www.allamaiqbal.com
  bullet سرورق   bullet شخصیت bulletتصانیفِ اقبال bulletگیلری bulletکتب خانہ bulletہمارے بارے میں bulletرابطہ  

شخصیت
حیاتِ اقبال
سوانح
سنین کے آئينے میں
سوانحی مواد
کتابیات
اکثر پوچھے گئے سوالات

دوسرا باب

رُوح کی شب ِ تاریک (1905-1913)

مغرب کے ابتدائی نقوش


 

''میرا تو یہ مذہب ہے کہ جو قوم خود آزادی کی دلدادہ ہو، وہ اوروں کی آزادی کو رشک کی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتی، اور انگریزوں کی معاشرت دیکھ کر بھی میرے اس خیال کی تائید ہوتی ہے۔ '' یہ بات اقبال نے انگلستان پہنچنے کے چند ماہ بعد لکھنؤ کے ایک وطن پرست اخبار کے ایڈیٹر کو لکھی۔ وہ سودیشی تحریک پر تبصرہ کررہے تھے (سودیشی تحریک معاشی خود انحصاری کی ایک تحریک تھی جو ہندوستان میں انگریز مخالف دھڑوں نے شروع کی تھی) ۔ ''ہاں ہم لوگوں میں اس کی قابلیت ہونا ضروری ہے اور اس قابلیت کے پیدا ہونے کا سب سے بڑا سبب۔۔۔ اقتصادی قوانین کو ایک مرکز پر جمع کرنا ہے جس کی طرف خوش قسمتی سے اب اہل وطن کی توجہ ہوئی ہے۔ ''یورپی کتنے ایماندار اور کھرے ہیں، اس بات کا اندازہ تو اقبال کو بہت جلد ہوگیا مگر ہر چیز کو اس کے وسیع تناظر میں دیکھنے کا ان کا بنیادی طرزِ فکر کبھی نہ بدل سکا۔
۲۸ سال کی عمر میںجب اقبال نے پہلی مرتبہ یورپ کی سرزمین پر قدم رکھا تو وہ ان کے لیے کیا تھا؟علم کا خزانہ، عالمی قوانین کا مرکز، اور سلطنتیں کھڑی کرنے والوں کا گھر۔ اقبال کی مثال ایک ایسے ذہین شخص کی سی تھی جو یہ سمجھتا تھا کہ وہ سب کچھ جانتا ہے وہ یورپ کی تمام جہتوں کو دریافت کرنے کا پکّا ارادہ لے کر وہاں گیا تھا۔ وہ یورپی لائبریریوں اور عجائب گھروں میں قدیم و جدید تحریروں کے وسیع ذخیرے کا کھوج لگائیں گے، جن میں مسلم فکر کے نادر نسخے بھی شامل تھے، اور پھر ایران میں مابعد الطبیعاتی فکر کی ایک مربوط تاریخ کی تشکیلِ نو کریں گے: ایک ایسا موضوع جس پر ابھی تک کسی نے نہیں لکھا تھا۔ دوسرے یہ کہ وہ یورپ کی قوت کے اصل سبب اور اس کے عالمگیر قانون کا مطالعہ کرنے جارہے تھے، جس پراپنے عبورکو انھوں نے وہاں کی ایک بڑی قانونی درس گاہ لنکنز اِن سے بار ایٹ لأ کرکے ثابت کردیا (اس وقت تو ان کے ذہن میں یہی ہوگا، اور امید بھی یہی تھی، کہ یہ سرٹیفیکیٹ ان کے لیے مالی خوشحالی کی راہ ہموار کردے گا) ۔ مگر کوئی بھی قانون اس وقت تک کوئی معنی نہیں رکھتا جب تک اس کو نافذ کرنے والی قوت موجودنہ ہو۔ اوربرطانوی قانون کا نفاذ، ایک ایسی سلطنت پرجہاں سورج غروب نہیں ہوتاتھا اور یورپی تہذیب کی تمام دوسری تہذیبوں پر سیاسی برتری، یہ سب کامیاب سیاست کے کچھ اور گہرے رازوں کی طرف اشارہ کرتا نظر آتا تھا؛سلطنت کی تعمیر و ترقی کا راز جو کبھی مسلمانوں کومعلوم تھا مگر اب صرف مغرب ہی سے سیکھا جاسکتا تھا۔ مگر اس وقت اقبال کو یہ خیال بھی نہیں تھا کہ جلد ہی وہ ان تینوں کومسترد کردیں گے، یعنی علم، مروجہ قانون اور سیاست، اور غیر ارادی طور پر ان مفکرین اور سرگرم لوگوں کے گروہ کاایک ناگزیر حصہ کہلائیں گے جنھوں نے بیسویں صدی کے نصف اوّل میں انسانی نسل کی اقدار ہی بدل ڈالیں۔
ان کی زندگی میں فیصلہ کن تبدیلی کا لمحہ ان کے یورپ پہنچنے کے ڈیڑھ سال بعد آیا۔ 'مارچ ۱۹۰۷' وہ تاریخ ہے جس کے لیے وہ چاہتے تھے کہ مستقبل میں ان کے ذہن کی سوانح مرتب کرنے والا کوئی بھی شخص اسے نظر انداز نہ کرے؛انھوں نے یہ تاریخ اپنی ایک ایسی غزل کے عنوان کے طور پر لکھی ہے جسے کسی عنوان کی ضرورت نہ تھی اور بہت سے خطوط، تقاریر اور بیانات میں انھوں نے اپنے ذہن کے ایک نئے جنم کو اسی زمانے سے منسوب کیا۔ یہ خاصی عجیب بات ہے (مگر ان کے مزاج کو دیکھتے ہوئے یہ بات حیرت انگیز نہیں ہے) کہ وہ اس تاریخ کو اس قدر اہمیت دینے کے باوجود ہمیں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں بتاتے۔ اس مہینے میں دراصل کیا ہوا تھا؟انھوں نے ہمیں نہیں بتایا مگر ظاہر ہے وہ چاہتے تھے کہ ہم معلوم کریں۔ (اور ذہن کا رخ بدلنا تو بہت دور کی بات ہے کہ اسے وہ شاید زندگی کے دھارے سے بھی اہم سمجھتے تھے) ۔ اگر ان کی زندگی اورسرگرمیوں کا ایک محتاط جائزہ لیا جائے تویہ بات ممکن نظر آتی ہے کہ مارچ۱۹۰۷ سے متعلق ایک خاص بات یہ تھی کہ انھوں نے اس سوال کا جواب دریافت کرلیا تھاجو چند سال پہلے انھوں نے اپنی کتاب علم الاقتصاد میں اٹھایا تھا، جس میں انھوں نے کہاتھا کہ کیا غربت اور محتاجی کے احساس کو روئے زمین سے مٹا دینا ممکن ہوسکتا ہے اور یہ امکان نسلِ انسانی کی اخلاقی قوتوں میں مضمر ہے۔ اب انھوں نے ان اخلاقی قوتوں میں اضافے کا فارمولا دریافت کرلیا تھااور وہ تھااسلام کو سمجھنا، محض ماضی میں گم رہنے پر ایک غیر منطقی اصرار کے طور پرنہیں، بلکہ مستقبل کی جانب ایک بڑی پیش رفت کے طور پر!وہ اس آگاہی تک کیسے پہنچے ، یہ ذہن کاایک دلچسپ سفر ہے۔
''ہم فلسفیانہ مہارت کے معاملے میں ہندو کی بالا دستی کو تسلیم کرتے ہیں، ''انھوں نے سات سال پہلے الجیلی پر اپنے مقالے میں کہا تھا، ''عربوں کی اسلام کے بعد کی تاریخ شاندار جنگی فتوحات کا ایک طویل سلسلہ ہے، جس نے ان کو ایک ایسا طرزِ زندگی اپنانے پر مجبور کردیا جس میں سائنس اور فلسفہ جیسے حسّاس میدان میں فتوحات کرنے کے لیے ان کے پاس بہت کم وقت بچتا تھا۔ انھوں نے کاپلا اور شنکر اچاریہ جیسے لوگ پیدا نہیں کیے، اور وہ کر بھی نہیں سکتے تھے، مگر انھوں نے سائنس کی راکھ ہوتی ہوئی عمارت کی بہت شاندار طریقے سے تعمیرِ نو کی، بلکہ اس میں نئی منزلوں کا اضافہ بھی کیا۔'' یہ احساسِ کمتری ان کے مقالہ'ایران میں مابعدالطبیعات کا ارتقائ' میں کہیں نظر نہیں آتا (جو کہ فروری ۱۹۰۷ میں مکمل ہوا اور ۷مارچ کو ٹرینٹی کالج میں جمع کرایا گیا) ۔ اٹھارہ مہینوں تک مسلمان فلسفیوں اور سائنسدانوں کے اصل کام کا مطالعہ کرنے سے ان کو معلوم ہوا کہ مسلمان عظیم مفکر بھی رہ چکے ہیں!اقبال کے زمانے سے لے کر اب تک جدید سائنس کی ترقی میں مسلمان سائنسدانوں کے کردار کو نہ صرف مانا جاچکا ہے بلکہ مسلم دنیا میں اسے کبھی کبھی اتنا بڑھا چڑھا کر بھی پیش کیا جاتا ہے کہ ماضی کے ان عظیم ذہنوں کی تازگی ہی ختم ہوکر رہ جاتی ہے۔ لہٰذا ہمارے لیے یہ اندازہ کرنا خاصا مشکل ہے کہ اقبال نے اس دریافت پر کیا محسوس کیا ہوگا جب انھیں پہلی مرتبہ ان باتوں کا ثبوت ملا ہوگا جن کی طرف جسٹس امیر علی نے اپنی کتاب 'روحِ اسلام' کی دوسری جلد میں ، اور شبلی نعمانی نے اپنے کچھ مقالوں میں تفصیلی یا اجمالی اشارے کیے تھے۔ ان دونوں عظیم تاریخ دانوں نے مغربی فلسفے میں کوئی ضابطہ قسم کی اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کی تھی لہٰذا اب یہ اقبال کی ذمہ داری تھی کہ وہ قدیم مسلم فکر کے اصل معنیٰ تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ وہ اب یہ جان چکے تھے کہ مسلم مفکرین نے سائنس اور فلسفے کے کسی پہلے سے موجود، ذخیرے کی ترتیبِ نو نہیں کی تھی؛ بلکہ انھوں نے توفکر کی ایک بالکل نئی، شاندار اور پُرشکوہ عمارت تعمیر کی تھی۔ قدیم یونانی تخیّلات، جو تجربی روح سے یکسر خالی تھے، کبھی جدیدیورپی تہذیب کی بنیاد فراہم نہیں کرسکتے تھے اگر ان میں عظیم مسلم ذہنوں کے افکار شامل نہ ہوتے۔ اسلام دراصل مادّہ اور روح کی ثنویت کے خلاف ہے (یا کم از کم اقبال نے اس کو اسی طرح سمجھاتھا) اور اسی لیے مسلم مفکرین انسانی فکر کی ان قوتوں کو دریافت کرنے میں ناکام رہے تھے جو ابھی تک معلوم نہیں کی جاسکیں۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ انسانی فکر کی عظمت کے اس بیان کے اندر ہی اس کی تردید بھی موجود ہے۔ اگر انسانی ذہن وحیِ الٰہی سے وابستہ ہوکر اپنی اصل قوت کو ہی جان لے تو فکر کے ثمرات حاصل کرنے کے لیے اسے خود سے ماورا ہونا پڑے گا۔ اقبال کے اندر کا صوفی انھیں بتاتا تھا کہ اصل معاملہ یہی ہے۔
وحی کے فکری ثمرات پر اقبال کو جو نیا اعتماد حاصل ہوا تھا، اس نے یقینا ان کو یہ احساس بھی دلایا کہ جدیدقانون سے بہتر قانونی نظام بھی ممکن ہے اور یہی وجہ ہے کہ اپنی فکری اور قانونی روایت کی تشکیلِ نو ان کی بعد کی زندگی میں ایک مرکزی حیثیت اختیار کرگئی۔ ان دنوںمیں بھی برطانوی قانون کا مطالعہ کرتے ہوئے، اسلامی قانون کی برتری کا خیال یقینا ان پر حاوی رہا ہوگامگر وہ اسلامی قانون نہیں جو فقہ کی قدیم کتب میں ملتا ہے اور جو قرونِ وسطیٰ کے حکمرانوں کی مرضی کے مطابق مسخ کیا جاتا رہا، بلکہ وہ قانون جس کا بیج قرآن کے اندر موجود ہے اور جوابھی تک دریافت نہیں کیا گیا (بعد میں انھوں نے ایک سے زیادہ مواقع پر کہا: ''اسلام کی اصل قوت کو ابھی تک دریافت نہیں کیا گیا'') ۔ اسلام کا یہ غیر دریافت شدہ قانون ان بہت سی متبادل دنیاؤں میں سے ایک ہے جو قرآن ہمارے لیے پیش کرتا ہے اور یہ خیال بے حد پُرجوش کردینے والا تھا (ایک متبادل دنیا کا تصور خواہ وہ کیسی ہو، زندگی کے کسی لمحے میں بھی اقبال کے اندر بے حد گہرے جذبات بیدار کرسکتا تھا)۔
اور پھر مغرب کی سیاسی برتری کا چیلنج بھی تھا۔ اس سے نمٹنا نسبتہً آسان تھا، کیونکہ اپنے الجیلی کے مقالہ والے دنوں میں بھی وہ از منہ وسطیٰ کے مسلمانوں کی فوجی اور شاہی فتوحات پر فخر کیا کرتے تھے۔ مگر اب، انھوں نے خود مغربی تہذیب کی طاقت کے اندر چھپی کمزوری کو جان لیا تھا:اس نے زندگی کے مادّی پہلووں پر تسلط جمانے کے شوق میں اس کے روحانی پہلوؤں کو نظر انداز کردیا تھا۔ اپنی 'مارچ ۱۹۰۷' کے عنوان والی غزل میں وہ کہتے ہیں:

دیارِ مغرب کے رہنے والو!خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زرِ کم عیار ہوگا!
اور اسی نظم میں وہ کہتے ہیں:
نکل کے صحرا سے جس نے روماؔ کی سلطنت کو الٹ دیا تھا<
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا

مغربی تہذیب پر یہ تنقید اور کمزور قوموں کے استحصال کے خلاف یہ احتجاج، ان کے اندر ایک ذہنی تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں۔۔۔ ایک سال پہلے تک وہ برطانوی حکمرانوں کی فطری انصاف پسندی پر اتنا محکم یقین رکھتے تھے کہ انھوں نے ہندوستان کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے مخالفین کے خلاف انگریز کی حمایت کا خطرہ تک مول لے لیا تھا۔ ایسے مضبوط یقین سے دستبردار ہونا اکثر جذباتی طورپر ایک بھرپورتوانائی اور آزادی کا ایک سحر انگیز احساس بخشتا ہے۔ ایک ایسے شخص کے لیے جو سیالکوٹ جیسے چھوٹے شہر میںایک غیر قوم کی غلامی کے دنوں میں پیدا ہوا ہو، یہ تجربہ اپنے سیاسی افتخار کو دوبارہ پالینے کا ایک ایسا عظیم احساس تھا جسے شاید سرسید بھی نہ سمجھ سکتے (جن کے انتقال کواس وقت نو سال ہوچکے تھے) ۔ جس چیز نے مارچ ۱۹۰۷ کواقبال کے لیے اتنا اہم بنا دیااور ان کی نفسیاتی تشکیلِ نو کا سلسلہ شروع کردیا، وہ کسی دوسرے شخص سے ملاقات نہیںبلکہ خود ان کی اپنی ذات کی دریافت تھی۔

کیمبرج، ہائڈلبرگ اور میونخ


 

ایک عام خیال یہ ہے کہ مغرب میں تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے مغربی فلاسفہ کے خیالات اقبال پر اثر انداز ہوگئے، مگر ایسا نہیں تھا۔ کیمبرج میں ان کی تحقیق کے میدان میں مغربی فلسفہ محض موازنے کی حد تک شامل تھا، خالص فلسفہ شامل نہ تھا۔ جرمنی سے ان کی پی ایچ ڈی تو شعبۂ فلسفہ سے جاری نہیں کی گئی تھی (حالانکہ انھوں نے اسی کے لیے درخواست دی تھی) ، بلکہ تکنیکی اعتبار سے شعبۂ عربی سے ملی۔ مغربی فلاسفہ سے اقبال کی واقفیت، قطع نظر اُس سے جو لاہور میں اپنی ابتدائی تعلیم (یا بعد میں وہاں اپنی تدریسی ذمہ داریوں) کے دوران انھیں حاصل ہوئی، زیادہ تر غیر نصابی نوعیت کی تھی یعنی جو کچھ انھوں نے اپنی دلچسپی سے پڑھامگر ہم ان کے مطالعے کے زمانے کی نشاندہی بہت صحیح طرح سے نہیں کرسکتے۔ البتہ ان کا نگران ڈاکٹر میک ٹیگرٹ، کانٹ اور ہیگل کے فلسفے کا ماہر سمجھا جاتا تھا، اور اقبال اس کے لیکچرز سنا کرتے تھے۔ بعد ازاں انھوں نے ان دونوں فلسفیوں کو رد کردیا کیونکہ ان کے نظریات ان کے اپنے نقطۂ نظر سے بہت الگ تھے۔ لہٰذا یہ کہنا بالکل غلط ہوگا کہ اقبال کی مابعدالطبیعیات کی حدود کانٹ کی متعین کردہ ہیں۔ بلکہ ایسا لگتا ہے کہ وہ چند محققین جواس قسم کی مماثلتیںپیش کرتے ہیں انھوں نے بھی ایسا محض اس لیے کیا ہے تاکہ وہ کانٹ اور ہیگل کے گاڑھے فلسفہ سے اپنی واقفیت دکھا سکیں۔ خدا کے وجود کے منطقی اثبات کے خلاف کانٹ کے دلائل میں وزن ہے (اور اقبال نے ان کا اچھا خاصا استعمال بھی کیا ہے) ، مگر کانٹ کی طرف ان کا رویہ مربیانہ قسم کا ہے۔ ان کے نزدیک عقلِ محض کاناقد کانٹ، یہ جاننے میں ناکام ہوگیا کہ فکر خود بھی اس حقیقت کا جُز ہے جس کو یہ سمجھنا اور پانا چاہ رہی ہے؛کانٹ اور اقبال کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ کانٹ کے مطابق خدا کے وجود کوعقلی اعتبار سے تو ثابت نہیں کیا جاسکتا مگر ہمارا عمل اسے ثابت کرسکتاہے۔ خداکا وجود ہمارے اخلاقی عمل کی بنیاد ہے اور ہم عقلِ محض کے ذریعے نہیں بلکہ اخلاقی فلسفہ کے ایک لازمی مفروضہ کے طور پر خدا کو ثابت کرسکتے ہیں۔ جبکہ اقبال کے نزدیک روحانی تجربہ کا عقلی تجزیہ ممکن ہے۔
اضداد کی وکالت کرنے والے ہیگل کے بارے میں اقبال نے لکھا :''ہیگل کی انفرادی لافانیت سے بے توجہی نے کسی نہ کسی حد تک اس سے متاثر ہونے والے تمام لوگوںپرہی اپنا اثر ڈالا ہے، '' اور ظاہر ہے اقبال ان میں سے نہیں ہوسکتے تھے۔ انھوں نے ہیگل اور اکبر الہٰ آبادی کے نظریات کا جو طویل موازنہ کیا ہے اس سے یہ مطلب ہرگز نہیں لینا چاہیے کہ وہ اس جرمن فلسفی کا دفاع کرنا چاہ رہے تھے، اقبال کو تنوع سے جو لگاؤ تھا، اُس کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے اعتقادات کے بالکل برعکس خیالات کی بھی زبردست توصیف کرسکتے تھے، جیسا کہ بطور مثال ۱۹۳۰ء تک احمدیہ تحریک کی حمایت میں اُن کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے۔ شروع میں انھوں نے ہیگل کے بعض نظریات کی تعریف بھی کی مگر بعد میں پیامِ مشرق اور دوسری جگہوں پر انھوں نے ا س پر کڑی تنقید کی ، یہاں تک کہ انھوں نے اس کے نظام ِ فلسفہ کو محض ایک وہم و خیال اور ''گہر سے خالی'' صدف قرار دیا۔ البتہ ایک تصور ایسا ہے جس پر اقبال کا یقین آخر تک برقرار رہا، اور جو ہیگل کی ''فرد کی لافانیت سے بے پرواہی'' کے ساتھ ایک مسلمان کا سمجھوتہ زیادہ نظر آتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں (کم از کم ۱۹۱۰ اور اس کے بعد) کہ فرد کی لافانیت کے معاملے کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انسان کو خود کو اس کا اہل ثابت کرنا ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، انسانی روح کا موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونا یا نہ ہونا اس بات پر منحصر ہے کہ اس کی خودی کتنی مضبوط یا کمزور ہے۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ شیخ احمد سرہندی (مجدّد الف ثانی) نے بھی کچھ روحوں کے فنا ہوجانے کی بات کی تھی اگرچہ ایک بالکل مختلف حوالے سے۔
اقبال کا یہ نظریہ میک ٹیگرٹ کے نظریات سے بنیادی طور پر مختلف تھا۔ اقبال کا یہ ملحد نگران انفرادی خودی کی مکمل لافانیت پر یقین رکھتا تھا، زمان و مکان کو غیر حقیقی سمجھتا تھا، البتہ اس بارے میں وہ زیادہ واضح نہیں تھا کہ عمل اور محبت میں سے کس کو فوقیت حاصل ہے۔ اقبال کو اس سے کتنا جذباتی لگاؤ تھا، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وقت کی حقیقت سے متعلق ان کے ایک مقالے پر جب میک ٹیگرٹ نے سخت تنقید کی تو انھوں نے بددل ہوکر اس کا مسّودہ ہی تلف کر ڈالا۔ اقبال کاموقف تھاکہ زمان ِ مطلق، دوری زمان سے مختلف ہے؛ہماری سوچنے والی ذات زمانِ مطلق سے تعلق رکھتی ہے جبکہ ہماری فعّال ذات دوری زمان میں اپنا وجود رکھتی ہے۔
مغربی فلسفہ کی طرف اقبال کے رویہ کی مثال اس عاشق کی قلب ماہیئت جیسی ہے جو پہلی نظر میں ایک خوبصورت چہرے کی طرف کھنچتا ہے مگر پھر جلد ہی اس کے پیچھے چُھپے وجود سے بیزارہوکر آگے بڑھ جاتا ہے۔

عطیہ فیضی


 

وہ ملاقات جس نے ایک طویل عرصے سے کچھ سوانح نگاروں کو بیحد مسحور کیا ہوا ہے (اور ان میں سے بعض کو غلط فہمی میں بھی مبتلا کیا ہے) ، یکم اپریل ۱۹۰۷ کو لندن میں ہوئی۔ عطیہ فیضی نے اقبال سے اپنی ملاقات کا جو ذکر کیا ہے، اس میں ہمیں کسی حد تک ایک ہلکے سے لگاؤ کا تاثر تو ملتا ہے مگر بہت جلد اس کی جگہ ایک پائیدار اور بے غرض دوستی نے لے لی۔
''مس بیک (اس پارٹی کی میزبان جہاں یہ ملاقات ہوئی) نے ان کے آنے سے پہلے مجھے یہ تاثر دیا تھا کہ وہ خاص طور پر مجھ سے ملنا چاہتے ہیں، اور صاف گو اور بے باک ہونے کی وجہ سے میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھ لی، ''مس فیضی نے اپنی کتاب اقبالمیں لکھا، جو اقبال کی وفات کے نو سال بعد شایع ہوئی۔ ''ان کی گہری آنکھوں سے یہ واضح نہیں ہوتا تھا کہ وہ طنز کررہے ہیں یا تعریف ، جب انھوں نے کہا، 'آپ ہندوستان اور لندن میں اپنی سفری ڈائری کی وجہ سے بہت مشہور ہیں اور اسی وجہ سے میں آپ سے ملنے کے لیے بے تاب تھا۔ ''میں نے کہا :''میں یہ ماننے کو تیار نہیں ہوں کہ آپ نے کیمبرج سے یہاں تک آنے کی تکلیف محض اس لیے اُٹھائی ہے کہ میری تعریف کرسکیں، مگر اس مذاق سے قطع نظر، اس مقصد کے پیچھے اصل خیال کیا تھا؟''وہ میری اس غیر متوقع صاف گوئی پر قدرے حیران ہوئے، اور کہا، ''میں آپ کو مسٹر اور مسز سید علی بلگرامی کی طرف سے ان کے مہمان کے طور پر کیمبرج آنے کی دعوت دینے آیا ہوں، اور میرا مشن یہ ہے کہ میں ہر صورت آپ کی منظوری ان تک پہنچاؤں۔ اگر آپ نے انکار کردیا تو آپ مجھے ناکامی کا داغ دیں گی جو میں نے کبھی قبول نہیں کیا، اور اگرآپ اس دعوت کو قبول کرلیتی ہیں تویہ میزبانوں کی عزت افزائی ہوگی۔ ''
اقبال کی درخواست قبول ہوئی اور مسز فیضی اُن کے ہمراہ لندن سے کیمبرج گئیں، عشائیہ ہوا۔ بعد میں ٹی پارٹی کا اہتمام ہوا۔ مسز فیضی نے عشائیہ کے پُرلطف اور عمدہ حسنِ انتظام کی تعریف کی تو اُس کے جواب میں اقبال نے وہ جُملہ کہا جو اُن کی شخصیت کے حوالے سے، زبان زدِ عام ہوچکا ہے، ''میری ایک شخصیت کے اندر دوشخصیتیںچھپی ہوئی ہیں، باہر کی شخصیت عملی اور کاروباری ہے اور باطن میں ایک خواب دیکھنے والے، فلسفی اور صوفی کی ۔ ''
یہ عشائیہ، بہرحال، کوئی بہت ذاتی نوعیت کا نہیں تھااور بعض دوسرے مہمانوںکو بھی مدعو گیا تھا، جن کو اقبال نے مس فیضی سے 'جرمن اسکالرز ' کہہ کر متعارف کروایا تھا لیکن کیا خبر کہ وہ محض خراب تلفّظ والے کچھ گورے ہوںکیونکہ شرارت اور شگفتہ جملے بازی میں اقبال ہمیشہ مشہور رہے تھے اورہوسکتا ہے کہ تعارف کا یہ انداز بھی عطیہ فیضی کے ساتھ ایک ہلکے پھلکے مذاق کا حصہ ہو؛ اقبال کی علمی سرگرمیوں سے متعلق بیانات اور عطیہ کی خودنوشت سوانح میں درج بے ربط باتیں، ایسی بہت سی واقعاتی غلطیوں سے بھری پڑی ہیں، جو تب ہی ممکن ہیں جب اقبال جان بوجھ کر غلط بیانات دینا چاہیں یا پھر عطیہ کی یادداشت غیر معمولی حد تک کمزور ہو۔
غالب امکان یہی ہے کہ عطیہ ہی وہ دوست ہوسکتی ہیں جن کا غائبانہ تذکرہ شیخ عبدالقادر نے بانگِ درا کے پیش لفظ میں کیا ہے کہ انھوں نے اقبال سے فارسی میں کچھ لکھنے کوکہا۔ اقبال نے عطیہ کو ان کی کیمبرج سے واپسی کے اگلے دن ہی کچھ غزلیں بھیجی تھیں، مگرانھوں نے بعد میں اپنی شاہکار نظموں کے لیے جب فارسی زبان کا انتخاب کیا تو اس کے پیچھے عطیہ یا کیمبرج کا کوئی اور دوست نہیں تھا بلکہ اس کی وجوہ کچھ اور تھیں۔ انھوں نے اس سے پہلے بھی فارسی میں لکھا تھا، اور جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے، انھوں نے اس موقع پر عطیہ کو بھیجی گئی ان نظموں کے بعد چار سال تک فارسی میں کچھ نہیں لکھا تھا۔
ایک بات البتہ یقین سے کہی جاسکتی ہے، اگر اپنی پہلی شادی سے غیر مطمئن ہونے کی وجہ سے وہ دوسری بیوی تلاش کربھی رہے ہوتے، یااگر عطیہ اپنی زندگی کے اس موڑ پر گھر بسانے کے بارے میں سوچ بھی رہی ہوتیں، تب بھی وہ دونوں کسی طرح بھی ایک دوسرے کے لیے مناسب جوڑا نہیں تھے اور وہ دونوں ہی اس بات کو جانتے تھے۔ ایک لطیف حسِ مزاح رکھنے کے باوجود، اقبال کی محض موجودگی ہی سے عطیہ شدید تناؤ کا شکار ہوجاتی تھی ''انھیں ایک عظیم اسکالر ہونے سے پہلے اپنے مرد ہونے پر ناز تھا۔ اور وہ اس کیفیت سے باہر نہیں نکل سکتے تھے، ''عطیہ نے ایک مضمون میں لکھا جو ۱۹۶۷ میں ان کی وفات کے بعد شایع ہوا۔ ''اقبال کے بارے میں میرا پہلا تاثر یہ تھا کہ وہ ایک 'پیچیدہ' شخصیت ہیں:خیر اور شر کا مجموعہ، انتہائی خود پرست اور اپنی رائے کوبے حد اہمیت دینے والے۔ یہ ایک بُری علامت ہے، میں نے خود سے کہا تھا!''ایک دوسری جگہ پر انھوں نے اقبال کو ایک میل شاوِنسٹ کہا جو عورت کو ایک طرح کی ناگزیر برائی سمجھتا ہے۔ دوسری طرف اقبال کو بمبئی کی یہ آزاد خیال خاتون یقینا خاصی بے باک نظر آئی ہوں گی۔ اگر اقبال کی پہلی شادی ان کی بیوی کے اونچے مزاج اور سماجی برتری کی وجہ سے نہ چل سکی تو اس دوسر ی خاتون سے شادی کا خیال جو پہلی سیکہیں زیادہ نازک مزاج اور باقاعدہ طبقۂ اشرافیہ سے تعلق رکھتی تھیں، اقبال کے لیے اتنا ہی بیزار کُن رہا ہوگاجتنا کہ ان کا ''اپنی ہی رائے کو''فوقیت دینے والا مزاج عطیہ کو ان سے دور کرنے کا سبب بنا۔ بہرحال، وقت گزرنے کے کے ساتھ وہ ایک دوسرے کے اچھے دوست بن گئے جو ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح سمجھتے تھے۔

ایماویگے ناسٹ


 

البتہ ایماویگے ناسٹ کا معاملہ کچھ اور تھا۔ ''گھریلو بندھنوں کی جتنی شائق جرمن عورتیں ہوتی ہیں، انگریز عورتیں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتیں، ''اقبال اکثر شام کی محفلوں میں یہ کہا کرتے تھے، اور ایما ایک جرمن عورت تھیں۔
اقبال ان سے ۱۹۰۷ کے موسمِ گرما میں ہائیڈل برگ میں اپنے مختصر قیام کے دوران ملے تھے۔ وہ ایک طرح کی لینگوئج کوچ تھیں (اور یونیورسٹی کی استاد نہیں تھیں جیسا کہ عطیہ فیضی نے غلطی سے سمجھ لیا تھا جو کہ اس دوران ہائیڈل برگ آئی تھیں) ۔ ان کو ۱۹۸۰ کی دِہائی تک اقبال کی سوانح عمریوں میں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ اس دہائی میں ایک پاکستانی تحقیقی سیاح نے اقبال کے ان خطوط کو شایع کروایا جو انھوں نے ایما کو لکھے تھے۔ اس سیاح نے بعد میں ایما کے خاندان کے بارے میں معلومات بھی اکٹھا کیں (ایما نے خود ساٹھ کی دہائی کے اوائل میں، اپنی وفات سے کچھ پہلے، اصل خطوط ''پاک۔ جرمن فورم'' کے حوالے کرددیے تھے اس کے بعد ایما کی کوئی خیر خبر معلوم نہ ہوئی)۔ اقبال کے خطوط کے جو جواب ایما نے لکھے، وہ سب اقبال نے دوسرے اورنجی خطوط کے ہمراہ، اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل تلف کردیے تھے۔
جو یک طرفہ خط و کتابت ہمارے پاس محفوظ رہ گئی ہے اس سے ہم یہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اقبال ایما کے لیے کسی حد تک ایک جذباتی وابستگی محسوس کرتے تھے۔ ایما کے اہل خاندان سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ وہ ۱۹۰۷ کے لگ بھگ ہندوستان جانا چاہتی تھیں مگر ان کے بھائی نے انھیں روک دیا تھا۔ ''میں جرمن زبان بھول چکا ہوں، ''اقبال نے ہندوستان واپس آنے کے کچھ عرصے بعد انھیں لکھا، ''سوائے ایک لفظ کے:ایما!''
اپنی تعلیم ختم کرنے کے بعد ہندوستان واپس آتے ہوئے پیرس میں کسی کام کی وجہ سے وہ جرمنی میں نہ رک سکے، اور ۱۹۳۰ کی دہائی میں دوبار یورپ کا سفر کرنے کے باوجود وہ پھر کبھی جرمنی نہ جاسکے، نہ ہی ہائیڈل برگ میں گزرے ان چند خوشگوار دنوں کے بعد وہ ایما سے کبھی دوبارہ مل سکے۔ بہت ممکن ہے کہ ایما ہی اقبال کی ان اثر انگیز رومانوی نظموں کا محرک رہی ہوںجو انھوں نے اپنے یورپ کے قیام کے دوران لکھیں، اور جنھیں کبھی غلطی سے عطیہ فیضی سے منسوب سمجھ لیا گیا تھا۔ بہر صورت، ایک صدی قبل کے جرمن رومانویت پسندوں کے اقبال پر نمایاں اثرکو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا:ان کے تصورات سے اقبال کی واقفیت اپنے جرمنی کے قیام کے دوران ہوئی۔ ''ہماری روح خود کو اُس وقت دریافت کرتی ہے جب ہم کسی عظیم ذہن کا سامنا کرتے ہیں، ''تین سال بعد اقبال نے لکھا، ''جب تک میں نے گوئٹے کے تخیل کی لامحدودیت کو نہیں جانا تھا، تب تک مجھے اپنے محدود سانس کا علم نہیں ہوا تھا۔ ''





Changing attitudes towards poetry


شاعری سے محبت اور شاعروں کو حقارت کی نظر سے دیکھنے والے معاشرے کی اس سے بڑھ کر کیا مثال ہوسکتی ہے کہ ایک ایسے شاعر نے جو اپنے دور کا عظیم ترین شاعر تھا، زندگی کے ایک مقام پر اپنی بہتری کے لیے شاعری چھوڑدینے کا فیصلہ کرلیا، حتیّٰ کہ اپنے جذبات کے شدید اور فطری بہاؤ کے آگے بھی بند باندھ دیا۔ خوش قسمتی سے یہ تبدیلی ایک ایسے وقت میں آئی جب وہ اس معاشرے سے دور تھے جہاں کے نظریات شاید ان کے فیصلہ کی توثیق کردیتے، مگر یہ معاملہ پروفیسر آرنلڈ کے علم میں آگیا، جنھوں نے لندن میں ایک بار پھر اقبال کے مصلح اور بہترین مشیر کی جگہ سنبھال لی تھی۔ اقبال کو غیر یقینی کی اس کیفیت سے نکالنے کے لیے آرنلڈنے ان کو قائل کیا کہ ان کا فن تو ان کی قوم کے لیے ایک نعمت ہے اور ان کی شاعری تو معجزے دکھا سکتی ہے۔
سر عبدالقادرنے، جنھوں نے اس واقعے کو بیان کیا ہے، اسے جتنی اہمیت دی ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اقبال کے ذہنی سفر کا ایک اور سنگِ میل تھا۔ انھیں بحیثیت ایک مفکر کے، اپنے کردار کا زیادہ شدت سے احساس رہنے لگا تھا اور وہ اسے اپنی ذمہ داری سمجھنے لگے تھے کہ اپنی شاعری کوبنیادی طور پر لوگوں کے مسائل کا حل بیان کرنے کے لیے استعمال کریں۔ یورپ سے واپسی کے ڈھائی سال بعد تک وہ خود کو کسی بھی قسم کا شاعر کہلوانا پسند نہیں کرتے تھے حالانکہ وہ ہر مہینہ ایک بلند پایہ نظم کہنے سے خود کو نہیں روک سکتے تھے جس میں زیادہ تر اسلامی تصورات کا اظہار ہوتا تھا، اسی بے مثل اور سحر انگیز انداز میں جو اُن کا خاصا تھا۔ البتہ ان کی اصل توجہ قانون کی پریکٹس پر رہی جو ان کی زندگی کا وہ شعبہ تھا جس میں ان کا مطالعہ ہمیشہ سب سے کم رہا۔ گو کہ یہ پروفیشن ان کے مزاج سے میل نہیں کھاتا تھا مگر اپنی سخت کوشی کی عادت کی بدولت، جو صرف ایک وکٹورین ہی میں ہوسکتی تھی (اور اقبال کچھ معاملات میں بے حد وکٹورین تھے) ، ایسا نظر آتا ہے کہ وہ اس میں بھی کسی حد تک کامیاب رہے تھے، اور یہ تاثر غلط ہے جو ان کے مخالفین نے پھیلایا ہے اور جس کو جسٹس شادی لال کے اس جملے نے شہرت دی، جو انھوں نے ۱۹۲۰ کی دہائی میںاقبال کو لاہور ہائی کورٹ بینچ کے امیدوار کے طور پر نااہل قرار دیتے ہوئے کہا تھا، ''ہم ان کو ایک شاعر کے طور پر جانتے ہیں مگر ایک وکیل کے طور پر نہیں۔ ''
اس دوران ان کی فطرت نے انہیںنئی دنیائیں دریافت کرنے پر اکسایا اور وہ نثر کی طرف متوجہ ہوگئے۔

مشکل وقت


۱۹۰۸ سے ۱۹۱۳ تک کے عرصے کو ان کے تمام سوانح نگاروں نے ان کے اپنے بیان کے مطابق، ان کی زندگی کا تاریک دور قرار دیا ہے۔ ان کا اپنی پہلی بیوی سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ، اس فیصلے پر شروع شروع میں ان کے خاندان کی مخالفت ، یا سردار بیگم سے شادی کے بعد وقتی غلط فہمیاں، یہ سب اُن کے اندوہ کے آثار ہیں، مگر ان کی حیثیت چند اجزا کی سی ہے، اصل حقیقت کی پوری تصویر بنانے کے لیے کچھ اور اجزا بھی شامل کرنا ہوں گے۔
انسان پسندی کا مطلب انسانی زندگی سے خدا کے وجود کو یکسر نکال دینا بھی ہوسکتا ہے، اور انہی معنوں میں اقبال اس کو ناپسند کرتے ہیں۔ ورنہ اس اصطلاح کا بنیادی مقصدتو یہ ہے کہ خالص انسانی معاملات پر توجہ مرکوز کی جائے، اور اس لحاظ سے اقبال مسلم دنیا میں انسان پسندی کے 'جنم'یا اقبال کے الفاظ میں ''دوسرے جنم''کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ''صدیوں سے مشرقی ذہن اور عقل اس سوال میں الجھی ہوئی تھی:کیا خدا کا وجود ہے؟''انھوں نے اپنی ذاتی نوٹ بک Stray Reflectionsمیں لکھا، جسے ۱۹۱۰ میں وہ اپنے ساتھ رکھتے تھے، ''میں ایک نیا سوال اٹھانے کی تجویز پیش کرتا ہوں-نیا کا مطلب مشرق کے لیے نیا-کیا انسان کا وجود ہے؟''
یہ سوال ان کے اپنے لیے بھی نیا تھااور یہی مشکل تھی۔ ہر سفر کے نقطۂ آغاز پر منزل کی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس کے فاصلے پر بھی غور کیا جاتا ہے۔ جو لوگ خدا کو اپنے باطن میں دریافت کرنے کا ارادہ کرتے ہیں، کبھی کبھی ان کے لیے یہ سمجھنا بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ انسان خدا سے کتنا 'مختلف'ہے تاکہ وہ اپنے ہی ذہن کی کسی پرچھائیں کو حقیقتِ مطلق سمجھنے کی غلطی نہ کر بیٹھیں۔ اس کا نتیجہ ایک وقتی تشکیک پسندی کی صورت میں نکلتا ہے۔ ''میرے دوست مجھ سے پوچھتے ہیں، ''کیا تم خدا کے وجود پر یقین رکھتے ہو؟''اقبال اسی نوٹ بک میں لکھتے ہیں۔ ''میرا خیال ہے کہ جواب دینے سے پہلے میں اس سوال میں موجود اصطلاحات کے معنیٰ جاننے کا حق رکھتا ہوں۔ میرے دوست تو اُنھیں اس بات کی وضاحت کرنا ہوگی کہ وہ 'یقین'، 'وجود'، اور 'خدا' کے کیا معنی لیتے ہیں، خاص طور آخری دو کے ، اگر اپنے سوال کا کوئی جواب چاہتے ہیں۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں ان اصطلاحات کو نہیں سمجھتا؛اور جب کبھی میں نے ان سے جرح کی تو مجھے اندازہ ہوا کہ وہ خود بھی ان کو نہیں سمجھتے۔ ''
اپنی فکر کے اس دور کے تین نثر پاروں میں وہ اسلام، رسول اللہ ، شریعت، ملتِ اسلامیہ اور ایک عظیم شخصیت کی ضرورت کے بارے میں تو بات کرتے ہیں مگر یہ نہیں بتاتے کہ چیزوں کی اس ترتیب میں خداکا اگر کوئی کردار ہے تو وہ کیاہے۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کیونکہ ان تحریروں میں اقبال نے دنیا کے بارے میں جو نظریہ پیش کیا ہے اس میں خدا کا مخصوص کردارہمیں قوم کے تصور میں جھلکتا نظر آتا ہے۔ اس کا ازالہ انھوں نے تین سال بعد کیا جب وہ 'اسرارِ خودی'لکھنے بیٹھے (جس کا تفصیلی تذکرہ اگلے باب میں ہوگا) ۔
اقبال کے مضمون 'ملتِ اسلامیہ پر ایک عمرانی نظر' میں معاشرے سے بہت سی ایسی صفات بھی منسوب کی گئی ہیں جو اسلام کی صوفیانہ روایات میں صرف خدا کے لیے مخصوص ہیں۔ مثال کے طور پر، معاشرے کو یہاں ایک حقیقی وجود قرار دیا گیا ہے اور افراد ان خرد حیاتیاتی جانداروں کی طرح ہیں جو ایک جسم کے اندر رہتے ہیںاور اس سے باہر اپنے طور پر زندہ نہیں رہ سکتے۔ انھوں نے ''ایک حالیہ حیاتیاتی تحقیق''کا حوالہ دیا ہے جس نے یہ ثابت کیا ہے کہ افراد کی زندگی کا دورانیہ بھی اجتماعی وجود کی ضروریات کے مطابق ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنی معلومات کے مآخذ کا حوالہ نہیں دیا، اگر واقعی تھا تو، مگر تقریباً ایک سال بعد یہی تصور ان کی نظم'شمع اور شاعر' کے اس مشہور شعر میں دوبارہ نظر آیا:

فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

تصوف میں عام طور پر اتنی لامحدود قوت معاشرہ سے منسوب نہیں کی گئی تھی بلکہ ایسی قوت کو خدا سے منسوب کیا جاتا تھا۔
اسی مضمون میں انھوں نے کہا:''معاشرہ اپنا ایک شعور، ارادہ اورذہن رکھتا ہے، یا اس کی کوشش کرتا ہے، ''اور یہ کہ انفرادی ذہن ایسی گزرگاہ کے سوا کچھ نہیں ہے جس میں سے معاشرے کی 'ذہنی رو'بہتی ہے، اور اسی لیے ''انفرادی ذہن کبھی اپنی شعوری حالتوں سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہوتا۔ ''یہاں بھی ہمیںمعاشرہ اور فرد کے درمیان وہی تعلق نظر آتا ہے جو اس سے پہلے صرف انسان کے محدود شعور اور خدا کے مطلق علم کے درمیان قائم قرار دیا جاتا تھا (مگر اقبال کے ہاں ایک تھوڑا سا فرق یہ نظر آتا ہے کہ ان کے نزدیک انفرادی ذہن کے کچھ خیالات معاشرے کے احساس کی حد سے نیچے بھی رہ جاتے ہیں) ۔
اسی ''حالیہ حیاتیاتی تحقیق'' نے، اقبال کے مطابق، یہ بھی بتایا کہ ''کامیاب گروہی زندگی میں ہمیشہ مستقبل ہی حال کو اپنی گرفت میں رکھتا ہے؛ایک پوری نوع کے لیے مجموعی طور پر، اس کے وہ افراد جو ابھی پیدا نہیں ہوئے غالباً ا س کے موجودہ افراد سے بھی زیادہ حقیقی ہوتے ہیں جن کے مفادات اس غیر پیدا شدہ لامحدود نسل ، جووقت کے ساتھ ساتھ خود کو ظاہر کرتی ہے، کے آنے والے مفادات کے نہ صرف تابع ہوتے ہیںبلکہ ان کے لیے قربان بھی کیے جاتے ہیں۔ ''اسی خیال کے تحت انھوں نے اپنی مشہور نظم 'دعا' (۱۹۱۱) میں کہا:

احساس عنایت کر آثارِ مصیبت کا
امروز کی شورش میں اندیشۂ فردا دے

''معاشرہ اس میں موجود افراد سے کہیں زیادہ ہے، ''وہ لکھتے ہیں، ''یہ اپنی فطرت میں لامحدود ہے۔ ''کیا اسی انداز میں صوفیأ 'وحدت الوجود' کی روشنی میں خدا کی تعریف نہیں کرتے؟ان کے مطابق خدا سے اتصال کے تجربے میں انفرادی خودی کو ہر صورت فنا ہونا پڑتا ہے، اور یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ اقبال کی سوچ بالآخر انھیں 'رموزِ بے خودی ' (۱۹۱۷) تک لے گئی، جہاں انھوں نے یہ واضح کردیا کہ انفرادی خودی کو ہر صورت فنا ہونا ہے، خودی ٔ مطلق کے اندر نہیں، بلکہ ملت کی خودی میں۔ وہ مزید کہتے ہیں '' ایسا لگتا ہے کہ فطرت کی طاقتیں نہ تو افراد کا لحاظ کرتی ہیں نہ ہی قوموں کا۔ اس کے بے رحم قوانین اپنا کام جاری رکھتے ہیں جیسے اس کا اپنا کوئی دور رس مقصد ہے، جس کا انسان کے موجودہ مفادات یا حتّمی انجام سے کسی طرح کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ''اس میں شک نہیں کہ یہ کائنات کی تصویر کا ایک تاریک پہلو ہے مگر اس کو انسان کی غیر محدود صلاحیتوں کے تذکرے سے روشن کیا جاسکتا ہے (''انسان ایک خاص مخلوق ہے۔ انتہائی دل شکن حالات میں بھی اس کا تخیل، جو اس کی عقل کے تابع ہے، اس کے سامنے اس کی اپنی ذات کا ایک زیادہ بہتر تصور پیش کرتا ہے اور اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ ان ذرایع کو تلاش کرے جو اس مثالی ذات کے روشن خواب کوایک زندہ حقیقت میں بدل دیں۔ '') ۔ مگر انسان کی اس تصویر میں ایک کمی ہے، اور وہ ہے اس کے اصل کی خداسے وابستگی، جیسا کہ الجیلی والے مقالے میں کہا گیا ہے اور بعد میں'اسرارِ بے خودی' میں وہی انداز پھر اختیار کیا گیا ہے۔
یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ مسلم ثقافت کے بارے میں جس نقطۂ نظرکا اظہار انھوں نے ا س دور میں کیا، پھر کبھی نہیں کیا۔ ہمیں صرف عقیدے کی حد تک ہی نہیں بلکہ مکمل مسلم ثقافت بھی اختیار کرنی چاہیے گو کہ وہ اس بات کو مانتے تھے کہ اس پر عربوں کا کم اور ایران کی قبل از اسلام ثقافت کا اثر زیادہ ہے۔ مگر پھر بھی، ''ایران کے شاہی خاندان کے لیے ایران کی سیاسی خود مختاری کا چھن جانا محض ایک علاقائی نقصان ہوگا ؛جبکہ مسلم ثقافت کے لیے ایسا واقعہ دسویں صدی (۱۳ویں) کے تاتاری حملہ سے بھی بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔ ''
معاشرے سے متعلق اِس سے اختلافِ رائے کی کوئی گنجایش نہیں تھی، کیونکہ عدم مطابقت اجتماعی وجود کی ''جسمانی وحدت'' کو تحلیل کردے گی جو کہ اس کی بقا کے لیے ناگزیرہے (اور افراد اپنی قوم سے الگ ہوکر زندہ نہیں رہ سکتے) ۔ ''اسلام ایک ہے اور غیر منقسم ہے؛یہ اپنے اندر کوئی تفریق گوارا نہیں کرتا، ''اقبال نے انجمن حمایتِ اسلام کے ۱۹۰۹ کے جلسے میں اپنے سننے والوں سے کہا تھا اور اللہ، انسانیت، موسیٰ، عیسیٰ، اور پیغمبرِ آخرؐ کے نام پرمذہبی اور معاشرتی فرقہ واریت کی مذمّت کی۔ '' جب خود سچ ہی خطرے میں ہوتو اس کی کی تعبیروں پر جھگڑا مت کرو۔ '' بھلا سچ بھی کبھی خطرے میں ہوسکتا ہے؟ دوسال بعد اقبال نے خود ہی اس خوف کویہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ:

تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سے

مگر اس وقت وہ جس جگہ کھڑے تھے، وہاں سے انھیں دنیا کی ایک بے حد مایوس کن تصویر نظر آرہی تھی اور اگر ایسا نہ ہوتا توشاید ان کے ذاتی مسائل بھی ان کے لیے کچھ قابلِ برداشت ہوجاتے۔ ''بحیثیت ایک انسان کے مجھے خوش ہونے کا حق ہے، '' ۱۹۰۹ میں انھوں نے عطیہ فیضی کولکھا جب وہ اپنی پہلی بیوی سے نجات حاصل کرنے کی خواہش کی بات کررہے تھے۔ ''اگر معاشرہ، یاقدرت، مجھے اس سے روکتے ہیںتو میں ان دونوں کو رد کرتا ہوں۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ میں اِس بدبخت ملک کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر کہیں اور چلا جاؤں یا شراب میں پناہ لُوں جو خودکشی کو آسان کردیتی ہے۔ کتابوں کے یہ مُردہ خشک اوراق مجھے خوشی نہیں دے سکتے۔ میری روح میں اتنی آگ موجود ہے کہ ان سب کو جلاسکتی ہے اور ساتھ ہی معاشرتی رواجوں کو بھی۔ تم کہوگی کہ یہ سب کچھ ایک خدائے خیر تخلیق کیا ہے۔ ہوسکتا ہے، مگر زندگی کے تلخ حقائق تو ہمیں ایک مختلف نتیجے پر پہنچاتے ہیں۔ عقلی طور پر میرے لیے ایک زبردست قوت کے مالک شیطان پر یقین کرنا زیادہ آسان ہے بہ نسبت ایک خیر پر مبنی خدا کے۔ ''
اسی زمانے کی ایک فارسی غزل میں (جو بعد میں 'پیام ِ مشرق'میں شایع ہوئی) ، وہ اپنے خالق سے یوں مخاطب ہوتے ہیں کہ کہ میرے تخیل سے پھولوں کی طرح کئی جہان پیدا ہوتے ہیں، تونے ایک جہان بنایا اور وہ بھی ہماری تمناؤں کے خون سے:

صد جہاں می روید ازکشتِ خیالِ ما چو گُل

یک جہان و آں ہم از خونِ تمنا ساختی

اقبال اس پر مطمئن نہیں تھے کہ ہم خدا پر محض اس لیے یقین کرلیں کہ یہ ایک منطقی ضرورت ہے۔ ایک ناراض عاشق کی طرح وہ اپنے خالق سے چند سوالوں کے جواب چاہتے تھے، اور بلاشبہ وہ خاصے مشکل سوالات تھے جوانھوں نے اپنی بے سکونی کے اس دور میں ، یعنی ۱۱۔ ۱۹۱۰کے موسمِ سرما میں، تحریر کیے۔

'شکایت'


 

اقبال کے رجائیت پسند ذہن میں مایوسی، غصہ، اور امید نے اسلامی دنیا (خصوصاً ایران اور ترکی) میں پیدا ہونے والی سیاسی مایوسیوں کی وجہ سے ایک ٹھوس شکل اختیار کرلی اور ان کا کتھارسس ایک ایسی طویل نظم کی شکل میں سامنے آیا جو اس وقت تک کی تمام نظموں میں سب سے شاندار (اور سب سے مشہور) نظم تھی، یعنی 'شکوہ' :
ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا عالم
اقبال بڑے اختصار کے ساتھ زمانۂ جاہلیت کے مذاہب کی ایک جامع تصویر پیش کرتے ہوئے یہ بھی بتاتے ہیں کہ کس طرح اسلام کی فوجوں نے انھیں مٹا ڈالا۔ مگر آج اللہ کی تمام نعمتیں مکمل طور پر کافروں کو حاصل ہیں جبکہ مسلمان محتاج اور پریشان ہیں:
کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہے
اقبال بے تکلفی کی حد تک پہنچ کر کہتے ہیں
بات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہے!

مگر جو چیز نظم کو بے ادبی کے الزام سے بچاتی ہے وہ یہ ہے کہ نظم انسانی روح اور اس کے خالق کے درمیان ایک گہرے جذباتی تعلق کو ظاہر کرتی ہے اور اس میں کہیں بھی ذاتی غرور و تکبر کا شائبہ تک محسوس نہیں ہوتااور اگر یہ کہیں تو بے جا نہ ہوگا کہ 'شکوہ' دراصل ایک دعا ہے:

چاک اس بلبلِ تنہا کی نوا سے دل ہوں
طنزیہ گفتگو اور شکوے شکایتوں کے بعد وہ بالآخر اصل نقطے پر آتے ہیں:
جاگنے والے اسی بانگِ درا سے دل ہوں
یعنی پھر زندہ نئے عہدِ وفا سے دل ہوں
پھر اُسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوں
عجمی خم ہے تو کیا، مے تو حجازی ہے مری
نغمہ ہندی ہے تو کیا، لے تو حجازی ہے مری

'شکوہ'کے شاعرانہ منظر کو اگر اقبال کی نثر سے الگ کرکے دیکھا جائے تو یہ ایک غلط تصویر پیش کرتا نظر آتا ہے۔ عرب فاتحین کا تلواریں لہراتے ہوئے آگے بڑھتے جانا ایک اثر انگیز شاعرانہ تخیل تو ہوسکتا ہے مگر خود اقبال کے اس نظریہ کے خلاف ہے کہ علاقائی توسیع کاحصول ظلم و استبداد کو راہ دینے کا ذریعہ بنتا ہے اور یہ کہ عرب شہنشائیت نے تو اسلام کے مقصد کو اُلٹا نقصان پہنچایا ہے جیسا کہ انہی دنوں کے اپنے لیکچر میں انھوں نے پرزور انداز میں کہا ، اور جس پر انھوں نے اپنے ۱۹۳۰ کے مشہورِ زمانہ صدارتی خطاب میں بھی زور دیاجس میں ہندوستان میں ایک جدید مسلمان ریاست کے قیام کی تجویز پیش کرنے کی بہت سی وجوہ میں سے ایک، انھوں نے یہ بتائی تھی کہ شاید اس طرح مسلمانوں کو ماضی میں اپنے طور طریقوںسے مختلف خطوط پر سیاست کرنے کا موقع مل سکے ۔ 'شکوہ'میں یہ مکمل استدلال پیش نہیں کیا جا سکتا تھا کیونکہ اس کے لیے فکر کے اُس تسلسل کو توڑنا پڑتا جو ایک نظم کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ مگر پھر بھی ایک سال کے اندر ہی اپنی اس نظم کا جو جواب انھوں نے 'شمع اور شاعر' کے نام سے تحریر کیا، اس میں یہ بتا دیا کہ مسلمانوں کے سیاسی انحطاط کی وجہ یہ نہیں کہ وہ جنگ کے لیے تیار نہیں بلکہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنی روح کے اندر جھانکنا چھوڑ دیا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک اور نظم'جوابِ شکوہ' جو کہ کچھ عرصہ بعد لکھی گئی، 'شکوہ' کے تخیلاتی منظر کا جواب عقلیت پسندی اور غوروفکر کے استعاروں سے پیش کرتی ہے:

فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہی

'شکوہ 'کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا مگر ایک بات یقینی ہے کہ بہرحال اس نظم نے انسانی نقطۂ نظر سے خدا کے ساتھ بحث کا آغاز کرکے عجزوانکسار کے روایتی انداز سے واضح طور پر الگ رخ اختیار کیا؛انسان اپنی بنیادی جبلتوں کے ساتھ اور اپنے جذبات کا چولا اتارے بغیر، جیسے جیسے خدا سے قریب ہوتا جاتا ہے ، اس کے لیے اِس دنیا اور خدا کے لیے الگ الگ رویّوں کی دوئی مٹ جاتی ہے۔ ذاتی طور پر اس نظم نے اقبال کے لیے واقعی وہ کتھارسس فراہم کیا جس کی انھیں ایک عرصے سے ضرورت تھی کیونکہ اس کو لکھنے کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر خود کو شاعر کہلوانے پر راضی ہوگئے تھے۔ یہی نہیں، بلکہ کچھ ہی عرصے بعد وہ اپنے اس ایک دیرینہ خواب کو پورا کرنے کے لیے کمر بستہ ہوگئے:یعنی کل عالم کے لیے ایک عالمگیر خوشحالی کے فارمولے کی دریافت۔

تبدیلی


 

انسانی مسرت کی راہ میں پہلی رکاوٹ انسانیت کا گروہوں میں بٹ جانا ہے۔ اقبال کے مطابق یہ گروہ بندی طبقاتی کشمکش کی بنیاد پر نہیں ہوتی، جیسا کہ مارکس نے کہا ہے، بلکہ تشخص کو محدود کردینے کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ ماضی میں یہ جھوٹا تشخص مختلف بتوں کے حوالے سے ہوتا تھا، خوش قسمتی سے جن کی پوجااب متروک ہوچکی ہے (اقبال ہندودیوتاؤں کو بتوں میں شمار نہیں کرتے تھے بلکہ انھیں فرشتوں کی بگڑی ہوئی شکل قراردیتے تھے) ۔ البتہ جدید دور نے انسانیت کوپرانی رکاوٹوں کی جگہ نئی رکاوٹیں فراہم کردی ہیں، مثلاً :
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے

اپنی نظم''وطنیت'' (یعنی وطن بحیثیت ایک سیاسی تصور) میں وہ اپنے نقطۂ نظر کا واضح اعلان کرتے ہیں۔ انھوں نے ایک ''عالمگیر سماجی تشکیلِ نو کی دریافت'' کو اپنا مقصد بنا کر اُس کی طرف یکسو رہنے کا ارادہ کرلیا تھا۔
مذہبی عقیدہ انسان کو خدا سے وابستہ کردیتا ہے اور اس طرح خدا کی وحدانیت کے احساس کے ذریعے تمام انسانیت کو ایک رشتے میں جوڑ کر علاقائی گروہ بندیوں کا توڑ کیا جاسکتا ہے۔ تمام مذاہب ایک ہی منزل کی طرف لے جاتے ہیں مگر اقبال سمجھتے تھے کہ جدید دور میں اسلام سب سے مناسب نقطۂ آغازثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ ہندومت اور یہودیت کے برخلاف یہ ایک نسلی عقیدہ نہیں ہے اور بدھ مت اور عیسائیت کے برخلاف یہ ترکِ دنیا کی ترغیب بھی نہیں دیتا۔ یہ تصور کہ اسلام ایک عالمگیر شہریت کا نمونہ پیش کرتا ہے، اقبال کے ذہن میں اُسی وقت سے موجود تھا جب وہ یورپ میں تھے جہاں ایک غزل میں انھوں نے یوں فرمایا تھا:

نرالا سارے جہاں سے اس کو عرب کے معمارؐ نے بنایا
بنا ہمارے حصار ملت کی اتحادِ وطن نہیں ہے

(بانگ درا: ص۱۴۶؍۱۶۲)

ویسے تو یہ ایک بے حد مناسب اصول ہے لیکن شروع شروع میں انھوں نے اس سے جو نتائج اخذ کیے ان میں سے چند بے حد عجیب ہیں۔ اپنے ۱۹۰۹ کے لیکچر میں انھوں نے کہا کہ چونکہ اسلام کا سیاسی تصور جمہوریت ہے اور برطانوی سلطنت دنیا کو جمہوری بنارہی ہے لہٰذا برطانوی سلطنت ''ایک محمدی سلطنت ہے''!
شکر ہے کہ انھوں نے یہ جملہ پھر کبھی نہیں دہرایا مگر اس سے قطع نظر کہ وہ ہندوستان پر انگریزوں کے قبضے کے روشن پہلو سے یقینا ایک نفسیاتی تسکین محسوس کرتے تھے، وہ دل سے اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ مسلمان ہی اسلام کے واحد ماننے والے نہیں ہیں۔ اپنی نظم 'جوابِ شکوہ' (۱۹۱۲) میں انھوں نے اس کو خدا کے انصاف کا تقاضا قرار دیا کہ اس کی نعمتیں مسلمانوں کے بجائے کافروں کو حاصل ہورہی ہیں جو کہ نام کے تو مسلمان نہیں ہیں مگر ان کا عمل اسلام کے عین مطابق ہے۔ اسی طرح ، اپنی وفات سے کچھ پہلے انھوں نے ایک گفتگو کے دوران کہا کہ سچ ہر شکل میں قرآن ہی کی تفسیر ہے، چاہے وہ کسی ملحد کی زبان سے ادا ہوا ہویا پھر لینن کی زبان سے۔ اقبال کے نزدیک دنیا میں کوئی مذہب ایسا نہیں جس پر کسی ایک کی اجارہ داری ہو، اور جہاں چند نام نہاد اور بزعمِ خود پاکباز اور سچے لوگ بیٹھ کر دوسروں کے عقیدے پر فتوے لگائیں۔ انھوں نے ایک اور تحریر میں لکھا کہ ''خدا پر ہر انسان کا پیدائشی حق ہے''۔

بہر حال، کسی نہ کسی طرح انھوں نے اپنی اس تشویش اور بے چینی پر قابو پالیا تھا جو مسلم دنیا کی خراب صورت حال پر وہ محسوس کرتے تھے:

تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سے
خدا شکوہ کرنے والے اس مسلمان کو 'جوابِ شکوہ'میں بتاتا ہے:
نشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سے

یہ وہ تبدیلی تھی جسے عام طور پر غلطی سے ''قومیت پسندی'' سے ''اسلام ازم'' کی طرف رجوع کرنے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مگر ان کا مطمعٔ نظر ہمیشہ انسانیت رہی ہے۔ اسلام میں ان کی دلچسپی بھی زیادہ تراس لیے تھی کہ اس مذہب کی مخفی اور نایافت حکمت کے ذریعے سے نوعِ انسانی کے لیے کچھ کر دکھا یا جائے

چشمِ اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیری
خدا 'جوابِ شکوہ' میں مسلمانوں سے کہتا ہے:
ہے ابھی محفلِ ہستی کو ضرورت تیری
زندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیری
کوکبِ قسمت ِ امکاں ہے خلافت تیری
وقتِ فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نورِ توحید کا اتمام ابھی باقی ہے

ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ یہی وہ وقت تھا جب شبلی اور ان کے شاگردوں نے پہلی بار ہندوستان کے مسلم عوام کو، کانگریس کے محبِ وطن اراکین کے ساتھ مل کر ایک علاقائی تشخص بنانے کے لیے بیدار کیا۔ اقبال نے کھلم کھلا ان کی مخالفت تو نہیں کی؛اس سے اُس مقصد کو نقصان پہنچتا اور ان کی مخالفت کو نوآبادیاتی حکمرانوں کی لوگوں کو تقسیم کرنے کی پالیسی کے حق میں ایک خدمت قرار دیا جاتا۔ مگر انہی دنوں انھوں نے علاقائی حب الوطنی پر جو کڑی تنقید کی وہ ان کے نظریات کے اظہار کے لیے کافی تھا۔

The settling down


۱۹۱۳ء وہ سال تھا جب اقبال کو گھریلو سکون ملا۔ پہلی بدنصیب بیوی سے علیحدگی کے بعد اوپر تلے دو مزید شادیوں سے اُن کی گھریلو زندگی میں آسودگی آئی (انھوں نے اپنے ایک ذاتی خط میں لکھا کہ ان کے لیے ایک بھی کافی تھی، بشرطیکہ حالات کا عجیب و غریب موڑ انھیں دو پر مجبور نہ کرتا) ۔ اور یہی وہ سال ہے جب حیدرآباد (دکن) کے انتہائی شائستہ وزیرِ اعظم مہاراجہ کشن پرشاد نے انھیں ایک پُرکشش وظیفہ کی پیشکش کی۔ یہ پیشکش ، جوپرانے دور کے اکثر شعرا شاعر کے لیے ایک روزمرہ کی بات ہوتی اور وہ اسے بڑی خوشی سے قبول کرلیتا، انھیں شاہکار نظمیں تخلیق کرنے کے لیے خاصا وقت فراہم کرسکتی تھی، مگر اقبال نے اسے بصد احترام، مگر قطعی انداز میں، مسترد کردیا۔ وہ ایک نئے دور کے شاعر تھے:بلکہ شایداس زمانے کے شاعر تھے جو ابھی آیا نہیں تھا۔
یہ فیصلہ انھوں نے اسی زمانے میں کیا تھا جب وہ ایک طویل فارسی نظم شروع کررہے تھے جس کا موضوع انسانی زندگی کا سب سے اہم معاملہ تھا:'اسرارِ خودی'!


 

 

 




اقبال اکادمی پاکستان