www.allamaiqbal.com
  bullet سرورق   bullet شخصیت bulletتصانیفِ اقبال bulletگیلری bulletکتب خانہ bulletہمارے بارے میں bulletرابطہ  

شخصیت
حیاتِ اقبال
سوانح
سنین کے آئينے میں
سوانحی مواد
کتابیات
اکثر پوچھے گئے سوالات

مقدمہ

خرم علی شفیق

جنازہ


اقبال کا انتقال لاہور میں ۲۱؍ اپریل ۱۹۳۸ء کو ہوا۔ لوگ دیوانہ وار اُن کے مکان پر جمع ہوگئے۔ اُن میں مسلمان بھی تھے اور ہندو اور سکھ بھی۔ اُن کی تدفین کے لیے اُن کے احباب نے بادشاہی مسجد کے صدر دروازے کی سیڑھیوں کی بائیں جانب ایک جگہ کا انتخاب کیا۔ یہ جگہ محکمہ آثارِ قدیمہ کی ملکیت تھی۔ اس کے لیے پنجاب کے وزیراعلیٰ سرسکندر حیات خان سے رابطہ کیا گیا جو اُس وقت سرکاری دورے پر کلکتہ میں تھے۔ انھوں نے یہ جگہ دینے سے انکار کردیا (حالانکہ چند سال کے بعد وہ خود مسجد کی سیڑھیوں کے دائیں جانب دفن ہوئے۔) بہرحال اِس موقع پر انگریز گورنر زیادہ مددگار ثابت ہوئے۔ دہلی سے منظوری آتے آتے شام ہوگئی۔
اُس وقت تک اخبارات نے اپنے اپنے خصوصی ضمیمے شائع کر دیے تھے۔ چنانچہ جب شام کو جنازہ اُٹھا تو کم از کم بیس ہزار ہوگ اُس میں شامل تھے۔ یتیم خانہ انجمن حمایتِ اسلام کے خاموش اور غمگین بچے، سڑک کے کنارے، قطار باندھے کھڑے تھے۔ اُن کے ہاتھوں میں سیاہ ماتمی جھنڈیاں تھیں۔ یادیں دِلوں میں تازہ ہوگئی جب اقبال اِن یتیم اور بے سہارا بچوں کے لیے چندہ جمع کرنے کی خاطر انجمن حمایتِ اسلام کے سالانہ اجلاس میں اپنی نظمیں ترنم سے پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔
نمازِ جنازہ دو دفعہ پڑھی گئی۔ ایک دفعہ اسلامیہ کالج کے گرائونڈ میں (جس میں تقریباً پچاس ہزار لوگوں نے نماز پڑھی اور دوسری دفعہ بادشاہی مسجد میں، جہاں وہ عید کی نماز ضرور پڑھا کرتے تھے۔ اُن کا جسدِ خاکی رات کو نو بج کر پینتالیس منٹ پر لحد میں اُتارا گیا۔
اقبال کا آخری مجموعۂ کلام فارسی میں تھا اور ابھی تک غیر مطبوعہ تھا۔ اِس مجموعے کا نام انھوں نے ارمغانِ حجاز رکھا تھا۔ یہ اُسی سال کے آخر میں شائع ہوا۔ اِس میں اُن کا آخری اُردو کلام بھی شامل تھا۔
اقبال کی وفات کو دوسال بھی نہ ہوئے تھے کہ مارچ ۱۹۴۰ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس اُن کے مزار کے قریب ہی منٹوپارک میں منعقد ہوا۔ اِس اجلاس میں ہندوستان کے شمال مغربی صوبوں پر مشتمل ایک نئی اسلامی ریاست قائم کرنے کی قرارداد منظور کی گئی۔ اس کے دوسال کے بعد قائداعظم نے اقبال کے خطوط شائع کیے جو اُن کے نام اقبال نے اپنے آخری ایام میں لکھے تھے۔ قائداعظم نے مسلم اکثریتی صوبوں اور نیز اقلیتی صوبوں میں مسلم لیگ کی حالیہ مقبولیت پر اقبال کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اِن الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا تھا: ''ہماری منزلِ مقصود کو قریب لانے میں، جو عوام سے اب تک اوجھل تھی، اقبال نے غیرمعمولی کردار ادا کیا تھا۔ ''
قائداعظم کے اِس بیان کو قوم پرستوں نے شک کی نظر سے دیکھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اقبال نے تو محض صوبوں کی ازسرِنوتشکیل کا منصوبہ پیش کیا تھا ۔ وہ کبھی ملک کی تقسیم کو منظور نہ کرتے کیونکہ وہ تو خود قوم پرست تھے۔ بہرحال، جناح کامیاب ہوئے اور پاکستان ہندوستان سے الگ ہوگیا، برطانیہ نے ۱۵ اگست۱۹۴۷ء کو ہندوستان کی آزادی کا دن مقررکیا۔ لیکن ہندو جیوتشیوں نے اس دن کو منحوس قرار دیالہٰذا نامزد وزیرِ اعظم جواہر لال نہرو نے پارلیمنٹ کاپہلا اجلاس ۱۴ اگست کو طلب کیا اور اجلاس کی کارووائی نصف شب تک جاری رکھی تاکہ وہ اعلانِ آزادی اپنی جوشیلی تقریر سے کرسکیں۔ اجلاس کے اختتام پر سُچِتراکرپلانی نے، جو بعد میں ایک بھارتی صوبہ کی پہلی خاتون وزیرِاعلیٰ بنیں، اقبال کا ''ترانہٌ ہندی' (''سارے جہاں سے اچھاہندوستان ہمارا'') اپنے قومی شاعر ٹیگور کے ترانے ''جن من گن''کے ساتھ گاکر سنایا۔
کراچی میں قائداعظم نے نئی اسلامی ریاست کا سبزپرچم لہرایا، جسے سرکاری طور پر تصورِ اقبال کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ آنے والی ہر حکومت نے پاکستان کو فکرِاقبال کا ثمر تسلیم کرتے ہوئے اقبال کو اپنے اپنے طریقے سے خراجِ تحسین پیش کیا۔


بحث

 

ہندوستان کی قومیت پسندی اور پاکستان کا دوقومی نظریہ ہی ایسے دو متنازعہ تصورات نہیں تھے جن پر اقبال کے نظریات منحصر ہونے کا دعویٰ کیا جاتا تھا بلکہ کچھ اور مسائل بھی تھے۔ مثلاً جنوبی ایشیا کے 'ترقی پسند'ادیبوں نے، جو عام طور پر مارکسی رجحان رکھتے تھے، ۱۹۳۶ء میں ایک انجمن تشکیل دی تھی۔ اقبال کی وفات پر ان کی تعزیتی تحریریں بھی اس بات کا اظہار ہیں کہ وہ خود کو اقبال کا ادبی جانشین سمجھتے تھے۔ اپنی بعد کی کچھ تحریروں میں فیض احمد فیض نے کہا ہے کہ اقبال اردو ادب میںاس اونچے طبقے کے مقابلے میں، جو کہ اس وقت زوال پذیر ہورہا تھا، ایک نئے متوسط طبقے کی نمایندگی کرتے ہیں۔ فیض نے کہا کہ یہ نیا طبقہ انگریزوں کی دی ہوئی جدید تعلیم سے روشناس ہوکر اُبھرا تھا مگر یہ حیرت کی بات ہے کہ اقبال کے سوا کسی اور شاعر نے اپنے علمی تجربے کو اپنی شاعری میں پیش نہیں کیا۔ ''خیالات کی شاعری اقبال کے ذریعے ہمارے عہد میں اپنے کمال کو پہنچی۔ ''انھوں اقبال کی وفات کے ایک سال بعد لکھا۔ ''اس کام کے لیے ایک عظیم شخصیت درکار ہوتی ہے۔ ''فیض صاحب نے اس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ خیالات کی شاعری بھی شاعر کی شخصیت کا اظہار ہوتی ہے۔

 

 

 

مزار


 

اقبال کے احباب جب اِن کا ایک شایانِ شان مزار تعمیر کرنے میں مصروف تھے، ایک ڈیزائن کو اس لیے مسترد کردیا گیا کہ اس میں کیتھولک اثر جھلکتا تھا۔ ایک اور ڈیزائن، جو کہ حیدرآباد دکن کے ایک آرکیٹیکٹ کی طرف سے آیا تھا، زیادہ مناسب لگا مگر وہ کچھ زیادہ ہی نفیس تھا۔ اس کے آرکیٹیکٹ زین یار جنگ کو لاہور بلایا گیا۔ اقبال کے ٹرسٹی چودھری محمد حسین اُن کو مزار پر لے گئے۔ ''دیکھیے نواب صاحب!'' انھوں نے کہا، ''ایک جانب مسجد ہے، جو مسلمانوں کی مذہبی عظمت کو ظاہر کرتی ہے؛دوسری جانب قلعہ ہے، جو ان کی دنیاوی قوت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے درمیان میں مقبرہ صرف تب ہی اچھا لگے گا جب یہ سادگی اور اس کے ساتھ ساتھ قوت کو ظاہر کرے۔ یہ اقبال کے اپنے مزاج کے بھی نمایاں پہلو تھے۔ ''
مقبرہ کی تعمیر ۱۹۴۶ء کے آخر میں شروع ہوئی اور یہ زین یارجنگ کے دوسرے نقشے کے مطابق تھی اور ۱۹۵۰ء میں مکمل ہوئی۔ فنڈز کے لیے کسی عوامی اپیل کی ضرورت نہیں پڑی ، اس سے پہلے ہی ان کے شیدائیوں کی طرف سے خاطر خواہ تعاون حاصل ہوگیا۔ افغانستان کی حکومت نے پلیٹ فارم، تعویز اور کتبہ کے لیے lapis lazuliکا عطیہ دیا۔ اس وقت ظاہر شاہ وہاں کے بادشاہ تھے اور اقبال نے شاہ کے روشن خیال باپ کی تخت حاصل کرنے کی جدوجہد کے لیے فنڈز جمع کیے تھے ، اس کی دعوت پر افغانستان کا دورہ کیا تھا اور اپنی نظموں میں اس کا تذکرہ بھی کیا تھا۔
''بزمِ اقبال'' اور ''اقبال اکادمی'، ان چند لوگوں کے سوا جنھوں نے مختلف ادوار میں اس کا انتظام سنبھالا، دونوں قابلِ تعریف ہیں کہ انھوں نے چھلنی کے طور پر کام کرنا منظور نہ کیا اور اقبال کی زندگی اور افکار کے بارے میں معلومات کو مرتّب کرنے اور شایع میں مصروف رہے۔ اقبالیات کی دنیا ان اداروں اور ان کے ساتھ ساتھ کئی پرائیویٹ پبلشرز، ادیبوں اور غیر پیشہ ور شائقین کی کوششوں کی ہمیشہ ممنونِ احسان رہے گی، جنھوں نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ ایسی نادربنیادی معلومات کو محفوظ کیا جو شاید وقت کے ساتھ ضایع ہوجاتی۔


آگہی


بیرونی ممالک میں ان کی قدر افزائی کا جو سلسلہ ان کی زندگی میں شروع ہو گیا تھا، وہ ان کے انتقال کے بعد بھی کم نہیں ہوا۔ انگلستان اور جرمنی میں ان کے نام پر یونیورسٹی چیئرز ہیں اور کئی دوسرے ممالک میں ان کے نام پر وظائف مقرر کیے گئے ہیں، جن میں امریکہ ، سوویت یونین اور افریقہ او رایشا کے کئی ممالک شامل ہیں۔
اقبال نے مسلم فکر کی تجدید و احیا کا خواب دیکھا تھا، مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کو ا س مکتبِ فکر میں شامل نہیں کیا گیا جو بیسویں صدی کے نصف ثانی میں روایت کی بحالی کے لیے اُٹھا ہے۔ ہمارے اپنے زمانے کے ان نمایاں ادیبوں کی تحریروں میں، جو بہت سے لوگوں کے لیے روشن خیال مسلم فکر کا نمونہ ہیں، ان کا کوئی تذکرہ ملنا بے حد مشکل ہے۔ مثلاً فرتھجوف شوان (شیخ عیسیٰ نورالدین احمد) ، گائے ایٹن (حسن عبدالحکیم) اور مارٹن لنگز (ابوبکر سراج الدین) ؛جبکہ سید حسین نصر ان کا حوالہ دیتے بھی ہیں تو اس چیز کی مثال کے طور پر کہ مسلم ذہن کو کیسے ’’نہیں‘‘ سوچنا چاہیے۔ وہ اپنی تصنیف Islam And the Plight of Modern Man (۱۹۷۴ئ) میں اقبال کو ایک شاعر اور ایک اعلیٰ پایے کے مفکر کے طور پر تو لائقِ احترام سمجھتے ہیں مگر ساتھ ہی اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیںکہ’’وہ اس رجحان کا مظاہرہ زیادہ علمی اور واضح انداز میں کرتے ہیں جو کئی ایسے جدید مسلم ادیبوں میں پایا جاتا ہے جنھوں نے نظریہ ارتقا کی خامیوں کا جواب دینے کی بجائے نہ صرف معذرت خواہانہ انداز میں اپنا پورا زور ا س کو مان لینے پر لگایا ہے، بلکہ اسلامی تعلیمات کی تشریح و تعبیر بھی اس کے مطابق کرنے کی کوشش کی ہے۔ ‘‘
یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ جہاں حسین نصر نے حافظ شیرازی پر اقبال کی تنقید کی مذمّت کی ہے، وہاں سعودی عرب کے بعض علما نے تصوف کی طرف اقبال کے ضرورت سے زیادہ جھکاؤ کو ناپسند کیا ہے۔ اپنی ابتدائی نظموں میں سے ایک میں اقبال نے کہاتھا:
کوئی کہتا ہے کہ اقبال ہے صوفی مشرب
کوئی سمجھا ہے کہ شیدائے حسیناں ہوں میں
زاہدِ تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلماں ہوں میں

اقبالیات کا ایک نیا دور


ہندوستان نے اقبال کا صد سالہ یومِ ولادت ۱۹۷۳ ء میںاور پاکستان نے ۱۹۷۷ء میں منایا (ان کی تاریخِ ولادت کے بارے میں مختلف آرا رکھنے کی وجہ سے) ۔ ان صد سالہ تقریبات کے ساتھ ہی ہمیں علم کے اس میدان کا پہلا دور ختم ہوتا نظر آتا ہے جو بنیادی طور پر ان کے ساتھیوں اور اور نوجوان ہم عصروں پر مشتمل رہا۔ یہ ان کے اپنے زمانے کے قریب کے لوگ تھے اور ان لوگوں نے ان کے خیالات کو رفتہ رفتہ واضح ہوتاہوا دیکھا تھا اس وجہ سے ان کے لیے اقبال کی زندگی اور فکر پر ہمہ جہت نظر ڈالنا بنیادی طور پر بے حد مشکل تھا۔ مگر اِن لوگوں کا کردار بھی اپنی جگہ بے حد اہم ہے… ان کے بغیر بنیادی ماخذ کا موجودہ ذخیرہ اتنا وسیع نہ ہوسکتا تھا جتنا کہ آج ہے۔ تاہم نئی ترتیب و تنظیم اور نئے جائزے کی ضرورت بہرحال تھی۔
چنانچہ اقبال شناسی کا ایک نیا دور شروع ہوا جس کے پیشروجاوید اقبال تھے اور یہ محض اتفاقی بات نہیں تھی۔ وہ اقبال کے چھوٹے فرزند تھے جن کا نام آنے والی نسلوں کے لیے ایک استعارے کے طور پر استعمال ہوتا رہا تھا۔ ۱۹۷۹ء سے ۱۹۸۴ء تک انھوں نے اپنے والدکی پہلی مستند سوانح حیات زندہ رود کے عنوان سے تین جلدوں میں شایع کی۔ ’’اقبال کی وفات پر میری عمر ساڑھے تیرہ برس تھی۔ ‘‘ پہلی جلد کے پیش لفظ میں انھوں نے لکھا، ’’اس لیے میں ان کے ہم عصر ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ البتہ اُن کے عہد سے دُوری کے سبب مجھے اپنے نقطۂ نگاہ یا اندازِ تحریر کو خارجی رکھنے میں آسانی محسوس ہوئی ہے۔ ‘‘ اُسی فکری انکساری کے ساتھ جو اُن کے والد کا خاصہ تھا، انھوں نے کہا کہ وہ یہ کتاب آنے والوں کے لیے لکھ رہے ہیں اِس امید کے ساتھ کہ ’’ممکن ہے یہ نئی نسل اقبال کے اشعار و افکار کو ہم سے بہتر سمجھنے کے قابل ہو کیونکہ اقبال تو آنے والے کل یا مستقبل کے شاعر ہیں۔ ‘‘





زندہ رود کے آخری حصے کی اشاعت کے محض دوسال بعد اقبال کی شاعری کا پہلا جامع ایڈیشن، مفسرین کے مکمل حواشی کے ساتھ سامنے آیا۔ مگر یہ محض ان کے ابتدائی دور کا احاطہ کرتا تھا۔ اسے ہندوستان کے ایک ہندو محقق نے مرتب کیا تھا۔ دوسری اہم کتاب ، جو ایک اہم مآخد کا درجہ بھی رکھتی ہے، وہ بھی سرحد پار سے ہی سامنے آئی؛یہ خطوط کا ایک مکمل مجموعہ تھا جو تاریخی ترتیب کے حساب سے اور مکمل حواشی کے ساتھ۔
اقبال فہمی کے نئے دور میں ہونے والے اہم کام کے سبب موجودہ دور کے محققّین کے لیے یہ ممکن ہوگیا ہے کہ وہ اقبال کو ان کی شخصیت کے مکمل تناظر میں دیکھ سکیں۔ پرانے اسلوب کی گجہ ، جس میں ایک پسندیدہ سطر چن کر اسے سطحی طور پر پھیلا دیا جاتا تھا یا کسی وقتی جذبے کو مکمل تحقیق کا رہنما اصول بنا لیا جاتا تھا، اب اقبال کی زندگی اور اُن کے کام پر لکھی جانے والی نئی تحریروں کو راہ مل رہی ہے جو زیادہ غیرجانبدار اور زیادہ متوازن ہیں۔
مختلف معانی، جذبات اور متناقض آرا کی اِنھی تہوں سے، جو اُن کی زندگی میں بھی، اور اُن کی وفات کے بعد بھی اُن کے نام سے منسلک رہے، چھن کر اور عکس ریز ہوکر اقبال کی آواز ہم تک پہنچ رہی ہے۔

اقبال اکادمی پاکستان