www.allamaiqbal.com
  bullet سرورق   bullet شخصیت bulletتصانیفِ اقبال bulletگیلری bulletکتب خانہ bulletہمارے بارے میں bulletرابطہ  

شخصیت
حیاتِ اقبال
سوانح
سنین کے آئينے میں
سوانحی مواد
کتابیات
اکثر پوچھے گئے سوالات

پہلا باب

نوجوان شاعر فلسفی (۱۸۷۷ء-۱۹۰۵ء)

ابتدائی سال


 

اقبال کے والد شیخ نور محمدسیالکوٹ کے ایک متوسط کشمیری گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، اور والدہ امام بی بی، جو خود بھی کشمیری نسل سے تھیں، اُن کی شادی ۱۸۵۷ء میں ہوئی۔ یہ رشتہ بزرگوں کا طے کیا ہوا تھا اور اس قسم کی شادی ہی اس قدر مختلف مزاجوں کی شخصیتوں کو یکجا کر سکتی ہے۔ ان کی طویل پر مسرت زندگی جو انھوں نے اکٹھے گزاری اس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ ان دونوں کے اندر ایک دوسرے کے لیے احترام موجود تھا۔ نور محمدایک تارکِ دنیا شخص تھے جو باقاعدہ تعلیم یافتہ تو نہیں تھے مگر پھر بھی عشقِ حقیقی کا ذوق رکھتے تھے جو کہ صوفیا کی مجلسوں میں بیٹھنے کا اثر تھا۔ امام بی بی منکسرالمزاج اور سادہ خاتون تھیں جو عملی دنیا کے معاملات میں نہایت زود فہم تھیں۔

ان کی اولاد میں سے جو بچے شیر خوارگی کی عمر تک پہنچ سکے، شیخ محمد اقبال ان میں چوتھے نمبر پر تھے۔ ان کی تاریخ ِ پیدائش کے بارے میں اختلافِ رائے پایا جاتا ہے ۔ عام خیال کے مطابق وہ نونومبر ۱۸۷۷ء کو پیدا ہوئے (دوسری ممکنہ تواریخِ ولادت کے لیے دیکھئے 'تاریخی ترتیب') ۔ ان سے بڑے ایک بھائی (جوان سے تقریباً اٹھارہ سال بڑے تھے) اور دو بہنیں تھیں، جبکہ ان سے چھوٹی بھی دو بہنیں تھیں۔

وہ تقریباً دوسال کے تھے جب ان کی پیشانی پر جونکیں لگوائی گئیں، جو اس زمانے میں کسی بیماری کے لیے ایک روایتی علاج تھا۔ اس سے ان کی داہنی آنکھ متاثر ہوئی جو ان کی باقی تمام زندگی کے لیے بے کار ہوگئی۔ انھوں نے ایک جگہ ذکرکرتے ہوئے کہا ، ''مجھے یاد نہیں کہ میں نے اپنی دائیں آنکھ سے کبھی کچھ دیکھا ہو۔ ''اس سے قطع نظر کہ اس سے ان کو دور کی چیزوں کو دیکھنے میں بڑی مشکل ہوتی ہوگی، ایک آنکھ کا بے کار ہونا ان کے لیے خاص طور پر اس وقت رکاوٹ بن گیا جب آگے جاکر انھوں نے سول سروس میں جانے کی کوشش کی۔ وہ طبّی بنیاد پر نااہل قرار دیے گئے۔

جب وہ بڑے ہورہے تھے اس وقت ان کا گھر رشتہ داروں سے بھرا رہتا تھا اور ان کے اس دور سے متعلق ہرشہادت یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ بہت ملنسار طبیعت کے بچے تھے۔ عربی حروفِ تہجّی کو پہچاننے اور قرآن کی آیتیں زبانی یاد کرنے میں وہ بلاشبہ سب پر سبقت لے گئے تھے۔ مدرسہ اسکول میں ان کے بچپن کی ابتدائی تعلیم کا کُل نصاب تقریباً یہی کچھ تھا۔ وہ چار سال سے کچھ اوپر کے تھے جب ان کی ملاقات اس شخص سے ہوئی جس نے ان کی زندگی کا رُخ موڑ دیا۔ یہ ایک مقامی استاد سید میر حسن تھے۔

سید میر حسن پرانی معاشرتی روایات کے باغیوں میں سے تھے اور سر سید احمد خان کے ایک کٹر پیروکار تھے۔ وہ بھی اردو کے حامی تھے اور اپنے منفرد انداز میں ایک مؤثر مبلغ بھی ، اوراس کے علاوہ جو چیز اقبال کے مستقبل کے لیے سب سے اہم ثابت ہوئی، وہ یہ کہ شیخ نور محمد کے باعتماد دوست بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مدرسے کا دورہ کرتے ہوئے ان کی توجہ اقبال کی طرف گئی اور انھوں نے شیخ نور محمد کے لمبے منصوبوں کو بدلنے کے لیے اپنی تما م تر استدلالی قوت صرف کردی۔ صوفی باپ نے ہمیشہ اپنے چھوٹے بیٹے کو اسلام کی خدمت کے لیے وقف کردینے کا خواب دیکھا تھا۔ میرحسن سے گفتگو کے بعد یہ منصوبے اب تبدیل ہوگئے اور اقبال کو اسکاچ مشن اسکول میں داخل کردیا گیا۔ جہاں انھوں نے بارھویں گریڈ تک جدید مضامین پڑھے اور اس کے بعد وہ مزید تعلیم کے لیے اٹھارہ سال کی عمر میں لاہور روانہ ہوئے۔ ا س وقت تک ان کی زندگی میں بہت کچھ تبدیلیاں آچکی تھیں۔

جب وہ بچے تھے تو موسیقی اور شاعری سے دلچسپی رکھتے تھے۔ وہ بازار سے مشہور گانے یاد کرکے آتے اور گھر کی خواتین کو سنا کر خوش ہوتے جو رات گئے تک اپنے کاموں میں مصروف ہوتی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ملنے جلنے والوں کامذاق اُڑانے کے لیے ان گیتوں کی پیروڈی بھی بنالیتے تھے۔ ہائی اسکول پاس کرنے تک اقبال شاعری کے فنی مبادیات مثلاً: ضروری عروض اور تاریخ نکالنے کے قاعدوں سے مانوس ہوچکے تھے۔ ان کی غزل گوئی کا بھی آغاز ہوچکا تھا اور کلاسیکی موسیقی کا ذوق بھی ان کے اندر پروان چڑھ رہا تھا۔آگے چل کر وہ ستار بجانا بھی سیکھ گئے تھے۔

پس منظر


مغرب میں ہونے والی صنعتی ترقی اور عقلیت پسندی سے جنم لینے والی مادّی ترقی کو مقبوضہ ہندوستان کے کئی شہروں کی طرح سیالکوٹ میں بھی راہ مل گئی تھی۔ کھیلوں کے سامان کی صنعت بن جانے سے یہ ایک خوشحال شہر بن گیا اور تبدیلی کا یہ عمل بالغ ہوتے ہوئے اقبال کے سامنے ہی ہوا۔جدید تعلیم۔ اعلیٰ سرکاری ملازمت یا وکالت جیسے کامیاب پیشے کاذریعہ بھی تھی اور اس کے ذریعہ مالی خوشحالی کی ضمانت بھی، یا کم از کم ایسا سمجھا جاتا تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں’جدیدیت کی برائیوں‘ کے خلاف مزاحمت بھی موجود تھی۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں پیشے جدّی پشتی ہوں اور سماجی حیثیت کا درجہ بڑھانے کی کوشش کو غیر اخلاقی عمل جانا جاتاہو، مادّی ترقی کی خواہش کو باعثِ تحقیر سمجھا جاتا تھا۔ دراصل یہی وہ ذہنی حالت تھی جسے رام موہن رائے ہندوؤں میں اور سر سید احمد خان مسلمانوں میںتبدیل کرنا چاہتے تھے۔

اس تناظر میں ایسا لگتا ہے کہ وہ قومی روح جسے صدیوں سے جاگیرداری اور اندھی تقلید نے پروان چڑھایا تھا، اب اپنا کردار تبدیل کررہی تھی۔ ’’سب کے لیے ایک اورایک کے لیے سب‘‘ اب بھی ایک رہنما اصول تھا مگر اس کی سمت بدل گئی تھی: پیچھے دیکھنے کے بجائے قوم اب یکسر تبدیل ہونے پر کمر بستہ ہوگئی تھی۔

عقلیت پسندی کے بعد یورپ نے جو انفرادیت پسندی اختیار کی تھی ا س کا ابھی یہاں تصور تک نہیں تھا (سوائے سرسید احمد خان کی تحریروں میں جو اپنی شخصیت کے ہر پہلو سے اپنے زمانے سے آگے تھے) ۔ وکٹورین دور کے ہندوستان میں تبدیلی کی روح اور سماجی خدمت میں حصہ لینے کی تڑپ اس مفروضے پر مبنی نظر آتی ہے کہ فرد کی شناخت یہ ہے کہ وہ ایک بڑے عوامی گروہ کا حصہ ہوتا ہے۔ یہ بڑا گروہ ’برادری‘ تھاجس کے لفظی معنی ایک مذہبی فرقے یا قوم کے ہیں مگر مشرقی ذہن پر یہ ایک صوفیانہ نیازمندی بھی طاری کردیتا تھا یعنی ایک اجتماعی کل جس کے آگے افراد کو اپنی خواہشات اور اپنی روحوں کوجھکانا تھا۔ مزید برآں، کسی بھی شخص کا تعلق بہ یک وقت بہت سی قوموں سے ہوسکتا تھا۔ مثلاً اقبال ذات کے اعتبار سے کشمیری، مذہب کے لحاظ سے مسلمان اور نسلاً براہمن تھے (آخرالذکر شناخت سے ان کے آباؤاجداد اس وقت دست بردار ہوگئے تھے جب چند صدیاں قبل انھوں نے اسلام قبول کرلیا تھا) ۔

ٓگے چل کر ان کی تحریروں میں فرد اور قوم کے درمیان در آنے والے اس تضاد کے واضح ثبوت ملتے ہیں۔ جہاں وہ ’ناسمجھ‘عوام کی مذمّت کرتے ہیں، وہیں وہ فرد کو فنا کی تعلیم بھی دیتے ہیں، خدا کے اندر نہیں بلکہ قومی تصورات کے اندر۔ خدا، فرد اور قوم ایک طرح سے محبت کی وہ تکون ہے جس کا اتبدا ہی سے انھیں سامنا تھا۔ اس مثلث کے ان تین نقاط کے اپنے اپنے مقام کا ازسرِ نو تعین کرنا وہ کام تھا جوبہت جلد انھوں نے اپنے ذمّہ لے لیا ۔

اقبال کو اپنی زندگی کے ابتدائی بیس برسوں کے بارے میں کچھ شکوہ شکایت ہوسکتا تھا اپنے گروپ میں قابلیت اور ذہانت میں سب سے آگے ہونے کی وجہ سے، تعلیم پانے کے بعد اُنھیں اِسی نسب سے صلہ ملنا چاہیے تھا جو نہیں ملا۔ اُن سے کہیں پیچھے رہ جانے والوں نے اپنے لیے خوشحالی کے کیرئیر اختیار کرلیے۔ اس کی ایک مثال گلاب دین تھے جوسیالکوٹ کے ایک بے حد نچلے طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ اُنھیں میر حسن کی تربیت نے ایسا سنوارا کہ وہ نہ صرف ایک کامیاب وکیل بن گئے بلکہ لاہور کے سماجی حلقے کی ایک نمایاں شخصیت بھی کہلانے لگے۔ جبکہ اقبال قانون کے امتحان میں فیل کردئیے گئے تھے (ایک دلچسپ اتفاق یہ ہے کہ وہ اصولِ قانون میں ناکام قرار دیے گئے یعنی اُس مضمون میں جس پر آگے جاکر انھوں نے اپنا مشہورِ زمانہ ’چھٹا خطبہ‘ تحریرکیا!) ۔ اس کے علاوہ وہ سرکاری نوکری کے لیے بھی نا اہل قرار دیے جاچکے تھے کیونکہ ان کی داہنی آنکھ دوسال کی عمر میں بے کار ہوچکی تھی۔ لہٰذا وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے ابتدائی چند سالوں میں دوسرے درجہ کے ایک کالج میں عارضی نوعیت کی نوکری تک محدود ہوکر رہ گئے تھے اور اگر ان کے اندر موجود ان کے والد کا اثر ان کو اسی پر قناعت کرنے کو کہتا تھا تو ان کی والدہ کے اثر نے یقینا ان کو مزید کوشش پر مجبور کیا ہوگا (اقبال نے ۱۹۱۴ء میں اپنی والدہ کی وفات کے موقع پر ایک خط میں کہا کہ ان میں دنیاوی ترقی کی شدید خواہش والدہ کی موجودگی ہی کی وجہ سے تھی) ۔ گو کہ ان کی بعد کی کامیابیوں کے سامنے ان کی ابتدائی ناکامیاں بے معنی نظر آتی ہیں مگر ان کے ذہن کی سوانح مرتب کرنے کے لیے یہ اہم سنگِ میل ثابت ہوسکتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ا س دور میں ان کی ذاتی زندگی کی جذباتی بے اطمینانی اور ان کی تخلیقی قوتوں کا بکھر جانا ان کی زندگی میں بنیادی رکاوٹوں کی حیثیت رکھتا تھا۔

اقبال کی شادی سولہ سال کی عمر میں ہوئی جو قطعی بے جوڑ تھی۔ وہ کبھی اپنی بیوی کو لاہور نہیں لائے تھے، لہٰذا شادی کے دوسال کے بعد سے ان کی بیوی کا زیادہ تر وقت گجرات میں واقع اپنے والدین کے گھر پر گزرا۔

۱۹۰۲ء تک ان کی ازدواجی الجھنیں اس قدر بڑھ چکی تھیں کہ اس دور میں اُن پر لکھے گئے ایک سوانحی مضمون میں بھی اس کا تذکرہ آیا۔ اقبال نے خود اپنی کچھ نظموں میں ، ہلکے پھلکے انداز میں ہی سہی، نسوانی رفاقت کا ذکرکیا ہے۔ مثلاً اپنی نظم ’عاشقِ ہرجائی میں ‘ جو ۱۹۰۷ء یا ۱۹۰۹ء میں لکھی گئی، وہ خود کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں:
حسنِ نسوانی ہے بجلی تیری فطرت کے لیے
پھر عجب یہ ہے کہ تیرا عشق بے پروا بھی ہے
مگر ان معاملات میں وہ بائرن جیسے طرزِ زندگی سے کوسوں دور تھے بلکہ ان کی زندگی میں ہمیں ایک طرح کی زاہدانہ اذیت کوشی کامظاہرہ نظر آتا ہے اقبال نے ۱۹۰۴ء میں اپنی ایک نظم ’زہد ورندی‘ میں اپنے بارے میں ایک تبصرے کے حوالے سے، بڑے فخر سے کہا تھا: ’’بے داغ ہے مانندِ سحر اُس کی جوانی۔‘‘

نوجوان


 

وہ تاریخ، کلاسیکی موسیقی اور فنونِ لطیفہ کے نظریات پر بھی عبور حاصل کرچکے تھے۔ شہر کی دو (یا دو سے زائد) فلاحی تنظیموں کی سرگرمیوں میں شرکت کرنے کے علاوہ وہ ہر مہینہ چند اچھی نظمیں اور ہر سال کم ازکم ایک طویل شاہکار نظم بھی تخلیق کرلیا کرتے تھے۔ اس کے باوجود یہ سارے کام اور لاہور کے مختلف کالجوں کی نوکریاں اُس پیشہ سے قطعی مختلف اور محض وقت گزاری کے لیے تھے جو وہ اختیار کرنا چاہتے تھے یعنی وکالت، اور اس میں ناکامی کی صورت میں کم از کم کوئی سرکاری ملازمت۔ یہ سبق بہر حال ابھی ان کو سیکھنا تھا کہ آپ کے ذہن کی صلاحیتیں لامحدود ہوسکتی ہیںمگر آپ کے پاس وقت ہمیشہ محدود ہوتا ہے۔

بمبئی کے نوجوان بیرسٹر محمد علی جناح (جن سے کچھ عرصے بعد اقبال کی واقفیت ہوئی) کی طرح وہ اپنی تمام تردلچسپیوں سے کنارہ کش ہوکر ’’پہلے کیرئیرپھر سیاست ‘‘ کا اُصول اختیار کرنے پر خود کو آمادہ نہیں کرسکے تھے۔ اگر وہ ایسی کوشش کرتے بھی تو شاید باقی دوسری تمام سرگرمیاں تو ترک کردیتے مگر شاعری نہیں۔ شاعری پر ان کو اختیار تھا ہی نہیں، وہ تو فطری طور پر شاعر تھے۔ جب ان کے پاس ذرا بھی فرصت نہ ہوتی۔ (مثلاًجب وہ امتحانی پرچے چیک کررہے ہوتے) تب بھی وہ ایک ہی نشست میں سو سے زیادہ شعر کہنے پر قادر تھے (’ابرِ گہر بار‘اسی طرح تخلیق ہوئی تھی)۔ مگر ستم ظریفی یہ تھی:وہ ایک ایسے دور میں زندہ تھے جب شاعروں کو ایک غیر ضروری شے بلکہ برائیوں کی جڑسمجھا جاتا تھا۔ مغلیہ دور میں شاعروں کو اُمرأ کے قصیدے لکھنے پر، وظیفے ملتے تھے جن پر اُن کی گزر اوقات ہوتی تھی۔ باوقار شخصیت کے حامل سرسید نے اس روایت کو سخت ناپسند کیا اور اسے بھیک مانگنے کے مترادف قرار دیا۔ ان کے شاگردحالی نے، جوخود بھی اپنی نسل کے بہترین شاعروں میں سے ایک تھے، اپنی یادگار ’مسدّس‘میں شاعروں کی ایک نہایت مکروہ تصویر پیش کی:اگر تمام خاکروب ہڑتال پر چلے جائیں تو دنیا ناقابل برداشت ہوجائے لیکن اگر تمام شاعر فنا ہوجائیں تو ’’خس کم جہاں پاک کہیں مل کے سارے‘‘۔ شعرا کی پوری زندگی کی کاوشوں کا حاصل یہ ہے کہ ان کے گیت طوائفوں کی زبان پر ہوں۔ اقبال خود کو کچھ بھی کہلوانا گوارا کرسکتے تھے مگر شاعرنہیں۔ ’’میں شاعر نہیں ہوں‘‘، وہ اپنی آخری سانس تک اس بات پر اصرار کرتے رہے، ’’اور میں نے تو اس فن کو ٹھیک طرح سے پڑھا بھی نہیں۔ ‘‘ (جو کہ محض خود کو مطمئن کرنے کے لیے کسرِ نفسی پر مشتمل بیان تھاکیونکہ اردو اورفارسی شاعری کی کلاسیکل تراکیب میں ان کی مہارت کا مقابلہ مغل دربار کے کسی بھی بڑے شاعر سے کیا جاسکتا تھا) ۔ پھر اگر وہ شاعر نہیں تو اپنی شاعرانہ سرگرمیوں کووہ کیا نام دیں؟اس کی وضاحت وہ یہ کرتے تھے کہ وہ ایک باشعور مفکر ہیںجو اپنے تصورات کو نثر کے بجائے شاعری کی شکل میں بیان کررہے ہیں۔

بہر طور، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ان ابتدائی برسوں میں بھی ایک باشعور مفکرتھے۔ اقبال کا پہلا مشہور مقالہ’عبدالکریم الجیلی کا نظریۂ وحدتِ مطلق‘ (جو مارچ ۱۹۰۰ء میں مکمل ہوا اور چھ ماہ بعد ایک ریسرچ جرنل میں شایع ہوا) ایک ایسا مقالہ تھا جس کی طرف نیٹشے ضرور متوجہ ہوتا اگر وہ زندہ ہوتا (اتفاق سے یہ جرمن روایت شکن فلسفی اس مقالے کی اشاعت سے چند دن پہلے ہی فوت ہو گیا تھامگر اقبال نے اس وقت تک اس کانام بھی نہیں سنا تھا) ۔ الجیلی والے مقالہ کے بارے میں مزید کچھ کہنے سے پہلے بہتر ہوگا کہ فکر اقبال کا مطالعہ کرنے کے لیے کچھ اصول طے کر لیے جائیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ اقبال نے اپنی فکر کے اظہار کے لیے جن تین ذرایع کا انتخاب کیا، اُن کا فرق سمجھ لینا چاہیے : (الف) نثر (ب) نظم (جن میں ’مسجدِ قرطبہ ‘جیسی طویل نظمیں بھی شامل ہیں) اور (ج) مثنوی۔ جہاں نثر منطقی فکر کا معیاری ذریعۂ اظہار ہے وہاں مثنوی بھی تخلیقی فکر کے اظہار کا ایک مستند ذریعہ ہے-فارسی ادب میں مثنوی کی روایت کم از کم ایک ہزار سال پرانی ہے، فردوسی اور رومی جیسے عظیم شاعروں نے منظم مباحث کے لیے اسی صنف کا انتخاب کیا اور اسے کمال تک پہنچایا۔ مثنوی میں کوئی بھی پیچیدہ فلسفیانہ مسئلہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاسکتا ہے، اورجہاں منظق اور جذبات کا امتزاج ہو، وہاں تو یہ نثر سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔

نظم کا معاملہ البتہ مختلف ہے۔ غزل ہو یا مغربی ادب سے مستعار جدیدنظم، دونوں میں منطق کی بجائے اختصار کا زیادہ خیال رکھا جاتا ہے اور اگرچہ ان میں بھی فکر کا اظہار ممکن ہے (جیسے غزل میں عرفی و غالب، اور نظم میں ڈن اور براؤننگ) ، مگر یہاں فکر کو پہلے فنّی پیرہن اختیار کرنا پڑتا ہے-یہی وجہ ہے کہ ہم ڈن کی شاعری میں مخفی مابعد الطبیعی معنیٰ کو تب ہی سمجھ سکتے ہیں جب ہم ا س کے فن کی خوبصورتی کو محسوس کرنے کے قابل ہوں۔

اس کی ایک دلچسپ مثال بانگِ درا کے پہلے حصہ کی ان نظموں کا مجموعہ ہے جو قومی موضوعات پر لکھی گئی ہیں (اور جن کا تذکرہ اس باب میں دوبارہ آئے گا) ۔ یہ ۵-۱۹۰۴ء میں لکھی گئیںاور یہ تقریباً وہی زمانہ ہے جب اقبال نے ’قومی زندگی ‘ کے عنوان سے ایک طویل مضمون بھی تحریر کیا تھا۔ وہ مسائل جو اِس مضمون میں نہایت اہم قرار دیے گئے تھے اور جن پر اس میں تفصیل سے بحث کی گئی تھی، ان کا اِن نظموں میں ذکر تک نہیں ملتا۔ ایسا کیوں ہے؟اس لیے کہ نظم ’نیا شوالہ‘کا موضوع محض ایک نیا شوالہ ہے؛ ’ہندوستانی بچوں کا قومی گیت‘ محض ایک گیت ہے؛’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘محض اپنے ملک کے حوالے سے جذباتِ مسرت کا اظہار ہے ۔ یہ صحیح ہے کہ شاعر وہ سب واقعی کہنا چاہتا تھا جو ا س نے ان تمام نظموں میں کہا، مگر ا سکے پاس اس کے علاوہ بھی کہنے کو کیا کچھ تھا، اور کیا اس کے ذہن میں کوئی ’اگر‘اور ’مگر‘ بھی تھے، یہ نظمیں ہمیں یہ نہیں بتا سکتیں۔ اور اگر بتاتیں تو پھر وہ اچھی نظمیں نہ ہوتیں۔ مگر مثنوی کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا۔ اگر ہم ’اسرارِ خودی‘ کا موازنہ ان مضامین سے کریں جو اس موضوع پر اقبال نے اسی زمانے میں لکھے تھے تو پتا چلتا ہے کہ استدلال کا تقریباً ہر پہلو جو نثر میں پیش کیا گیا ہے، وہ مثنوی میں بھی مکمل طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح جاوید نامہ میں قریب قریب وہ سب کچھ ہے جو وہ کہنا چاہتے تھے اور اتنی تفصیل سے ہے کہ حوالے تک دیے گئے ہیں!یہ کسی دوسری صنف میں ممکن نہیں تھا۔

جب اِس موضوع پر گفتگو کی جاتی ہے کہ اقبال اپنی بعد کی زندگی میں فارسی شاعری کی طرف کیوں متوجہ ہوگئے تھے تواکثر اس بات کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنے اظہار کے لیے محض فارسی شاعری کونہیں بلکہ خاص طور پر مثنوی کو منتخب کیا کیونکہ انھیں اپنے فلسفیانہ افکار کی وضاحت مقصودتھی ۔ فارسی میں مختصر نظمیں یا تو اتفاقیہ ہیں یا مثنویوں کا ضمنی نتیجہ نظر آتی ہیں اور ان کی تعداد اردو کی مختصر نظموں کے مقابلے میں محض مٹھی بھر ہی ہے۔ (بعض موقعوں پر انھوں نے اردو نظموں میں بھی ٹھوس فلسفیانہ استدلال پیش کرنے کی کوشش کی جیسے ’والدہ مرحومہ کی یاد میں ‘ (۱۹۱۴ئ) ، ’خضرِ راہ‘ (۱۹۲۱ئ) ، ’ساقی نامہ‘ (۱۹۳۵) اور کچھ دوسری نظمیں ، مگر یہ بھی ان کی مثنویوں کے مقابلے میں بہت مختصر ہیں) ۔

کہا جاسکتا ہے کہ اگر نظم ایک تصویر ہے تو مثنوی فیچر فلم ہے۔ دائرۂ کار اور مقصد کا فرق بالکل واضح ہے مگر اقبال کا مطالعہ کرنے والوں میں سے اکثر اس فرق کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں ، جس کی وجہ سے کہیں تو ان کی شاعری کو ان کی فکر کے ذریعۂ اظہار کے طور پر مستندہی نہیں سمجھاگیا اورکہیں مختصر نظموں کو بھی مثنویوں کی طرح ہی دیکھا گیا۔ بہتر یہ ہوگا کہ ان کی نثر اور مثنویوں ، دونوںکو ان کی فکر کا بنیادی ترجمان سمجھا جائے جبکہ محتصر نظموں سے استفادے کے لیے پہلے ادب کی بنیادی تکنیک کو سمجھا جائے۔

دو موضوعات جو ان کی نثر اور شاعری پر چھائے ہوئے نظر آتے ہیں، وہ انسان اور معاشرہ ہیں (جبکہ ابلیس ان کے بعد تیسرا اہم موضوع ہے) ۔ ان موضوعات کو انسان کی اُس حیثیت کے تناظر میں دیکھا گیا ہے جو اسے خدا کے سامنے حاصل ہے۔

الجیلی نے غالباً ابن عربی کے مبصر کی حیثیت سے اقبال کو متاثر کیا ہوگا (گو کہ ان کا تنقیدی تبصرہ اب مستند نہیں سمجھا جاتا ) ، اور یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ قرونِ وسطیٰ کے اس صوفی نے اپنی کتاب کا نام الانسان الکاملرکھا، جبکہ اقبال نے اپنے مقالے کا عنوان رکھتے وقت انسان کی بجائے الوہیت کا حوالہ دینا مناسب سمجھا۔ بظاہر اِس مقالے کی وجہ سے انھیں ایران میں فلسفۂ مابعد الطبیعیات کے ارتقا کا زیادہ جامعیت کے ساتھ مطالعہ کرنے کی تحریک ہوئی جو چند سال کے بعد کیمبرج میں اُن کا موضوع تحقیق بنا تھا۔

فکرِ اقبال کے ارتقا کو سمجھنے کی کوشش کرتے میں ہمیں دو مفروضے نمایاں نظر آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ انھوں نے یورپ کے قیام کے دوران اپنے بیشتر ابتدائی خیالات ترک کرکے ایک نیا تصور اپنا لیا تھا جسے چند سال بعد اسرارِ خودی کے نام سے پیش کیا۔ یہ مفروضہ اقبال کے ان بیانات پر مبنی ہے جو اُنہوں نے ایک زمانے میں تصوف کے خلاف دیے اور جنھیں اکثر ان کی باقی تحریروں سے الگ کرکے پڑھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک مضمون میں ، جو ۱۹۱۷ء میں شایع ہوا، انھوں نے اعتراف کیا کہ وہ اب الجیلی کے اس نظریہ پر یقین نہیں رکھتے کہ حقیقتِ مطلق اپنے تخت سے نیچے اتر کر مخلوق یا فطرت بن جاتی ہے۔ جبکہ تاریخِ تصوف کے ادھورے خاکے میں ، جوانھوں نے اسی زمانے میں مرتب کیا اور جو مکمل نہ ہوسکا، وہ کہتے ہیں:’’اگر یہ مان لیا جاتا کہ ہستی کے مختلف مدارج قدرتِ کاملہ کا ظہور ہیں تو کوئی ہرج نہ تھا۔ مگر رونا اس بات کا ہے کہ ان مسائل کو حقائقِ وجودی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور ان کی صداقت قطعیہ وجودیہ کو بدلائل و براہین ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ‘‘یہ غیر مطبوعہ بیان اقبال کی ذہنی رَو کوبہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے:ان کے بیشتر ابتدائی تصورات اپنی جگہ بدستور قائم رہے مگر مرکز ِنگاہ بدل گیا۔ فکر کا ارتقا کوئی میکانکی عمل نہیں اوراس سلسلے میں ایک پودے کی مثال ہمیں درست اندازہ لگانے میں مدد دے سکتی ہے ۔جیسے ہم یہ کہتے ہیں کہ بیج بویا گیا تھا اور وہ پھوٹ پڑا۔ اب پودے پر نئے پھول تو آتے رہے مگر پھر بھی پودا تو وہی رہا۔

یہ مفروضہ اختیار کرنے کی وجہ سے اقبال پر لکھنے والے بہت سے مصنفین ان کے افکار کی اصل بنیادوں کو نہیں سمجھ سکے۔ اقبال نے اپنے تصوف والے مقالے کے آخر میں لکھا تھا: ’’تصوف کے پردے میں الجیلی نے کچھ ایسے جملے اشارۃً کہتے ہیں جن سے ایک فلسفیانہ نظام کی تشکیل ہو سکتی ہے، مگر افسوس کی بات ہے کہ بعد میں آنے والے مسلم مفکرین نے اس قسم کی تصوراتی قیاس آرائی کو زیادہ پسند نہیں کیا۔‘‘ اور یہی کام تھا جو اقبال نے اپنے ذمے لے لیا، یعنی فلسفیانہ نظام کی تشکیل۔

دوسری غلطی مغربی فلاسفہ کے اثر کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینا ہے۔ ایک ایسے دور میں جب مغرب کی ذہنی برتری اور تقابلی مطالعوں کا زور تھا، اگر اقبال چاہتے تھے کہ یورپی قارئین، اور ان کے اپنے ملک کے تعلیم یافتہ نوجوان بھی، ان کے افکار سمجھیں تو اپنے پسندیدہ مسلم مفکرین کے نظریات (نیز خود اپنے بھی نظریات) کا موازنہ مغرب کے مشہور مفکرین سے کرنا ان کے لیے ناگزیر تھا۔ مگر ایسے طریقے کے اپنے خطرات ہوتے ہیں اور جو کچھ اقبال کے ساتھ ہوا، وہ اسی کی ایک مثال ہے:ان کے مترجم نکلسن سے لے کر ہمارے اپنے زمانے تک، ایسے بے شمار اسکالرز ہیں جو’ ’موازنہ کرنے’ اور ’اخذ کرنے ‘کے فرق کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔ مثلاً اگر اقبال نے کہا تھا کہ برگساں کے افکار بیدل کی شاعری میں بھی (جو برگساں سے پہلے گزر چکا تھا) مل جاتے ہیں تو یہ اِس بات کی دلیل ہے کہ خود اقبال کی شاعری میں برگساں سے زیادہ بیدل کے افکار کو تلاش کرنا چاہیے۔ اقبال نے ۱۹۲۱ میں نکلسن کے نام لکھے گئے اپنے ایک خط میں یہ بات بالکل واضح کردینے کی کوشش کی:’’میرا دعویٰ ہے کہ اسرارِ خودی کا فلسفہ براہِ راست قدیم مسلم صوفیأ اور مفکرین کے تفکر اور تجربہ کی منظم شکل ہے۔ حتیٰ کہ برگساں کا تصور ِ زماں بھی صوفیأ کے لیے قطعی اجنبی نہیں تھا۔ ‘‘اقبال نے واضح کیا کہ انسانی زندگی اور تقدیر کے بارے میں قرآن کے نظریات مابعدالطبیعاتی قضایا پر مبنی ہیں اور وہ ’پرانی بوتلوں‘ میں ’نئی شراب‘ (یعنی مغربی تصورات) نہیں ڈال رہے تھے بلکہ ان کا کام تو ’کو جدید کی روشنی میں قدیم کا مکرر بیان تھا۔

نظریہ توحیدِ کاملہ


Before we look further into the Al-Jili thesis we should set some ground rules for the study of Iqbal's thought.

The first thing is to differentiate between the three vehicles of expression he used for his thought: (a) prose; (b) short poem (including the longer ones among them, such as 'The Mosque of Codoba'); and (c) masnavi. While prose could be the most dependable medium for rational thought, masnavi too could be trusted, since the great masters of the last thousand years of Persian literature, including Ferdowsi, Sinai, Nezami, Attar, Rumi and Jami, had perfected this genre as a medium for coherent discourse at any desired length. The masnavi was even preferable to prose where the thrust was a mix of logic and emotion.

The case of the short poem was different. Both the ghazal and the modern poem adapted from the Western literature were focused on brevity rather than logic and while it was possible to be thoughtful in ghazal (like Urfi and Ghalib) or in poem (like Wordsworth and Browning), the thoughtfulness itself had to adopt the garb of artistry first – even our understanding of the "philosophical" content of a poem is directly proportional to our enjoyment of the poet's craft.

An interesting example is the bunch of poems on nationalist themes in the first part of The Call of the Marching Bell (and which will be revisited later in this chapter). These were written in 1904–5, around the same time when Iqbal also wrote a detailed essay 'National Life.' Some of the issues listed as crucial in that essay and discussed in much detail could not get explored in the poems. Why? Because the theme of the poem 'A New Temple' was just a new temple; 'National Song of Indian Children' was just a song; Saray jahan say achha was just about feeling good for belonging to your country. The poet must have wanted to say what he said in each poem, but what else did he have to say, and how much? Were there 'ifs' and 'buts' in his mind? The poems don't tell us. They would have been bad poems if they did.

The same cannot be said about the masnavis. If we compare Secrets and Mysteries (Asrar-o-Rumooz) with the numerous essays Iqbal wrote on the subject around the same time we find that nearly every important aspect of the argument presented in prose is also substantially covered in the masnavi. Likewise, Javid Nama contains nearly everything he had to say about the world, and it says it in detail almost to the extent of quoting references. This would not have been possible in some other genre.

While it is often discussed why Iqbal switched over to writing poetry in Persian in later life it is completely overlooked that he did not just shift to Persian, but essentially to Persian masnavi, and that too only when he wished to present a complete exegesis of his philosophy. Shorter poems in Persian were either incidental or a by-product of his masnavis and were merely a handful as compared to the huge bulk of such poems in his Urdu Kulliyat. (On a few occasions he attempted sustained philosophical argument in Urdu poems too – such as 'In the Memory of My Late Mother' (1914), 'The Khizr of the Way' (1921), 'Sakinama' (1935) and some other poems, but even these were capsule summaries as compared to his masnavis).

It might be said that if a poem is like a painting, then a masnavi is like a feature film. The difference in scope and purpose is obvious but failing to recognize this has led the scholars of Iqbal to either distrust poetry as expression of his thought or to approach the short poems in the same manner as the masnavis. It would be safer to treat his prose and masnavis both as major exponents of thought while using his short poems with necessary literary preparation.

The two over-arching subjects in his prose and poetry are the human being and the society (with the devil as a runner-up for the third major subject). None of these subjects can be separated from their position towards God.

Al-Jili might have caught Iqbal's attention as a commentator of Ibn 'Arabi (although an unreliable one, as we now know) and it is remarkable that while the medieval mystic named his book Al-Insan al-Kamil ('The Perfect Man'), Iqbal refered to the Divine rather than the human in naming his paper. Apparently this led him to a more comprehensive study of 'the development of metaphysical thought in Persia,' which he carried out in Cambdirge a few years later.

The Absolute Reality cannot even be named, yet alone understood, for it is the absence of all attributes and name is an attribute while understanding is a relation – even 'One-ness' is a step away from that which is being described as 'One,' Iqbal presented Al-Jili's argument. Yet, Essence and attributes are identical, or else one could not have represented the other and the veil is removed when we understand this: "The perfect man is the pivot around which revolves all the 'heavens' of existence, and the sum of the realities of material existence corresponds to his unity," the young scholar went on to state that the Throne of God, the Footstool, the Lote Tree, the Pen, and the Preserved Tablet correspond respectively to the heart, the I-ness, the spiritual statation, the intellect, and the mind of the perfect human being. Likewise, the elements of nature, matter, air, Heaven and the skies correspond to the temperament, faculty of perception, the occupied space, the imagination and the intelligence of this ideal human – the list goes on. Here, in seminal form, was the essence of nearly half of Iqbal's later poetry, whose metaphysical background would come from Al-Jili's description of 'reality': God is the essence of reality and cannot be comprehended by the human mind; comprehension is a bonding and God, or the Absolute Reality, is beyond it. Yet, the human being can approach the Divine Presence, if not through knowing then through becoming.

Two myths overshadow our understanding of the development of Iqbal's ideas. The first is a presumed change of heart whereby, it is supposed, he gave up all his early beliefs while coming up with a new idea during his stay in Europe, which he presented a few years later as secrets of the self. This myth also feeds on Iqbal's later statements against mysticism, which are often taken in isolation from the rest of his writings. For instance, in an article published in 1917 he admitted that he no longer believed in Al-Jili's theory about the Absolute Reality stepping down from its podium in order to become creation or nature. However, the draft of an aborted history of Sufism written in Urdu at the same time reads, "There would have been no harm if these various grades of existence were seen as manifestations of the Divine omnipotence, but alas they were presented in a pantheistic light." This unpublished statement gives us a better insight into the working of Iqbal's mind: he retained most of his earlier knowledge but shifted the emphasis. Evolution of thought is not a mechanical process and an organic paradigm would bring us closer to the truth: the seed was sown and it sprouted. While fresh flowers kept appearing all the time the plant remained the same.

Taking the mechanical approach, most writers have failed to trace the proper origins of his ideas. "In the garb of mysticism [Al-Jili] has dropped remarks which might be developed so as to result in a philosophical system," Iqbal stated at the end of his thesis, "but it is a matter for regret that this sort of Idealistic Speculation did not find much favor with later Islamic thinkers." This is precisely the task Iqbal took upon himself: to develop the idea.

The second trap is to overrate the influence of Western philosophers. In an age of comparative studies and intellectual dominance of the West he had to compare the ideas of his favorite Muslim thinkers (as well as his own) with well-known thinkers of the West if he wanted to be understood by his European audience or even the educated youth in his own country. However, such an approach has its inherent perils: beginning with his translator Nicholson and coming down to our own age is an endless line of scholars who failed to see the difference between comparison and adaptation. If, for instance, Iqbal said that Bergsonian ideas were also found in the poetry of Bedil (who preceded Bergson), then this should be a reason to trace similar ideas in Iqbal's own poetry to Bedil more than Bergson. Unfortunately this has not happened, although Iqbal tried to make it very clear in a letter to Nicholson in 1921: "I claim that the philosophy of the Asrar is a direct development out of the experience and speculation of Old Muslim Sufis and thinkers. Even Bergson's idea of time is not quite foreign to the Sufis." He explained that the Quranic views on the human life and destiny rest on metaphysical propositions and he was not putting 'new wine' (i.e. Western ideas) in 'old bottles' (i.e. Sufism) but rather his work was "only a restatement of the old in the light of the new."

ابتدائی شاعری


 

"To see is to see not," Iqbal wrote in one of his ghazals (incidentally, from his days of affection for Ameer Begum). Iqbal's experience of God in this phase tends to be guided by wahdatul wujud – he was born into a great mystic tradition and even claimed to be a formal initiate into the Qadriya Order through his father.

His early poetry (especially the uncollected poems) reveal a strong inclination towards the doctrines of the classical Spanish mystic Ibn 'Arabi, passages from whose Bezels of Wisdom used to be taught to gatherings at Shiekh Nur Muhammad's home while Iqbal was growing up. Among the recurring themes in Iqbal's early poems are the connection between ordinary love and love for God (clearly an influence of Ibn 'Arabi), similarity of all human religions, and reverence of the Prophet as a prism for the Divine Light (and, sometimes, an exalted status for the Caliph Ali).

A thought that encompasses his spiritual life at this stage is that God is the separated beloved whom the human being has to find in everything beautiful, including one's own heart. The thousands of forms in this world are like thousand veils across the face of a single Reality. True seekers learn to ignore the appearance (majaz) of whatever they see, and concentrate instead on the unseen, the Reality (haqeeqat). In other words, God exists everywhere and those who can see beyond appearance see Him manifest in things as little as a glow-worm and as huge as the Himalaya.

'The Pearl-laden Cloud' (1903) is a remarkable poem for the manner in which it exalts at once the amorous yearning (majaz), the devotion to the Prophet and the love of God. Seemingly diverse loves are alloyed into a typically mystical unity as the mystic is ever ready to perceive God as Beauty. A grand vision of the human soul in the divine context seems to underline Iqbal's evolution towards preferring separation to union (mentioned above). The individual was discovering its own importance in the crowd – your ego corresponds to the Footstool of God, and how can you betray Him?







علم الاقتصاد


 

His interest in economics was derived partly from the fact that he was supposed to teach this subject and partly from his desire to balance his daydreaming with something practical (or at least something practical 'in theory'!). The outcome was his first Urdu publication, a handbook for students titled Political Economy (or Ilmul Iqtisad), published in 1904. For good reasons he called it outdated some two and a half decades later. Unfortunately, many Iqbal scholars have turned that comment into an excuse for not reading the book carefully or sometimes not at all. A willingness to do otherwise is rewarded with a portrait of the poet as a young thinker since the book is generously punctuated with comments of moral, political and philosophical import. The essence of these observations may be presented as follows.

  • The balance between individual freedom and common good of the community is an important concern.
  • Humans aspire for wealth and prosperity and would probably achieve it if wrong ideals don't rob them of aspiration itself. Nihilistic religious philosophies are chief among such robbers.
  • Economic revolution in the sub-continent is desirable (this idea permeates the entire book).
  • Economics should not be seen as a normative science; right and wrong must be decided on a moral basis. However, what is useful for a community at one point in time may become harmful at some other time and therefore customs need to be revaluated and reformed. (Against what criteria? He doesn't raise that question here, but the answer he provided later was: the divine revelation and a pragmatic test of one's own understanding of that revelation).
  • 'Freedom,' in its political economic sense is also emphasized. "You know that the labor of slaves cannot match the labor of independent workers. Why is that so? Why is the labor of slaves devoid of the virtue of performance?" The answer provided here is: "the whip cannot provide the motivation that comes only from a desire of wealth and the tension of self-respect." (Obviously, this is a forerunner of such later discourses as 'The Book of Slaves' in Persian Psalms, or Persian Psalms).

The remarkable optimism of the preface provides us the best key to Iqbal's entire worldview: "A question has arisen in this age, viz., is poverty an unavoidable element in the scheme of things?" He pretends to hide the fact that he had already found the answer. "Can it not happen that the heartrending sobs of a humanity suffering in the back alleys of our streets be gone forever and the horrendous picture of devastating poverty wiped out from the face of this earth? Economics alone cannot answer, because the answer lies to a great extent in the moral capabilities of the human nature…" Javid Nama, his magnum opus written some twenty-eight years later, was evidently his personal answer to the question, and the entire body of his work from now on, a lifelong effort to expand those "moral capabilities of the human nature."

حب الوطنی


 

Apparently a by-product of Political Economy was his essay 'National Life' (1904-5). If in his Al-Jili thesis he had expounded a description of the human being in relation to God, then 'National Life' defined the relationship of the human being with his or her surroundings.

The opening passage stated the same things that were later summed up more tersely at the opening of the 'New Year Broadcast' in the last year of his life. It can be quoted from there without risking anachronism: "The modern age prides itself on its progress in knowledge and its matchless scientific developments. No doubt, the pride is justified. Today space and time are being annihilated and man is achieving amazing successes in unveiling the secrets of nature and harnessing its forces to his own service." It is obvious although he did not say it in 'National Life' that any positive achievement to him was a manifestation of that Divine element in the human being which he had detailed in the previous thesis.

However, a human being doesn't live in isolation. People live in groups, and this leads us to the next cornerstone in Iqbal's worldview: his concept of society. Society as a voluntary association of people in the political sense does not appear in this essay. Instead, what we have here is the concept of the society as an organism – a living organism that almost springs out from the earth like plants, animals and humans. A society might be organized according to territory, as in the case of nation states like Italy (whose reformer Mazzinni was Iqbal's hero those days); or it might be organized around a race principle, as in the case of the Jews; or it could be a community of people with the same religion, as in the case of the Muslims (and a few years later he would describe Islam as a society whose membership is open to any like-minded individual). However, no matter how a society defines itself it had to face a constant struggle for existence in the nature and only those societies survived who were capable of adjusting to change – just as the giant organisms of the ice age became extinct because they could not keep pace with the changing climate, so do societies become extinct if they fail to grow with the pulse of time – "Greece, Egypt, Rome, all vanished from the face of the earth but we [the Indians] still have our name and glory; there must be something about us that has sustained us against centuries of hostile changes," he said in his famous Saray jahan say achha Hindustan hamara, printed in the same issue of Makhzan. This vision of life might sound starkly indebted to Darwin, yet Iqbal's worldview was not essentially Darwinian since it was based on the recognition of the Divine in every human being, even in those who lagged behind in the struggle for existence (he later criticized Darwin as one of the reasons for Nietzsche's lack of self-awareness).

Individuals may be called upon to make sacrifices for their community, Iqbal suggests in his essay. The justification provided here is much simpler than the one he would present in 'The Muslim Community – a Sociological Study' six years later. He just says that religion comes to the aid of the society by way of establishing sacrifice as a spiritual principle (in the later lecture he would expand this theory on a formidable cosmological scale as we shall see in the next chapter).

Interestingly enough, Iqbal used the word qawm (nation) interchangeably with society in this essay and, more significantly, the title did not refer to a homogenous Indian nation but only to the Muslim community of the sub-continent. As far as we can see, it seems highly unlikely that he subscribed to the idea of Indian nationalism as propounded by the Indian National Congress – and that should not surprise us given the influence of the Aligarh Movement on Iqbal in his early days. The common perception that Iqbal was once a staunch nationalist and later turned in the other direction (like his contemporary Jinnah), does not seem to be true and might have originated from an isolated reading of his Urdu poems of this period. Keeping these poems in a proper perspective with his prose writings it seems more plausible that despite his Aligarh bias he kept a fairly independent mind. Only five years later he said in a lecture that he was approaching the religious system of Islam strictly as a critical student (and by the religious system he could have also meant the Muslim Community in its conceptual form), and explained, "The attitude of the mind which characterizes a critical student is fundamentally different from that of the teacher and the expounder. He approaches the subject of his inquiry free form all presuppositions, and tries to understand the organic structure of a religious system, just as a biologist would study a form of life or a geologist a piece of mineral. His object is to apply methods of scientific research to religion, with a view to discover how the various elements in a given structure fit in with one another, how each factor functions individually, and how their relation with one another determines the functional value of the whole." He went on to list history, geography and ethics as some of the perspectives through which a system should be studied.

This gives us a fair picture of Iqbal's attitude towards things in a phase of life that lasted till 1913 when he eventually felt that he was ready to perpetuate a worldview of his own.

His so-called nationalist poetry coincided with aggressive protests from the Indian National Congress to the Viceroy's announcement of the impending partition of Bengal in 1904 (the partition was planned to take place the next year). A careful examination of these poems shows that they weren't addressed to the British government but rather represented his Muslim nation to the Hindu compatriots. We, the Muslims, too are patriotic, he seemed to be suggesting, and we belong to India just as much as any other people living here; Islam is as much a part of the religious and cultural heritage of India as the indigenous religions are. "O Brahmin, you estranged yourself from your kin in the name of idols; likewise, God taught war and mayhem to the preacher of Islam," he says in his poem 'A New Temple' (1905), and goes on to construct a new deity made of gold and receiving adoration from all religions (this somewhat bizarre imagery was expunged in a later revision of the poem before inclusion in The Call of the Marching Bell). "Let's label the god 'India,' and to him we should pray for fulfillment of all our deep desires," he says.

The question ignored by his commentators is this: what are these "deep desires," which must be addressed to the new idol of India and which cannot be fulfilled without its blessing? We can safely assume that Iqbal is referring to an economic revolution in the country – the idea that permeated through the entire Political Economy a while ago. Even in his 1910 lecture on the Muslim community he proposed that, despite a distinct national identity the community had to approach the economic question "in a broad impartial non-sectarian spirit." The economic forces in a region affect all communities alike, he believed.

نوجوان شاعر کی فہم


 

It would be interesting to draw a mind map of the poet in his young age from the poems surviving from 1893 to 1905. Six distinct subjects appear: (a) nature; (b) personalities; (c) parables and dialogue; (d) autobiographical anecdotes; (e) monologues; and (f) ghazals.

The strands of his thought (already discussed in this chapter) cut across all these subjects. Objects in nature are seldom described without emotional underpinning. The imagery is dynamic and invariably philosophical, often metaphysical. "O Himalaya! The Nature's hand has but created you as a playground for the elements," Iqbal says to the great mountain. "Pray tell us a tale from those early days when the first humans found a dwelling in your outskirts; tell us about that simple life unstained by the rouge of civilized pretenses." Everything in nature represents mystical secrets to him; flowers, streams, rivers and meadows may be mute to other listeners but not so to the poet. He explores their mystery, connects to the vibrations of the Divine rhythm emanating from them, and develops a wavelength with birds, bees and animals. This is an Ibn 'Arabi utilizing the mind of Wordsworth for writing verses in Urdu. Of course, the influence of the Vedantic poetry is also quite visible (and we must remember that Iqbal had some familiarity with Sanskrit and never stopped quoting from the great poets of that language).

However, it is also Iqbal, and very distinctly so: "You don't know how the thorn of unresolved problem pricks the heart," he says to 'The Colorful Flower'. Neither Ibn 'Arabi nor Wordsworth would have remembered to bring up the issues of the mind during a blissful union with nature. Iqbal's flower is also ripe with sensuous undertones: "O colorful flower! Perhaps you don't carry a heart in your bosom," is a line that could be addressed to an unmerciful dame as well.

Just like the objects of nature, the personalities in his poems also serve as mouthpieces to various thoughts and opinions. The poet's mission is to see and tell ('Ghalib'), learning is a labor of love under a worthy mentor ('The Lament of Separation,' written on Arnold's departure from India), blessed are those who suffer for the sake of love ('Bilal'), and so on. The elegy on Dagh commences Iqbal's lifelong struggle to prove life's supremacy over death. The symphony of immortality, reaching its highest note in the epic Javid Nama twenty-seven years later, begins with a soft whimper in this first of Iqbal's approved elegies: "The colors of autumn too are a reason to stay in the garden," he writes at the end of this poem (and the verse can also be translated to mean that the colors of autumn too are "part of what created the garden," or even "a source of permanence for the garden"). "The same universal law governs all: carrying the odor of the sweet flower beyond the garden gates, and the flower-gatherer beyond this world." This brand of optimism seems to be a theorizing activity by a clever mind under crushing pressures of perceived or real grief.
His qasidas, or eulogies, might also be counted among the poems centered on personalities but he included none of those in his anthology later on. Here, he followed the arrogant but loveable Persian poet Urfi, who was notorious for showing conceit even while praising superiors.

Parables and dialogue, beginning with the famous adaptation of 'The Spider and the Fly' was predominantly limited to more inspirations from English poetry but it was a genre that would eventually come to a grand finale in 'The Satan's Parliament' two years before Iqbal's death.

Autobiographical anecdotes appear in great proportion and they are refreshingly free from egotism in a poet who would otherwise become the prophet of the ego. In real life as well as in poetry he thoroughly enjoyed a good joke about himself and none of his critics ever came up with better satire on him than he himself provided in such poems like 'Piety and Sinfulness.' The poem was inspired from a puritan neighbor's criticism of contradictions in Iqbal's personality: "I hear that Iqbal is so much influenced by philosophy that he doesn't count a Hindu among non-believers anymore," the neighbor is quoted in this poem. "Nor is he averse to women of the ignoble profession, but oh that ought to be expected of our poets; I, however, fail to understand the wisdom of listening to a singing girl in the night before reciting the Holy Quran in the morning…" The pious critic goes on to fear that this crazy young philosopher might end up inventing a new religion. Iqbal's reply, appearing at the end of the poem, has now become famous: Iqbal bhi Iqbal say agah nahin hai… ("Iqbal too is not aware about Iqbal; and this is not a jest, by God it is not!"). In other autobiographical anecdotes, such as the one about his little nephew who used to gaze endlessly at the candle, the poet penetrates beneath the surface of common observation. "Why are you so amazed, O moth-like child?" Thus begins the poem 'A Child and the Candle' and goes on to state that the child's fascination with light stems out of some ancient acquaintance; the candle is naked flame while the human being is light contained in the chandelier of opaque dust.

Iqbal's monologues and dramatic monologues cover a wide range, and this manner of poetry (apparently inspired from Robert Browning) as well as his numerous prayers may also be included in this category (even 'The Complaint' written later would be, ironically, a 'prayer'; but that will be discussed in the next chapter). The dramatic monologues include one by an imaginary tombstone of Sir Syed Ahmed Khan; the opening is starkly proud and optimistic: "O you, who are living, look at the rehabilitation of this once deserted city! This indeed is the society I used to be so concerned about, so look at the fruits of my patience and perseverance. My tombstone has become fond of speech, so read its inscription with your inward eye." The commandments invisibly inscribed on the tombstone enjoin that thou shalt not turn thy back on the world, nor use thy pen and speech for creating dissentions, and so on.

Ghazal used to be the dominant genre in Urdu poetry before Hali – in other words, until the days of Iqbal's adolescence. It was still popular but Iqbal was not a ghazal-writer by temperament although not averse to the genre either. He wrote fewer ghazals than nazms ('poems') and they follow Ghalib's manner of sustaining an idea through the various couplets although the genre allows the poet to be disjointed since each couplet is supposed to be a standalone unit.

Iqbal on the eve of his departure for studies abroad was far from being the naïve, bewildered student portrayed in some biographies. By all means he was an accomplished young intellectual, aware of what he wanted to do and which direction he would like to take. From that he never swerved although he was ever quick to accept his humility before any new manifestation of truth.



اقبال اکادمی پاکستان