‘اور ’تصورِ خدا اور عبادت کے معنی‘اور حیدرآباد (دکن) کے اس وقت کے حکمراںنظام سے ملاقات بھی کی؛ ۱۴اپریل، قرآن کے مزید گہرے مطالعہ کی ضرورت پر ایک لیکچر دیا، ایک مضمون ’مسلم سائنسدانوں کے گہرے مطالعہ کی استدعا‘کے عنوان سے حیدرآباد (دکن) کے ایک رسالے اسلامی ثقافت میں اسی ماہ شائع ہوا؛مئی، لاہور ہائی کورٹ (جوپہلے چیف کورٹ تھی) میں جسٹس کے عہدے کے لیے داخل ان کے نام کو مسترد کردیا گیا؛۱۹نومبر، علی گڑھ میں ایک لیکچر دیا جہاں انھیں ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری بھی دی گئی
۱۹۳۰
چھوٹی صاحبزادی منیرہ بانو کی ولادت ہوئی؛مئی، ’اسلامی فکر کی تشکیلِ جدید‘پر دیے گئے چھ لیکچرز لاہور سے شائع ہوئے؛۱۷اگست، والد شیخ نورمحمدسیالکوٹ میں وفات پاگئے؛۲۹دسمبر، الہٰ آباد میں ہونے والے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ جلسہ کی صدارت کی، جس میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ ہندوستان کے شمال مغربی صوبے، جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، انھیں آپس میں ضم کردیا جائے تاکہ خطّہ میں طاقت کا توازن رہے اور ساتھ ہی ساتھ اسلامی فکر کی نشاۃِ ثانیہ کا موقع بھی مل سکے

اختتامی دور:۱۹۳۱تا۱۹۳۸


۱۹۳۱
اپریل، آل انڈیا مسلم کانفرنس میں شرکت کی؛
۱۰مئی، بھوپال میں ہندوستان بھر کے مسلم رہنماؤںکی ایک میٹنگ میں شرکت کی (جو کہ ریاست کے نواب حمید اللہ خاں نے بلوائی تھی تاکہ مشترکہ اور جداگانہ انتخابات کے تنازعہ پرایک اتفاقِ رائے استوار کیا جاسکے )
۱۴اگست، وادیٔ کشمیر کی احتجاجی تحریک کی حمایت کے طور پر پنجاب میں یومِ کشمیر منایا گیا (اقبال اس کے محرک میں سے تھے)
۸ستمبر، دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے، راستے میں دہلی (۹تاریخ) اور بمبئی (۱۰تا۱۲تاریخ) میں رکتے ہوئے؛یکم نومبر، اس کانفرنس کے دوران’اقلیتی پیکٹ‘ تشکیل پایا؛ ۱۶نومبر، اقبال نے کانفرنس سے علیحدگی اختیار کرلی؛۲۰نومبر، سیکریٹری اسٹیٹ کو کانفرنس چھوڑ کر جانے کے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا؛۲۱نومبر، اٹلی کے لیے روانہ ہوئے جہاں انھوں نے ۲۲تا ۲۹ تک قیام کیا؛ ۲۵نومبر، افغانستان کے معزول بادشاہ امیر امان اللہ سے ملاقات کی، جن کے نام انھوں نے نے پیامِ مشرق کا انتساب بھی کیا تھا؛ ۲۶نومبر، رائل اکیڈمی، روم میں ایک لیکچر دیا؛ ۲۷نومبر، مسولینی سے ملاقات کی؛
یکم تا ۴دسمبر، دورۂ مصر؛۵، اسلامی کانفرنس میں شرکت کے لیے ٹرین کے ذریعہ فلسطین پہنچے؛ ۶دسمبر، یروشلم کا دورہ کیا؛ ۵تا۱۵دسمبر، انھوں نے فلسطین میں قیام کیا؛ ۱۵ تا ۱۷ دسمبر، پورٹ سعید پر جہاز کا انتظاز کیا؛ ۳۰ دسمبر، بمبئی (۲۸دسمبر) اور دہلی (۲۹دسمبر) ہوتے ہوئے واپس لاہور پہنچے۔
۱۹۳۲
فروری، جاوید نامہ شائع ہوا
۶ مارچ، اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے زیرِ اہتمام پہلا یومِ اقبال منایا گیا؛۲۱ مارچ، آل انڈیا مسلم کانفرنس (لاہور) کی صدارت کی اور خطاب کیا
۲۵ جولائی، سکھوں کے مطالبات پر اقبال کا بیان شائع ہوا، جس میں انھوں نے سکھوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے فرقہ ورانہ مسئلہ کو ہندوستان کی آئینی ترقی کے وسیع تر تناظر میں دیکھیں؛
۲۴ اگست، وزیرِ اعظم کے کمیونل ایوارڈز (۱۹اگست) پر اقبال کا ایک بیان شائع ہوا؛
۱۷اکتوبر، ادارۂ معارف ِاسلامیہ کے قیام کا اعلان کیا گیا (اقبال اس کے بانیوں میں سے تھے)؛ اقبال تیسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے، بمبئی (۱۹تا۲۲) رُکتے ہوئے؛
۱۲نومبر، لندن پہنچے؛ ۱۷نومبر، کانفرنس کا پہلا اجلاس؛ ۲۴نومبر، نیشنل لیگ (لندن) کی جانب سے استقبالیہ دیا گیا؛
۲۰ دسمبر، لندن سے پیرس کے لیے روانہ ہوئے، پیرس میں برگساں سے ملاقات کی
۱۹۳۳
جنوری، اسپین پہنچے؛قرطبہ، غرناطہ، سیوائل، میڈرڈ اور دوسری جگہوں کا دورہ کیا؛ ۲۴جنوری، ’اسپین اور اسلامی دنیائے فکر‘کے عنوان سے میڈرڈ یونیورسٹی میں ایک لیکچر دیا؛ ۲۶ جنوری، پیرس واپس پہنچے
۱۰فروری، وینس سے ہندوستان جانے والے جہاز پر سوار ہوئے؛ ۲۲فروری، بمبئی پہنچے؛ ۲۷فروری، لاہور واپس پہنچے
یکم مارچ، جامعہ ملیہّ کالج، دہلی میں اتاترک کے جانثار ساتھی غازی رؤف پاشا کی جانب سے دیے گئے ایک سیرِ حاصل لیکچر کی صدارت کی
۲۰ جون، آل انڈیا کشمیر کمیٹی سے استعفیٰ دیا
۲۰ اکتوبر تا ۳ نومبر، افغانستان کے بادشاہ نادر شاہ کی درخواست پر افغانستان کا دورہ کیا، تاکہ وہاں کی تعلیمی اصلاحات کے سلسلے میں تجاویز دے سکیں (سرراس مسعود اور سید سلیمان ندوی کو بھی مدعو کیا گیا تھا)
۴ دسمبر، پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری پیش کی گئی
۱۹۳۴
۱۰ جنوری، عید کے دن سویّوں کے ساتھ دہی کھانے سے سخت بیمار پڑگئے (بعد ازاں اسی بیماری میں ان کا انتقال ہوا)
مئی، آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے روڈز لیکچرزکی دعوت دی گئی (اقبال نے ’مسلم فکر میں تصورِ زمان ومکاں‘کا موضوع منتخب کیا مگر یونیورسٹی اس پر رضا مند نہیں ہوئی اور پھر وہ اپنی طویل بیماری کی وجہ سے یہ لیکچرز کبھی نہ دے سکے)
۲۹ جولائی، اپنے بیٹے جاوید کے ہمراہ سرہند تشریف لے گئے (جو کہ اس وقت تقریباً دس سال کے تھے)
یکم جولائی، انجمنِ حمایتِ اسلام کے صدر مقرر ہوئے؛
نومبر، ’مسافر‘ (افغانستان کا منظوم سفر نامہ) شائع ہوا؛نئی رہائش گاہ ’جاوید منزل‘کی تعمیر شروع ہوئی؛۱۷تا۲۵نومبر، ایک لیکچر دینے علی گڑھ تشریف لے گئے؛
۱۳ دسمبر، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی جانب سے ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی گئی۔
۱۹۳۵
جنوری، بالِ جبریل شائع ہوئی؛ ۳۰ جنوری، جامعہ ملّیہ کالج، دہلی میں اتاترک کی جانثار ساتھی خالدہ ادیب خانم کے سیرِ حاصل لیکچر کی صدارت کی؛
۳۱ تا اپریل تا ۷ مارچ، بھوپال میں حمیدیہ ہسپتال میں الیکٹروتھراپی کے لیے گئے؛ ۸ مارچ، بھوپال سے واپسی پر دہلی میں حکیم نابینا سے مشورہ کرنے رُکے؛ ۹ مارچ، روزمامہ’احسان‘لاہور میں شائع ہونے والے حسین احمد مدنی کے قومیت کے موضوع پر دیے گئے بیان کا جواب شائع کروایا؛ ۱۰ مارچ، لاہور واپس آگئے؛
اپریل، جاوید منزل کی تعمیر مکمل ہوگئی؛
۱۴ مئی، ’قادیانیت اور قدامت پسند مسلمان‘کے عنوان سے ایک مضمون ’دی اسیٹسمین‘کلکتہ میں شائع ہوا، گورنر پنجاب کی مسلمانوں کو کی گئی تنبیہہ کے جواب کے طور پر (اقبال کے بیان نے مباحثوں کا ایک سلسلہ شروع کردیا)؛ ۲۰ مئی، جاوید منزل منتقل ہوگئے؛ ۲۴ مئی، سردار بیگم کا انتقال ہوگیا؛
یکم جون، بھوپال کے نواب حمید اللہ خاں کی جانب سے ۵۰۰ روپے ماہوار کا وظیفہ مقرر کیا گیا؛
۱۵ جولائی تا ۲۸ اگست، الیکٹروتھراپی کروانے دوبارہ بھوپال گئے،
۲۵ اکتوبر، پانی پت میں منائے جانے والے، حالی (۱۸۳۵ تا ۱۹۱۴) کے صد سالہ جشنِ ولادت میں شرکت کی۔
۱۹۳۶
جنوری، ’اسلام اور احمدیت‘روزنامہ ’اسلام‘لاہور، میں شائع ہوا جو کہ اقبال کے گزشتہ بیان پر جواہر لال نہرو کی تنقید کا جواب تھا؛
اپریل، جناح ان سے ملاقات کرنے جاوید منزل لاہور آئے؛پنجاب مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے اور پارٹی کے لیے ایک ایسے صوبائی پارلیمانی بورڈ کی تشکیل کے لیے کوششیں شروع کیں۔ جس کے ذریعے لیگ صوبے بھر کے مسلمانوں کو متحد کرسکے؛
۱۲ اپریل، اردو نظم’لااِلٰہ اِلاّ اللہ‘ (’’خودی کا سرِ نہاں۔۔۔‘‘) انجمنِ حمایتِ اسلام کے سالانہ اجلاس میں پڑھ کر سنائی، جو کہ عوام میں بزبانِ خود پڑھی جانے والی ان کی آخری نظم ثابت ہوئی؛
مئی، اردو میں اپنی آخری طویل نظم’ابلیس کی مجلسِ شوریٰ‘تحریر کی؛
جولائی، ضربِ کلیمشائع ہوئی؛۲۹جولائی، ڈھاکہ یونیورسٹی کی جانب سے ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی گئی
اکتوبر، پس چہ بآید کرد، ان کی آخری فارسی مثنوی، شائع ہوئی (دوماہ بعداس کے ساتھ پہلے سے شائع شدہ نظم’مسافر‘ بھی منسلک کردی گئی)
۱۹۳۷
اپریل، حکیم نابینا سے ایک بار پھر اپنی بیماری کے بارے میں مشورہ کیا جو اب بہت شدید نوعیت اختیار کرتی جارہی تھی، اور ان کی بینائی پر اثر انداز ہورہی تھی (آواز پہلے ہی بے حد مدھم ہوکر سرگوشی کی حد تک رہ گئی تھی) ؛
۱۳دسمبر، الٰہ آباد یونیورسٹی کی جانب سے ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی گئی
۱۹۳۸
یکم جنوری، آل انڈیا ریڈیو سے نئے سال پر ان کا پیغام نشرکیا گیا؛
یکم مارچ، عثمانیہ یونیورسٹی، حیدرآباد (دکن) کی جانب سے ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری دی گئی
۹مارچ، ان کا مضمون’اسلام اور قومیت پسندی کے موضوع پر‘احسان، لاہور میں شائع ہوا
۲۱اپریل، لاہور میں وفات پاگئے۔

اقبال اکادمی پاکستان