www.allamaiqbal.com
  bullet سرورق   bullet شخصیت bulletتصانیفِ اقبال bulletگیلری bulletکتب خانہ bulletہمارے بارے میں bulletرابطہ  

شخصیت
حیاتِ اقبال
سوانح
سنین کے آئينے میں
سوانحی مواد
کتابیات
اکثر پوچھے گئے سوالات

تیسرا باب

روشنی (۱۹۱۶-۱۹۲۲)

اسرار و رموز


 

تیرھویںصدی کے عالم رومی ایک روز اپنے شاگردوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ قریب سے گزرتے ہوئے ایک درویش شمس تبریز نے ان کا انہماک کو توڑا اور ان کی کتابوں کی طرف اشارہ کرکے پوچھا '' یہ کیا ہے''؟ رومی نے طنزیہ انداز میں جواب دیا:''یہ وہ ہے جو تمھاری سمجھ میں نہیں آسکتا'' شمس نے ان تمام کتابوں کواٹھا کر ایک قریبی تالاب میں پھینک دیا اور جب رومی سخت پریشان ہوئے تو اُنھوں نے ان کتابوں کو واپس نکالا، وہ بالکل خشک اور صحیح سلامت تھیں۔ ایک اور بیان کے مطابق شمس تبریز نے کتابوں کو آگ میں جھونک دیا اور بعد میں شعلوں میں سے صحیح سلامت نکال لیا۔ بہرحال، جب رومی نے بے یقینی سے پوچھا کہ یہ سب کیا ہے تو شمس تبریز نے انھی کے الفاظ میں جواب دیا:''یہ وہ ہے جوتمھاری سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ ''رومی کو غش آگیا اور جب وہ ہوش میں آئے تو انھوں نے خود کو ایک بدلا ہواآدمی محسوس کیا۔
تاریخی اعتبار سے غیر مستند یہ حکایت ایک استعارہ ہے جو ہمیں یہ اندازہ لگانے میں مدد دیتی ہے کہ جب رومی شمس تبریزی سے ملے ہوں گے، تو کیا صورت حال رہی ہوگی۔ علم سے مشاہدے تک کا سفر بلاشبہ کسی معجزے سے کم نہیں ہے اور یہ ایک مرشد ہی اپنے مرید کو کروا سکتا ہے۔ اور جو استاد اقبال کی مدد کو آئے، وہ کوئی اور نہیں بلکہ خود رومی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اقبال نے خواب دیکھا کہ رومی ان سے ایک مثنوی لکھنے کو کہہ رہے ہیں۔ ''آپ فرماتے ہیں کہ خودی کو مٹاؤ جب کہ میرے نزدیک خودی مضبوط کرنے کی چیز ہے، ''اقبال نے خواب ہی میں احتجاج کرتے ہوئے کہا۔ ''نہیں ہمارا مطلب بھی وہی ہے جو تم سمجھتے ہو، ''علامتوں پر دسترس رکھنے والے اس عالم نے کہا اور جب اقبال خواب سے بیدار ہوئے تو ایک مثنوی کا خاکہ اُن کے ذہن میں موجود تھا۔
انھوں نے اس کوتین حصوں میں لکھنے کا سوچا تھا۔ پہلے حصے میں عملی دنیا میں موجود خیر کے منبع یعنی انسانی اَنایاخودی کی تعریف بیان کی جائے گی جو حقیقتِ مطلق کے نور سے منورہوتی ہے اور اس نور سے انسانی وجود کے تمام پہلوؤں کو روشن کرتی ہے۔ دوسرا حصہ انفرادی خودی اور معاشرے کے درمیان تعلق کی نوعیت کو واضح کرے گا، اور یہ کہ ہم خیال افراد کے مجموعی ارادے سے کس طرح ایک مثالی قوم وجود میں آتی ہے۔ تیسرا اور آخری حصہ اس مثالی قوم کے امکانات کی پیش گوئی کرے گا اور یہ کہ وہ انسانی تاریخ کے حوالے سے کیا کچھ حاصل کرسکتی ہے۔
اقبال کے خیال میںانسان کے امکانات کو ابھی تک مکمل طور پر دریافت نہیں کیا جا سکاتھااور وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ان کا پیغام قرآن کے ان معانی سے اخذ کیا گیا ہے جواپنے اظہار کے لیے ایک نئے دور کے منتظر تھے۔ اس وقت وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ جلد ہی ان پر قرآن کی غلط تعبیر کرنے اور دینی تصورات کے سرچشمے میں حرص اور خود پرستی کو خلط ملط کرنے کا الزام لگ جائے گا۔
اس دنیا میں ذہنی طور تنہا ہونے اور سب سے الگ ہونے کے احساس کے سبب اقبال خود کو ایک اورہی زمان و مکان کا شاعر سمجھنے لگے تھے:آنے والے کل کا شاعر۔ اس بات نے انھیں اس دنیا کی قیود سے آزاد کرکے زندگی کے سرچشمے کو براہِ راست محسوس کرنے کا موقع فراہم کردیا۔ جیسا کہ انھوں نے ایک جگہ پر اپنے کچھ ہم عصروں کے بارے میں کہا ہے وہ خود ان پر بھی صادق آتا ہے:''ایسے لوگ غلطیاں کرسکتے ہیں مگر قوموں کی تاریخ گواہ ہے کہ ان کی غلطیاں بھی کبھی کبھی اچھے نتائج کا پیش خیمہ بن جاتی ہیں۔ ان کے اندر منطق نہیں بلکہ خودزندگی اپنے مسائل کا حل ڈھونڈنے کے لیے سرگرداں ہوتی ہے۔ ''یہی وہ ''قریبی تعلق '' ہے (نئے دور کی اصطلاح میں) جو اکیسویں صدی میں بھی اقبال کو ہماراہم عصر بنادیتا ہے۔
''زندگی خودی کے اظہار کے سوا کچھ نہیں ہے، ''پیش لفظ کے بعد پہلے باب کے آغاز میں اقبال کہتے ہیں، ''جو کچھ بھی تم دیکھتے ہو وہ خودی کے اسرار ظہور ہے۔ ''خودی (یا ایغو) اپنے تضادات کو خود تخلیق کرتی ہے، یہ طاقت، کشمکش، عشق، زندگی اور موت کے ذریعے خود کو ظاہر کرتی ہے ۔۔۔یوں اقبال ایک ہی جست میں ہیگل کے فلسفے اور نیٹشے کے ارادۂ قوت ، دونوں کا ادراک کرلیتے ہیں۔
مگر خودی ان میں سے کسی کا نام نہیں بلکہ وہ کچھ اور ہے۔۔۔ان خصوصیات کے حوالے تو ایک ایسی زبان میں شاعرانہ حوالے ہیںجو پڑھنے والے کی سمجھ میں آسکے۔ اصل میںاقبال جو نکتہ بیان کرنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم زندگی اور کائنات کے بارے میں جو کچھ بھی جانتے ہیں، سائنس، مذہب یا مابعدالطبیعیات کے ذریعے، وہ سب بالآخر ایک ہی بنیادی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں:تمھاری خودی کے استحکام میں تمھاری بقا ہے؛اس کی نفی میں تمھاری فنا۔ اصل اور دیرپا وجود دوسروں کے مقام پر قبـضہ کرنے سے نہیں ملتا بلکہ یہ تو خود اپنے اندر مستحکم ہوجانے سے ملتا ہے۔ نشوونما کا اصول اندر سے باہرکی جانب ہے، نہ کہ محض باہر ہی باہر۔ جس طرح دانے کے اندر ہی درخت موجود ہوتا ہے، اسی طرح انسان اپنے اندر موجود سرچشمے کی نشوونما سے ہی طاقتور بن سکتا ہے نہ کہ دوسروں کی قوت سے حسد کرکے۔
وہ تمام مفکرین جو دنیا کی ایک متناسب تصویر بنانا چاہتے ہیں وہ نقطۂ آغاز کے طور پر کسی ایک موضوع پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں اور اقبال کا اصل مسئلہ، ان کی زندگی میں بھی اور ان کی فکر میں بھی، ہمیشہ محبت کی حقیقت ہی رہا۔ یہاںبھی انھوں نے عشق کی دیوانگی میں معنی ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔ اگر دنیا میں کوئی ''دوسرا''نہ ہوتا اور کوئی فاصلے نہ ہوتے، ناتمام جذبات کی کسک نہ ہوتی، تو خواہش بھی نہ ہوتی؛اور خواہش خودی کے لیے اس طرح ہے جیسے انجن کے لیے ایندھن اور جاندار کے لیے پانی۔ خواہش خودی کی رگوں میں دوڑتا حیات بخش لہو ہے۔ رومی نے اپنی مثنوی کا آغاز ان الفاظ کے ساتھ کیا کہ بانسری میں سے نکلتا نغمہ اصل میں بانسری کی فریاد ہے جو وہ اپنی اصل سے جدائی کے دکھ میں بلند کرتی ہے۔ اقبال تصویر کا دوسرا رخ دکھانے کی جرأت کرتے ہیں:بانسری جو کچھ بھی ہے وہ اپنی اصل سے جداہوکر ہی بن پائی ہے۔ بے شک یہ جدائی حقیقی نہیں بلکہ فرضی ہے (اور رومی پہلے ہی کہہ چکے ہیںکہ نغمہ اسے بجانے والے کی سانس سے ہی پھوٹتا ہے لہٰذا بانسری کے دونوں سِروں میں کوئی فاصلہ نہیں ہے) ۔ اقبال رومی کے اس تصور کو تو مانتے ہیں کہ ہر شے کی اصل 'الوہی' ہے مگر ان کے نزدیک جدائی کی اپنی ایک اہمیت ہے:عین وصال میں چیزیں اپنا وجود کھودیتی ہیں۔
عشق اور گدائی عام طور پر خواہش کے لازمی اجزا سمجھے جاتے ہیں، اور شاید اقبال یہ کہنے میں حق بجانب تھے کہ وہ ان رازوں پرسے پردہ اٹھارہے ہیں جن کو ظاہر کرنے کی جرأت مشرق میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کی:وہ پہلے مشرقی مفکر تھے جنھوں نے اس چیز کی نشان دہی کی کہ عشق اور گدائی دو متضاد چیزیں ہیں اور ایک وقت میں کسی ایک ہی کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ عشق اپنی اصل میں، وہ قوت ہے جس کے ذریعے خودی اپنے آپ کو اس طبعی دنیا کی مشکلات اور رکاوٹوں سے بلند کرتی ہے؛عشق انتہائی بے ضرر اور نرم خُو فطرت کو بھی بغاوت پر اُکسا سکتا ہے۔ ''سخت ترین چٹانیں بھی عشق کی ایک نگاہ سے کانپ اٹھتی ہیں، ''اقبال کہتے ہیں، ''خدا کی محبت بالآخر خود خدا بن جاتی ہے۔ ''جبکہ گدائی خودی کو اس کے روشن الُوہی سرچشمہ سے جدا کردیتی ہے۔
اور ظاہر ہے کہ انھوں نے مشرقی ادب کے ایک بڑے حصہ پر ذات کی نفی کرنے والی روایات اپنانے اور عشق کی ایک مسخ شدہ تصویر پیش کرنے کا الزام لگایا، ایک ایسی تصویر جس میںخواہش کو گدائی سے ملا دیا گیا تھا (اسرارِ خودی کے پہلے ایڈیشن میں اقبال نے حافظ پر جو تنقید کی تھی اس نے ۱۹۱۵ میں مخالفت اور احتجاج کا ایک طوفان کھڑا کردیا) ۔ اقبال نے افلاطون پر بھی کڑی تنقید کی تھی، جیسا کہ ایک ایسے شخص سے امید کی جاسکتی ہے جو طبعی دنیا کی حقیقت اور اشیا کی تعریف بیان کرنے میں 'مقصد'کی اہمیت کے بارے میں اس شخص کاہم خیال نظر آتا ہو'' جس نے کہا تھا کہ ''الف، الف ہے''یعنی ارسطو (اقبال خود کو کسی ایک مکتبۂ فکر سے متعلق کہلوانا پسند نہیں کرتے تھے اسی لیے انھوں نے خود کو ارسطاطالیسی نہیں کہوایاورنہ اپنی نوٹ بک میں انھوں نے اس یونانی فلسفی کے بنیادی افکار سے مکمل ہم آہنگی کا اظہار کیا ہے گو کہ کچھ ضمنی باتوں میں اس سے اختلاف بھی کیا ہے) ۔
اپنی مخصوص جرأت مندانہ معروضیت سے کام لیتے ہوئے اقبال نے وقت کو اپنے فلسفے میں بنیادی حیثیت دی ہے۔ ان کے نزدیک وقت دن اور رات کے تسلسل کا نام نہیں، اور نہ ہی مکاں کی محض ایک اور جہت کا نام ہے، بلکہ یہ خدا کے وجود کے ایک اظہار سے کم نہیں ہے۔جیسا کہ حدیث نبوی ہے: وقت کو بُرا نہ کہو، کیونکہ خدا کہتا ہے، میں وقت ہوں۔'' اقبال نے اپنے خیال کو مزید تقویت دینے کے لیے امام شافعی کا یہ جملہ نقل کیا ہے: ''وقت تلوار ہے۔ ''جو شخص بھی زمانے کی گردش میں شکایات کا پہلوتلاش کرنے کے بجائے اس کی علامات پر نظر رکھتا ہے وہی تمام مشکلات پر قابو پاسکتا ہے (وہ اس گردش سے نکل جاتا ہے) ۔ وقت سے فرار ڈھونڈنا ہلاکت ہے۔۔۔اور یہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ماضی کی یاد میں غرق رہنا اور مستقبل کے بارے میں غیر حقیقی خواب دیکھنا اس کی دو شکلیں ہیں۔ خودی کے لیے وقت جیسی عظیم قوت کے ساتھ ایک ایسا تعلق دریافت کرنا ضروری ہے جو اس سے مطابقت رکھتا ہو۔
تصور سے عمل کی طرف آتے ہوئے اقبال اس عشق کا تذکرہ کرتے ہیں جوایک مسلمان رسول اللہ ؐ کے لیے اپنے دل میں رکھتا ہے اور بتاتے ہیں کہ خودی کی تربیت کے تین مرحلے ہیں: (الف) اطاعت (ب) ضبطِ نفس اور (ج) نیابتِ الٰہی۔ مسلمان کی زندگی کا مقصد خدا کی عظمت بیان کرنا ہے۔ جہاد، اگر محض جوع الارض کی وجہ سے ہو تو یہ اسلام میں حرام ہے۔
انفرادی خودی کی عظمت کے بعد معاشرے کی اہمیت کا احساس دلانا بھی ضروری تھا کیونکہ اقبال ایک ایسے فلسفیانہ نقطۂ نظر سے تعلق رکھتے تھے جس میں فرد ایک بڑے معاشرتی وجود کا ناگزیر حصہ تھا۔ مثنوی کے دوسرے حصہ 'رموزِ بے خودی 'میںوہ کہتے ہیںکہ معاشرہ بھی ایک خودی ہے۔ فرد اپنی خودی کوملت کی خودی میں مدغم کرکے ابدی قوت حاصل کرلیتا ہے۔ مسلم قوم زمان ومکان سے ماورا ہے اور اس کی ابدیت کا وعدہ کیا گیا ہے (جبکہ فرد کی ابدیت مشروط ہے) ۔ اس قوم کے دو بنیادی اصول وحدانیت ہیں (جو خوف اور ناامیدی کا علاج ہے جو کہ ایسی روحانی بیماریاں ہیں جو خودی کے لیے ہلاکت خیز ہیں) اور رسالت (جس کا مقصد نسلِ انسانی کو آزادی، مساوات اور استحکام فراہم کرنا ہے) ؛اور اسلامی قومیت مساوات اور آزادی کے اصولوں پر مبنی ہے (جسے ثابت کرنے کے لیے شبلی نے خاطر خواہ تاریخی حکایات بیان کی ہیں۔ شبلی کا انتقال نومبر ۱۹۱۴ میں ہوا جب اقبال ابھی مثنوی کے پہلے حصہ پر کام کررہے تھے) ۔
اہم بات یہ ہے کہ اقبال نے فرد اور معاشرے کے باہمی تعلق کے حوالے سے ایک متبادل نقطۂ نظر فراہم کیا ہے، جس کی جڑیں محبت اور ذہنی ہم آہنگی میں ہیں نہ کہ مفادات یا نسلی اصولوں میں۔

 

خدا کے لئے جنگ


 

۱۹۱۰ء میں انھوں نے مشرقی مابعد الطبیعیات کے خدا کے وجود سے وجودِ انسانی کی جانب مائل ہونے کے بارے میں ایک یادداشت تحریر کی تھی۔ اب اسررِ خودی میں انسانی خودی کی جو ساخت پیش کی گئی ہے وہ الوہی وجود کی روشنی سے منور ہورہی ہے۔ ''میں نے حقیقتِ مطلق کو ایک خودی کے طور پر تصور کیا ہے، ''بعد ازاں انھوں نے لکھا ''خودیٔ مطلق سے صرف خودی کا صدور ہوسکتا ہے۔ ''انفرادیت ایک طرح سے محدودیت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اسرارِ خودی میں اقبال نے اس موضوع کو نہیں اٹھایا مگر کئی سال بعدتشکیل جدید (The Reconstruction Thought in Islam) میںوہ بڑے جرأت مندانہ انداز میں کہتے ہیں:'' خودیٔ مطلق نہ تو مکانی لحاظ سے لامحدود ہے اور نہ ہی مکانی قیود میں گرفتار انسانی خودی کے معنوں میں محدود ہے، جس کا جسم اس کی حدود مقرر کردیتا ہے اور اسے دوسری خودی سے الگ کردیتا ہے۔ خودیٔ مطلق کی لامحدودیت دراصل اس کے تخلیقی عمل کے مخفی امکانات کی لامحدودیت ہے، جس کا محض تھوڑا سا اظہار مظاہر کی یہ دنیا ہے۔ ایک لفظ میں کہیں تو خدا کی لامحدودیت داخلی ہے، خارجی نہیں۔ ''
ان کے تصورِ خدا کے دوسرے اہم اجزأ کو عقلی نقطۂ نظر سے خلّاقی، علم، قدرت مطلق، اور ابدیت کا نام دیا گیا۔ ان میں سے ہر ایک میں خدا انسان سے برتر اور جوہری طور پر مختلف ہے، کیونکہ خدا کے نزدیک کائنات اور حقیقت مطلق بیرونی چیز نہیں ہیں تشکیلِ جدید میں وہ لکھتے ہیں: ''خودیٔ مطلق ہی حقیقتِ مطلق ہے۔ خلّاقِ مطلق کا کمال اُس کی تخلیقی کارکردگی کی وسیع تر بنیاد اور اُس کی تخلیقی ویژن کے غیر متناہی دائرہ عمل میں ہے۔''
تصوف کے بارے میں اقبال کے نقطۂ نظر کا مسئلہ، جو 'اسرارِ خودی' سے شروع ہوا تھا، ان کی فکر کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے آج بھی ایک مشکل موضوع ہے۔ 'اسرارِ خودی' کے پہلے ایڈیشن میں وحدت الوجود کو مسترد کیا گیا ہے (جس کا ترجمہ انھوں نے اپنی انگریزی تحریروں میں pantheism کے نام سے کیا) ۔ اپنے پیش رو شیخ احمد سرہندی کی طرح، جنھوں نے سترھویںصدی کی ابتدأ میں اسی رویہ کا مظاہرہ کیا تھا، اقبال کو بھی ابن عربی کی اصل تحریریں پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا جن کو عام خیال کے مطابق وحدت الوجود کا بانی کہا جاتا ہے (بلوغت کے زمانے میں اقبال کوفصوص الحکم کی جو شدھ بدھ حاصل ہوئی تھی، وہ ابن عربی کو پوری طرح سمجھنے کے لیے موزوں آغاز نہیں ہوسکتا تھا) ۔ اقبال نے بھی مستشرقین کی طرح اس بات کو نظر انداز کردیا کہ عربی میں'وجود' کی اصل وہی ہے جو 'وجدان'کی ہے، اور اس لیے اس کا ایک دوسرا مطلب 'جاننا' بھی ہے۔ بدقسمتی سے 'وحدت الوجود' یا 'وجود کی وحدت' کے الفاظ میں ترجمہ کرنے سے وجود کی یہ تعبیر بالکل ہی محو ہوگئی۔ اس کو 'ہمہ اوست'قرار دینا (جیسے کہ اقبال نے کیا) اس سے بھی بڑی غلطی تھی۔
اس لفظ کا یہ غلط استعمال، جو ہندوستان میں احمد سرہندی کے زمانے سے رائج تھا، اس کی اصل سے کہیں دور تھا۔ اُس وقت حکومتی طبقے سے تعلق رکھنے والے چندمسلم امرأ کو قابلِ فہم طور پر اپنے کمزور پڑتے ہوئے اعصاب کے لیے کسی فلسفیانہ توجیہہ کی ضرورت تھی (جو کہ اکثریتی ہندو رعایا کے ساتھ ایک مستقل کشمکش میں زندگی گزارنے کا ایک لازمی نتیجہ تھی) ۔ وحدت الوجود کی شکل میں ایک ایسا آسان حل مل گیا جسے ہر اس عمل کی توجیہہ کے لیے استعمال کیا جاسکتا تھا جوسر جھکادینے، قوتِ ارادی کی کمی یا کسی بھی اہم موقع پر بے عملی کا مظاہرہ کرنے کی حمایت کرتا ہو اور یہی روح پٹھان شاعر کے اس شعر میں جھلکتی ہے جس کا حوالہ اقبال نے اپنے ایک مضمون میں دیا ہے جس میں انھوں نے اس رویہ پر بڑے جارحانہ انداز میں تنقید کی ہے:

تھے ہم پوت پٹھان کے دَل کے دَل دیں موڑ
شرن پڑے رگناتھ کے سکیں نہ تنکا توڑ

یعنی میں میدان ِ جنگ میں دشمن کے دل کے دل موڑ دیا کرتا تھا مگر جب سے میں وحدت الوجود سے آشنا ہوا ہوں تو ایک تنکا توڑنے سے بھی گھبرانے لگا ہوں کہ یہ بھی خدا کا حصہ ہے اور اسے ہی نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا (کیونکہ اس نظریہ کی غلط تعبیر کے مطابق خدا ہر چیز میں موجود ہے) ۔ ابن عربی تو شاید اِس گستاخی پر دم بخود رہ جاتے مگر بے شمار غلط فہمیوں کے اس انبار کی وجہ سے اقبال یہ یقین کرنے پر مجبور ہوگئے کہ وہی اس قسم کے رویے کے فروغ کے اصل ذمہ دار ہیں۔ نتیجتاً اسرارِِخودی میں تو ابنِ عربی پر ایسی کوئی تنقید شامل نہیں مگر عام گفت و شنید اور خطوط میںکافی عرصے بعد تک اقبال نے اُنہیں کوئی قابلِ عزت مقام نہیں دیا۔
''بچپن میں فصوص الحکم کا درس میرے گھر پر ہوتا تھا۔۔۔'' اقبال ایک خط میں لکھتے ہیں، ''فصوص میں جہاں تک مجھے معلوم ہے، سوائے الحاد اور زندقہ کے اور کچھ نہیں۔ ''یہ تصور بعدمیں بدل گیا اور اقبال ابنِ عربی کی عظمت کے قائل ہوگئے اور ان کے دل میں ان کا ایک قابل ِ عزت مقام بن گیا۔
لہٰذا یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ اقبال نے جہاں ایک طرف تو وحدت الوجود کو مسترد کیا ہے، وہیں یہ بات بھی سچ ہے کہ اس کے بعض پہلوؤں کوانھوں نے جس اندازمیں اجاگر کیا ہے، اُس طرح کوئی اور نہیں کرسکا۔ میر دردؔ سمیت اردو کی صوفیانہ شاعری کا تمام خزانہ بھی بالِ جبریل (۱۹۳۵) کے اس شعر کا مقابلہ نہیں کرسکتا:

یہ ہے خلاصۂ علمِ قلندری کہ حیات
خدنگِ جستہ ہے لیکن کماں سے دور نہیں

ایک فارسی غزل کا شعر انسان اور اس کے خالق کے درمیان فاصلے (یا قرب) کو اس تمثیل کے ذریعے واضح کرتا ہے:''میرے اور اس کے درمیان آنکھ او ربینائی کا تعلق ہے، کہ ایک ہمیشہ دوسری کے ساتھ ہے چاہے فاصلے کتنے ہی عظیم کیوں نہ ہوں۔ ''
تبصرہ نگاروں کے لیے یہ بہت مشکل تھا کہ وہ اقبال کے ان خیالات کو وحدت الوجود کے خلاف ان کے بیان کی روشنی میں کیا معنی پہنائیں، اور بلاشبہ سب سے آسان توجیہہ یہ تھی کہ 'اسرارِ خودی' لکھنے کے کچھ عرصہ بعد ایک بار پھر ان کی سوچ میں تبدیلی رونما ہوگئی۔ ہم اس ڈرامائی قسم کی توجیہہ سے بچ سکتے ہیں بشرطیکہ صرف یہ سمجھ لیں کہ اقبال نے بھی اپنے بہت سے ہم عصروں کی طرح دو مختلف تصورات کو آپس میں خلط ملط کردیا تھا:یعنی وحدت الوجود کا وہ تصور جسے ابن عربی اور دوسرے بڑے صوفیأ نے پیش کیا اور وہ تصور جو بعد کے زوال کے تنزّل پذیر مسلم معاشروں نے پیش کیا۔ چونکہ اقبال یہ سمجھتے تھے کہ دونوں ایک ہی ہیں لہٰذا انھوں نے دونوں پر تنقید کی۔ جبکہ ان کے اندر کی زندگی نے الُوہی روشنی سے ایک تعلق دریافت کرلیا تھا اور اسے قائم رکھا، اور خواہ وہ اس سے آگاہ تھے یا نہیں، یہ تعلق وجود کی اصل صوفیانہ تعبیر سے براہ ِ راست ہم آہنگ تھا۔
مگر ان سب باتوں سے قطع نظر، اقبال کے ہاں ہمیں ایک نقطہ ایسا نظر آتا ہے جو انھیں سب سے الگ اور منفرد کردیتا ہے۔ تمام صوفیأ نے، بشمول رومی (بلکہ خاص طور پر رومی) وصال کو فراق پر فوقیت دی ہے۔ وصال ایک نعمت ہے جبکہ فراق ایک عذاب:قطرہ سمندر میں مل جانے سے خود سمندر بن جاتا ہے) ۔ مگراقبال کے نزدیک قطرہ کو چاہیے کہ سمندر میں گم ہوجانے کی بجائے خود کو صدف کے اندر چھپالے اور ایک موتی بن جائے۔ ''موج، جب تک کہ وہ سمندر کے سینے پر ایک موج کے طور پر موجود رہتی ہے تو وہ سمندر پر سواری کرتی ہے''، انھوں نے 'اسرارِ خودی 'میں کہاہے (اسی تمثیل کے ذریعہ ایک اور نظم 'شمع اور شاعر' (۱۹۱۲) میں یہ بتایا گیا ہے کہ موج کا دارومدار سمندر پر ہے) ۔ یہاں موج کے سمندر کے اندر اپنی اصل حالت میں برقرار رہنے پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔
روایتی صوفیانہ نقطۂ نظر سے دیکھیں تو یہ چیز عشق کے تصور کے برخلاف نظر آتی ہے۔ مگر یہ بھی ایک ایسا نقطہ ہے جس میں اقبال ہمیں خود اپنے زمانے کے مقابلے میں آج کے دور سے زیادہ مطابقت رکھتے نظر آتے ہیں۔ آج معاشرہ خود ہمیں فرد کواس کی ذاتی آزادی دینے کے حق میں نظر آتا ہے۔ شادیاں ٹوٹنے کی شرح میں اضافہ اور تنہا زندگی گزارنے کو ترجیح دینے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو، اور جن میں خواتین بھی شامل ہیں، پہلے ہی جدید دنیا میں انفرادی نشونما کے طریقوں کی تبدیلی سے تعبیر کیا جارہا ہے۔
مشرق میں تصوف کو ایک الگ ہی مقام حاصل ہے، جہاں روایتی معاشرہ درباروں اور مزاروں کے گرد گھومتا تھا۔ سیاسی تحریکوں کی عدم موجودگی میں مزار سماجی طور پر پِسے ہوئے طبقے (یا طبقۂ امرأ میں سے چند باغیوں کے لیے جیسے امیر خسرو اور مغل شہزادہ دارا شکوہ) کے لیے کتھارسس کا ایک ذریعہ تھا۔ اس کے علاوہ ظاہر ہے کہ یہ عوام کو جبرواستبداد کی جڑوں کے بارے میں سوچنے سوال اٹھانے سے باز رکھنے میں معاون بھی ہوتا تھا۔ اقبال ایک ایسے دور میں سامنے آئے جب مشرق کا یہ سوال نہ اٹھانے والا رویہ مغربی سیاسی فکر کے اثر کے تحت بدل رہا تھا، لہٰذا یہ بات لازمی تھی کہ انھوں نے اس روایت کی جو تعبیر کی، چاہے وہ کتنی ہی صوفیانہ کیوں نہ ہو، وہ ماضی سے مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں ہوسکتی تھی۔ اس معاملے میںخوش قسمتی سے ان کی رہنمائی منطق نے اتنی نہیں کی جتنی کہ اس چیز نے جسے وہ ''زندگی کی اندرونی وحدت''کا نام دیتے تھے۔
اقبال کو اُن کے معاصرین کے بعد، حسین نصر جیسے نمایاں مصنفوں نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ زیرِ نظر کتاب میں اب تک جو کچھ کہا جاچکا ہے اس کی روشنی میں یہ تو واضح ہے کہ اقبال ڈارون کے مقلد نہیں تھے۔ اس اعتراض کو کہ اقبال روایتی مسلم فکر سے ہٹ گئے تھے (جو کہ نصر کے تبصرہ سے اخذ کیا جاسکتا ہے) روایت کے موضوع پر خود نصر کے اپنے نقطۂ نظر کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔
نصر اور ان کے مکتبۂ فکر نے قرونِ وسطیٰ کے بعد پہلی مرتبہ کلاسیکی مسلم فکر کو اس کے اصل پس منظر میں بیان کرنے کے سلسلے میں ایک مرکزی کردار ادا کیا ہے جو تاریخی اعتبار سے ایک قابلِ ذکر کارنامہ ہے۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ ایسے قابلِ قدر کام کے لیے انھوں نے جس توانائی سے کام کیا، وہ انھیں کچھ زیادہ ہی آگے تک لے گئی۔ کلاسیکی مصنفین کو ان کی اپنی فکر کے درست تناظر کے سوا ہر تناظر سے الگ کردینا، ان کی اصل حالت کو بحال کرنے کا سبب تو بنا مگر یہ روّیہ ہمیں خود کو محدود کردینے والے اکیلے پن کا شکار کردیتا ہے اوریہی اعتراض اقبال کے زمانے میں اشپنگلرپر کیاجاتا تھا۔ اقبال جہاں روایت کا بہت گہرا احترام کرتے تھے، وہاں وہ مجذوبانہ حد تک انسانی نشوونما کے اصول کے گرویدہ تھے۔ وہ نسلِ انسانی کوبنیادی طور پر ایک وحدت قرار دیتے تھے اور ان کے نزدیک تہذیبوں کے امتیازات اس لیے تھے کہ انھیں لوگوں کومضبوط بنانے کے لیے 'استعمال' کیا جائے نہ کہ اپنے نام نہاد تشخص کے طور پر ان کی پرستش کی جائے:

مشرق سے ہو نومید نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر!

The Poetics of Iqbal


.

'اسرارِ خودی' کا بیشتر حصہ فلسفۂ فن پر مشتمل ہے، خصوصاً ادب پر۔ بعد کی بہت سی تحریروں میں بھی انھوں نے یہ موضوع دوبارہ اٹھایا ہے مگر سب سے نمایاں طور پر زبورِ عجم (۱۹۲۷) اور ضربِ کلیم (۱۹۳۷) میں نظر آتا ہے۔ ان مجموعوں میں موجود ان کے خیالات کو اگر مجتمع کیا جائے تو ایک قسم کی 'شعریاتِ اقبال'تشکیل دی جاسکتی ہے اور اس کا مطالعہ دو پہلوؤں سے کیا جاسکتا ہے: (۱) تخلیق کی نفسیات اور (۲) فن اور ادب کا مقصد۔
فن کے بارے میں اقبال کے اعلیٰ و ارفع تصورات کے بارے میں اتنا کچھ کہا جاچکا ہے کہ اکثر اس بات کو فراموش کردیا جاتا ہے کہ انھوں نے مبادیات کو کس قدر اہمیت دی ہے۔ تکنیک بے حد اہم ہے۔ خود اقبال نے شاعری کی کلاسیکل تکنیک میں اُس وقت ہی مہارت حاصل کرلی تھی جب وہ ابھی اسکول میں پڑھتے تھے۔ جس میں اوزان کا علم، ابجد اور اصناف کے قوانین شامل ہیں۔ نو آموز شاعروں کی تربیت کے لیے جو روایت قرونِ وسطیٰ سے چلی آرہی تھی اس میں ان قوانین کو توڑنا ناممکن سمجھا جاتا تھا اور یہ کسی حد تک صحیح بھی تھا؛کسی بھی فن کے اصول اساتذہ نے 'بنائے ' نہیں ہوتے بلکہ 'دریافت 'کیے ہوتے ہیں۔ یہ بالکل قوانین ِ فطرت کی طرح ہوتے ہیں؛اگر آپ ایک ہوائی جہاز بنانا چاہتے ہیںتو آپ کو کششِ ثقل کے قوانین تو دریافت کرنا ہی ہوں گے۔ اسی طرح اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی نظم سننے والے کے دل پر اثر کرے تو آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک زبان کا سننے والے پر کیا اثر پڑتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ شاعر ایک ایسے خیال کے زیرِ اثر ہو جس کا اظہار، تحریر کے روایتی طریقوں کے ذریعے مشکل ہومگر پھر بھی ایک حقیقی فنکار کواپنے فن کے رموز و قوانین کے آگے جدو جہد کرنا ہی پڑتی ہے تب جاکر اس کا عظیم خیال اظہار پاتا ہے ، تب جاکر یہ فن کا ایک ایسا شہ پارہ بنتا ہے جو سامعین کے صرف ذہنوں ہی کو نہیں بلکہ ان کی پوری شخصیت کو متاثر کرتا ہے۔ اسی کوشش اور محنت کے حوالے سے اقبال نے ضربِ کلیم میں کہا ہے :ہر چند کہ معنی کی ایجاد قدرت کا کارنامہ ہے، مگر پھر بھی ایک ہنر مند کوشش اور جدوجہدسے آزاد نہیں ہو سکتا۔ مزدور کے خون کی گرمی سے یہ اپنی زندگی حاصل کرتا ہے۔
لہٰذاکسی بھی فنی شہ پارے کے لیے پہلا معیار اس کا کمال ہے۔ اسے خوبصورت ، شاندار اور خوشگوار ہونا چاہیے۔ اس کا خوش کن ہونا لازم ہے۔ مگر چونکہ خودی زندگی کی اہم ترین قدر ہے لہٰذا ایک فنی شہ پارہ کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ خودی کو مستحکم کرے نہ کہ اسے کمزور کردے۔ چند سال بعد جب نکلسن نے اسرارِ خودی کا ترجمہ کرنے کا ارادہ کیا تو اس سلسلے میں ایک وضاحتی نوٹ لکھتے ہوئے کہا:''لہٰذا شخصیت کا تصور ہمیں ایک اخلاقی معیار دیتا ہے۔ جو چیز شخصیت کو مضبوط کرے وہ اچھی ہے اور جو اسے کمزور کرے وہ بری ہے۔ فن، مذہب اور اخلاقیات کو شخصیت کے حوالے سے دیکھنا چاہیے۔ افلاطون پر میری تنقیددراصل ان فلسفیانہ نظاموں کے خلاف ہے جوزندگی کے بجائے موت کو اپنا مطمح نظر بناتے ہیں-وہ نظام جو زندگی کی عظیم ترین رکاوٹ کو نظر انداز کرتے ہیں، یعنی مادّی رکاوٹوں کو، اور ان کو اپنے اندر ضم کرلینے کے بجائے ان سے فرار کا سبق دیتے ہیں۔ ''
اقبال کے نظریۂ فن میں یہی وہ نقطہ ہے جہاں وہ ارسطو کے سب سے زیادہ قریب ہیں (اور جس کو اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے) ۔ فن کے بارے میں ان کا تصور ان اصولوں پر سختی سے کاربند ہے جیسے 'الف، الف ہے'، 'تناقص ممکن نہیں'، 'کسی بھی شے کی تعریف اس کے مقصد کے حوالے سے ہوتی ہے''، 'نشونما زندگی کی بنیادی قدر ہے'جو کہ ارسطو کے بنیادی قوانین میں سے ہیں۔ گو کہ بہت ممکن ہے کہ ارسطو کی تحریروں سے واقف ہونے کے باوجود، اقبال نے یہ خیالات ازمنۂ وسطیٰ کے مُسلم مفکرین کی روایت سے اخذ کیے ہوں جنھوں نے ارسطو کی شرھیں لکھی تھیں۔ اقبال اور امریکی مصنفہ آئن رنیڈ (۱۹۰۵-۱۹۸۲) کے خیالات میں جو مشابہتیں پائی جاتی ہیں، وہ اِس امر کی اچھی مثال ہیں کہ اقبال کے ادبی نظریات ارسطا طالیسی روایت کے ذریعے مُسلم فکر اور مغرب کی رومانوی تحریک کے زیراثر پروان چڑھے۔
دونوں ایک دوسرے کے نام سے بھی واقف نہیں تھے، اور بعض دوسرے موضوعات پر ان کے نظریات ایک دوسرے سے یکسر مختلف بھی ہیںمگر فن کے مقصد کے بارے میں دونوں کے تصورات میں اس حد تک مماثلت پائی جاتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کا لفظی ترجمہ محسوس ہوتے ہیں۔ رینڈ فن کو ''روح کی تکنیک'' اور انسان کی'' نفسیاتی بقا'' قرار دیتی ہیں۔ ان کی کتاب رومانوی منشورجو کہ ۱۹۷۱ میں شایع ہوئی، اس کے کچھ حصے تو ایسے ہیں کہ اگر کوئی شخص ان کے بارے میں کچھ نہ جانتا ہو تو انھیں اقبال کی تحریر سمجھ سکتا ہے:''چونکہ انسان کا مقصد لامحدود ہے اورچونکہ اقدار کے حصول کے لیے اس کی کوشش اور کامیابی زندگی بھر کا سلسلہ ہے اور جتنی اونچی اقدار ہوں گی، جدوجہد اتنی ہی سخت ہوگی، اس لیے انسان کو وقت کا کوئی لمحہ، کوئی گھنٹہ یا کچھ عرصہ تو چاہیے جس میں وہ اپنے تکمیل شدہ کام کے احساس کا تجربہ کرسکے، ایک ایسی کائنات میںسانس لینے کا احساس جہاںاس نے اپنی اقدار کامیابی سے حاصل کرلی ہیں۔ یہ گویا ایک سکون کا لمحہ ہے، مزید آگے بڑھنے کے لیے ایندھن حاصل کرنے کا لمحہ۔ فن اسے یہ ایندھن فراہم کرتا ہے۔ فن اسے اس کے مبہم سے مقاصد کی مکمل، براہِ راست اور ٹھوس حقیقت کو دیکھنے کا تجربہ فراہم کرتا ہے۔ ''
یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ رینڈ نے مغرب کی فکری زندگی پر افلاطون کے اثر کی مذمّت کی ہے، جبکہ اقبال بھی مشرق میں اسی اثر کی مذمت کرتے ہیں۔ دونوں میں جو نقطہ مشترک ہے وہ ارسطا طالیسی نقطہ ٔنظر ہے جس کی جڑیں ان دو بنیادی متبادلات میں پوشیدہ ہیں:''وجود یا عدم۔ ''

غیر تحریر شدہ


 

مثنوی کا تیسرا حصہ، جس میں یہ بیان کیا جانا تھا کہ ا س فلسفہ کو اپنانے سے نسل ِ انسانی عام طور پر کیا کچھ حاصل کرسکتی ہے، کسی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوگیا۔ کئی سال بعد جب اقبال نے اسے تحریر کیا تو ان کی شاعرانہ تحریک زبورِ عجمکی شکل میں ظاہر ہوئی جو ایک اور ہی رنگ لیے ہوئی تھی، پہلے سے کہیں زیادہ نغمگی لیے ہوئے، اور شاید اسی لیے زیادہ مبہم (زبورِ عجم پر تفصیلی بحث اگلے باب میں ہوگی) ۔ مگر اس نئے انداز کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے فکر کے اس رخ سے مکمل کنارہ کشی کبھی اختیار نہیں کی، اور ان کی آخری فارسی مثنوی 'پس چہ باید کرد' (۱۹۳۶) ، ان سوالوں کا سیرِ حاصل جواب فراہم کرتی ہے جو 'رموز'کو پڑھ کر ذہن میں اُبھرتے ہیں۔ ''تم اچھی طرح جانتے ہو''، وہ' پس چہ باید کرد'میں کہتے ہیں، ''آمریت قوت کے وحشیانہ استعمال کوکہتے ہے۔ ہمارے زمانے میں اس قوت کا نام تجارت ہے۔ اس کی دکان اب تخت وتاج کا ہی ایک حصہ ہے؛وہ تجارت کے ذریعے منافع حاصل کرتے ہیں اور سلطنت کے ذریعے ٹیکس۔ ''
اقبال چاہتے تھے کہ مشرقی اقوام ماضی کی صحت مندانہ روایات کو اپناکر، اور معاشی خودمختاری حاصل کرکے اپنی عزتِ نفس کو مستحکم کریں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صحت مند شخصیتیں سیاسی خود مختاری کے بغیر نہیں پنپ سکتیں، اور سیاسی فہم یا تو خدا کی طرف سے ودیعیت کیا جاتا ہے یا پھر ساحری پر مبنی ہوتا ہے۔ خدا کا ودیعت کیا ہوا فہم موسیٰ کی طرح آزادی بخشتا ہے؛جبکہ ساحرانہ فہم فرعون کی طرح غلام بنالیتا ہے۔ ''میری فارسی نظموں کا مقصد اسلام کی حمایت کرنا نہیں ، ''وہ ایک نقطہ پر اپنے مغربی سامعین سے کہتے ہیں، ''میرا مقصد تو محض ایک عالمگیر سماجی تشکیلِ نو کو دریافت کرنا ہے، ''اور انھوں نے واضح کیا کہ ایک ایسے معاشرے کو نظر انداز کرنا فلسفیانہ اعتبار سے ناممکن کیوں ہے جس میں مادّہ اور روح کے یکجا ہوجانے کا تصور تکمیل پاتا نظر آتا ہو۔ شاید وہ مذہبی عقیدے کو ایک ایسا اہم پوشیدہ ذریعہ سمجھتے تھی جو لوگوں کو متحرک کرنے میں کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔ جو لوگ عقیدے کے نام پر مرنے کو تیار تھے، وہ کیا کیا حیرت انگیز کارنامے نہیں کرسکتے، اگر ان کے عقیدے کی نئی تعبیر ایک 'عالمگیر سماجی تشکیلِ نو'کے فارمولے سے کی جائے۔
مگر یہ طریقہ خطرناک نتائج کے امکان سے خالی نہیں تھااور اقبال کے انتقال کے بعد ان کے پیغام کے ساتھ جو کچھ ہواوہ ایک ایسی ستم ظریفی ہے جس کااندازہ اپنے زمانے میں وہ شاید اتنے بہتر انداز میں نہیں لگاسکتے تھے جتنا اب ہم اس کو جان رہے ہیں۔ اگر وہ یہ توقع رکھتے تھے کہ لوگ اپنے قدیم عقائد کی نئی آزادانہ تعبیر کا سُن کر خوشگوار حیرت سے اچھل پڑیں گے تو ظاہر ہے کہ وہ اُن بے شمار لوگوں کو نظرانداز کررہے تھے جن کے نزدیک مذہب تکمیلِ ذات کا ذریعہ نہیں بلکہ تنقیدی فکر سے فرار حاصل کرنے کا ایک آسان طریقہ ہے۔
اقبال کی نظموں پر جو ردّ ِ عمل سامنے آیا تھا، وہ اسی بات کا غماز ہے۔ اسرارِ خودی کے پہلے ایڈیشن کے نتیجے میں غم وغصے کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا مگر تنقید کا دائرہ اس بات تک محدود تھا کہ اقبال نے اس میں حافظ شیرازی کے لیے بہت توہین آمیز الفاظ استعمال کیے ہیںاور اپنی مثنوی کو ایک متنازعہ شخصیت سے منسوب کیا ہے۔ کسی نے بھی کتاب کے بنیادی استدلال کے بارے میں کوئی ٹھوس سوال نہیں اٹھایا، یا ان سے یہ نہیں پوچھا کہ آیا ان کافلسفہ قابلِ عمل بھی ہے یا نہیں، حقائق پر مبنی ہے یا محض ایک خیال ہے؛لوگوںکو اس کی پروا نہیں تھی کہ وہ جو کہہ رہے ہیں وہ حقیقت پر مبنی ہے یا نہیں، انھیں محض اس کے طرزِ اظہار کی فکر تھی۔ اور جب یہ طوفان تھماتو ان کی 'شاعرِ اسلام' والی حیثیت پھر سے بحال ہوگئی بلکہ اب اس میں مزید رنگوں کا اضافہ ہوگیا۔ اورپھر توازن کا رخ، اُتنے ہی جذباتی انداز میں، ایک اور طرف مڑ گیا:ان کی تحریروں میں سے مسلم بادشاہوں اور فاتحین کے حوالے ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالے جانے لگے یہاں تک کہ ان کے وہ چند اشعار جن میں انھوں نے ماضی کی شان و شوکت بیان کی ہے، ان کے مشہور ترین اشعار بن گئے۔ ان کی اپنی زندگی میں ہی ان اشعار کو بڑی بے رحمی سے ان کے پس منظر سے الگ کرکے کیلنڈرز اور بینرز کی زینت بنایا جانے لگا، اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ اور یہی نہیں عوامی جنون جس وقت جوبھی رُخ اختیار کرے، یہ اشعار اس میں ایندھن کا کام دیتے ہیں۔ اقبال کے پیغام کے معانی کو ان کے مکمل تناظر میں جاننے کی کوشش بہت کم کی گئی ہے، جبکہ ان کی نظموں کی اصل اہمیت سے تو شاید ابھی تک لوگ واقف ہی نہیں ہیں۔۔۔جیسا کہ 'اسرارِ خودی'کے آغاز میں انھوں نے خود ہی کہا ہے:''میرا اپنا زمانہ رازنہیں جانتا؛میرا یوسف اِس بازار کے لیے نہیں ہے۔۔۔ بہت سے شاعر مرنے کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔۔۔''
سیاسی موزونیت political correctness) ( بھی ایک ایسا موضوع ہے جس کا یہاں ذکر ضروری ہے۔ بے شک اقبال کو ان کے اپنے ملک میں اس قدر عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ ان کی طرف سے کسی قسم کا معذرت خواہانہ روّیہ اختیار کرنا بہت سوں کے نزدیک ناقابلِ معافی جرم ہوگا۔ مگر ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ وہ خود حقائق کے کسی نئے زاوئیے کی طرف متوجہ ہونے میں دوسرے مفکرین کی نسبت زیادہ تیز تھے، یہاں تک کہ اگر انھیں اپنے نقطۂ نظر کو چھوڑ کرکوئی دوسرانقطۂ نظر اپنانا پڑتا تووہ ایسا کسی جبر و اِکراہ کے ساتھ نہیں بلکہ ایک بچے کی سی مسرت کے ساتھ کرتے تھے، ساری زندگی ان کا یہی طریقہ رہا۔ اگر وہ اکیسویں صدی میں زندہ ہوتے تو اپنے خیالات میں کیا تبدیلی لاتے؟یہ سوال ایک زندہ ٔ جاوید فلسفی کی روایت کے حوالے سے قطعی غیر متعلق نہیں ہوسکتا اور کچھ جگہوں پر ہم اس کا جواب بھی دے سکتے ہیں اگر ہم ان کی فکر کو تمثیل سے الگ کرکے دیکھیں، یعنی بنیادی اصول کو مثالوں سے الگ کرکے دیکھیں۔
ایسا ہی ایک موضوع معاشرے میں خواتین کے کردار سے متعلق اقبال کے نظریات میں ہم دیکھ سکتے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک اہم موضوع ہے کہ 'رموزِ بے خودی'بھی 'دخترانِ اسلام سے خطاب' کے بغیر مکمل نہیں ہوئی تھی جہاں انھوں نے عورت کے بحیثیت ماں کے کردار پر کچھ اس انداز میں زور دیا جو آج شاید ہمیں عورت کی انفرادیت کا انکار لگے۔ اور ہوسکتا ہے کہ ایسا ہی ہو، مگر ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اُس وقت تک تو ابھی انگلینڈ اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی عورت کو حقِ رائے دہی تک نہیں دیا گیا تھا۔ لہٰذا ان کے نظریات کسی ذہنی پس ماندگی کو ظاہر نہیںکرتے بلکہ انھوں نے تو پوری دنیا کے مردوں اور عورتوں کی اس اکثریت کی ترجمانی کی تھی جن کے خیال میں عورت اور مرد کی برابری قطعی ناقابلِ عمل تھی۔ جبکہ آج یہ بات کہ عورت کے سیاست میں حصہ لینے سے دنیا ختم نہیں ہوجاتی، اس قدر واضح حقیقت ہے کہ اگر اقبال آج کے زمانے میں ہوتے تو یقینا اس کو نظر انداز نہ کرتے اور ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اپنی آخری عمر میں انھوں نے خواتین کے بہت سے سماجی حقوق کی حمایت میں بھی آواز بلند کی تھی (جسے مناسب جگہ پر تفصیلاً بیان کیا جائے گا) ۔

عالمی جنگ میں، اور بعد کے حالات


 

جب پہلی جنگِ عظیم (۱۹۱۸۔ ۱۹۱۴) شروع ہوئی تو اقبال اپنی نظم کا پہلا حصہ لکھ رہے تھے اور جنگ کے اختتام سے پہلے وہ اس کا دوسرا حصہ شایع کروا چکے تھے۔ دریں اثنا رُوسی انقلاب آیا، اور اس کے بعد گاندھی جی کی عدم تعاون کی تحریک کے حربے چلے (جن میں مسلمانانِ ہند کی عظیم تحریکِ خلافت بھی شامل تھی)۔ اول الذکر کا تو اقبال نے کسی حد تک خوش دلی سے خیر مقدم کیا مگر آخرالذکر کو کچھ زیادہ پسند نہیں کیا۔ بلاشبہ وہ روس میں ایک ظالمانہ نظام کے خلاف مظلوم عوام کے اٹھ کھڑے ہونے پر بہت خوش تھے مگر اشتراکیت ان کے بنیادی تصورات سے بالکل مختلف تھی کیونکہ ان کے نزدیک حقیقت کی اصل روحانی ہے اور انسان کی قابلیتیں اس کے ضمیر ہی میں سے پھوٹتی ہیں تاکہ خارجی دنیا کو تسخیر کرسکیں۔ جبکہ اشتراکیت مابعد الطبعی روحانیت کو نہیں مانتی اور وجود کے اندر سے ہونے والی نشونما کے بجائے اس میں صنعتی ترقی اور لوگوں کو سانچے میں ڈھالنے کے نپے تلے خد وخال نظر آتے تھے۔ اقبال بالشویک نظریہ سے نہیں بلکہ آزادی کے اس فلک شگاف نعرے سے متاثر ہوئے تھے جو اُس سرخ اکتوبر کے دوران کروڑوں لوگوں کے ایک عظیم اجتماع کے حلق سے نکلا تھا۔
برطانوی شہنشائیت کے خلاف گاندھی کی جرأت مندانہ مزاحمت کے لیے بھی اقبال نے کچھ تعریفی شعر لکھے (جو کہ اب شاید کسی کو بھی یاد نہیں کیونکہ بعد میں اردو نظموں کے مجموعے میں شامل نہیں کیے گئے تھے) ۔ مگر جس طرح بالشویک نے جدید ٹیکنالوجی کے نام پر روحانیت کا انکار کیا تھا، بالکل اسی طرح گاندھی کا رویہ جدیدیت کا انکارلگتا تھا، ایک ایسے روحانی اصول کے نام پر جو خود ان پر بھی پوری طرح ظاہر نہیں ہوا تھا۔ ان کے پیروکاروں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ جب اور جس طرح ان کے گُرو کی اندرونی روشنی ان پر منکشف ہوئی (اگر ہوئی تو) اس سے ان کو بھی آگاہ کردیا جائے گا۔ اقبال شروع میں تحریکِ خلافت میں شامل ہوئے مگر آئینی تفصیلات پر اختلافِ رائے ہونے کی وجہ سے اس سے الگ ہوگئے۔ تحریکِ خلافت کے رہنما ؤں کے لیے مشہور تھا کہ وہ اپنے عظیم مقصد کی خاطر اس حد تک جذباتی ہوجاتے تھے کہ اکثر عقلی تقاضوں سے بھی رُوگردانی کرجاتے تھے۔ یہاں یہ تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ اسی دور میں جناح نے انڈین نیشنل کانگریس کو چھوڑدیا تھاکیونکہ گاندھی سے اسی قسم کے اختلافات انھیں بھی تھے۔
'خضرِ راہ'، وہ اردو نظم جو اقبال نے ۱۹۲۱ء میں پڑھی، حالاتِ حاضرہ کے بارے میں ان کے نقطۂ نظر کا احاطہ کرتی اور کسی حد تک ان کی مثنوی کے تیسرے حصہ کے موضوعات کا خلاصہ بھی پیش کرتی ہے، جو اس وقت بڑی حد تک ان کے ذہن میں موجود تھے مگر وہ اسے لکھنے میں تاخیر سے کام لے رہے تھے (جس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ایسی طویل اور سیرحاصل اردو نظم لکھ لینے کے بعدیہی موضوعات فارسی میں دوبارہ اٹھانے کی ان کو خواہش رہی ہو) ۔ اس نظم میں خضر، جو اسلامی روایات میں قیامت تک زندہ رہنے والی شخصیت کے طور پر مشہور ہیں، حرکت اور وجود کے قانون کو مختصراًبیان کرتے ہیں-شاید ان لوگوں کے لیے جو اس موضوع پر فارسی میں اُن کے نظریات کو نہ پڑھ سکے ہوں جو کہ وہاں بہت تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ اور پھر وہ تین اہم ترین موضوعات پر آتے ہیں:سلطنت، سرمایہ و محنت، اور دنیائے اسلام۔

سلطنت اقوامِ غالب کی ہے اک جادوگری

اقبال یہ بات اس دانا بزرگ کی زبان سے کہلواتے ہیںاور برطانوی حکومت کی آئینی اصلاحات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انھیں محض نظر کو فریب دینے کا ایک ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ نظم کا سب سے بھرپور حصہ وہ ہے جہاں اقبال خضر کی زبان میں روسی عوام کو سلام پیش کرتے ہیں؛یہاں وہ اپنے روحانی نظریہ کے مقابلے میں بالشویک کے فلسفہ کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں:

توڑ ڈالیں فطرتِ انساں نے زنجیریں تمام
دوریٔ جنت سے روتی چشمِ آدم کب تلک

البتہ اس نظم میں دنیائے اسلام کی حالت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ شاعرانہ اظہار کے موثرترین نمونے ہیں، مثلاً خضر مشرقِ وسطیٰ پر برطانیہ کے مکاّرانہ قبضے پر، جس میں عربوں کو ترکوں کے خلاف استعمال کیا گیا تھا، تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

لے گئے تثلیث کے فرزندمیراثِ خلیل ؑ
خشتِ بنیادِ کلیسا بن گئی خاکِ حجاز!
ہوگئی رُسوا زمانے میں کلاہِ لالہ رنگ
جو سراپا ناز تھے، ہیں آج مجبور ِ نیاز!

('کلاہِ لالہ رنگ'سے روایتی ترکی ٹوپی' فیض 'مراد ہے۔ یہاںغالباً اقبال کے پیشِ نظر عثمانی سلطان اور اتحادیوں کے درمیان ذلّت آمیز صلح نامے پر ہونے والے مذاکرات تھے) ۔ ایران اور مغربی شہنشاہوں کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدوں پر تنقید کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں:

لے رہا ہے مے فروشانِ فرنگستاں سے پارس
وہ مئے سرکش، حرارت جس کی ہے مینا گداز!
حکمتِ مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئی
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کردیتا ہے گاز
ہوگیا مانندِ آب ارزاں مسلماں کا لہو
مضطرب ہے تو کہ تیرا دل نہیں دانائے راز
گفت رومی ہر بنائے کہنہ کآباداں کنند
می مذانی اول آں بنیاد را ویراں کنند؟

رومی نے بہت پہلے کہہ دیا تھا، جب کو ئی بنیاد دوبارہ اٹھانی مقصود ہو تو پہلے پرانی عمارت کو گرایا جاتا ہے؟اقبال مسلمانوں کو جو تجویز پیش کرتے ہیں وہ اس وقت کے غالب رجحانات سے قطعی مختلف ہے، جن کی نمایندگی تحریکِ خلافت کے رہنما کررہے تھے جو ایک طرف تو ہندو قوم کے ساتھ، بغیر کسی آئینی بنیاد کے ، اتحاد کے منصوبے بنارہے تھے اور دوسری طرف اُنھی نوآبادکاروں سے مراعات لے رہے تھے جن کے خلاف وہ دوسرے محاذوں پر جدوجہد کررہے تھے۔ دوسال پہلے اقبال نے اپنی ایک نظم'دریوزۂ خلافت' میں کہا تھاکہ اگر ملک ہمارے ہاتھوں سے جاتا ہے تو بے شک جائے مگر ہمیں احکامِ حق سے ہرگز نہیں ہٹنا چاہیے۔ اب اقبال خضر کے ذریعے یہ تجویز پیش کررہے تھے کہ تمام مسلم ممالک کو اپنی اپنی سیاسی اور جغرافیائی صورت حال سے بے پروا ہوکر متحد ہوجانا چاہیے، اور یہ پیغام جس شعر کی شکل میں دیا گیا وہ اب ایک ضرب المثل کی حیثیت اختیار کرگیا ہے:

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بہ خاکِ کاشغر

وہ دنیائے اسلام کو خاطر جمع رکھنے اور پیش ِ نظر مواقع کو نظر انداز کرکے ایک دُوررس نکتہ پر اپنی نظریں مرکوز کرنے کو کہتے ہیں۔ بلاشبہ یہ پیشِ نظر مواقع فی الوقت تو پرکشش نظر آتے ہیں مگر آگے چل کر یہ ہمارے اصل مقاصد کو نقصان پہنچائیں گے۔
اگلے چند برسوں کے واقعات نے اس بات کو ثابت کر دکھایا کہ اقبال، جن کو محض ایک خواب دیکھنے والا کہا جاتا تھا، ہر لحاظ سے درست تھے اور وہ ''جرأت مند عملی لوگ''ہر اُس بات میں غلط تھے جس پر انھوں نے اس فلسفی شاعر سے اختلاف کیا تھا۔

لندن میں ہنگامہ


 

'خضرِ راہ 'سے ایک سال قبل، یعنی ۱۹۲۰ میں، آر۔ اے۔ نکلسن نے اسرارِ خودی کا ترجمہ کیا۔ جہاں جہاں بھی انگریزی بولی جاتی تھی وہاں اس کا نوٹس لیا گیا اور دوسال بعد 'لیفٹنٹ جنرل آف پنجاب' (گورنر پنجاب کو انگریز راج میں یہ نام دیا گیا تھا) نے جب ایک غیر ملکی صحافی سے اقبال کا نام سنا تو انھیں فوراً خیال آیا کہ کیوں نہ اس مقامی شاعر کو ہندوستانی نائٹ کے بلند مقام پر فائز کردیا جائے۔ اس دوران مغرب کے ادبی حلقوں میں اقبال کے فلسفہ کے خلاف ایک طوفان اُٹھ کھڑا ہُوا۔ اُس زمانے کے نقادوں کے کیا خیالات تھے، اُن کے تبصرے آج پڑھے جائیں تو ہمیں اقبال سے ہمدردی ہوجائے گی۔ یوں کہیے گا کہ ایک دیو بونوں میں گھِر گیا ہے۔
پہلی بات یہ کہ فاضل اور شریف النفس نکلسن کو معنی کی باریک ترین جزئیات میں اُتر جانے کی عادت تو تھی، لیکن وہ وسیع سیاق و سباق کی پوری تصویر کو دیکھنے کی صلاحیت سے عاری تھے۔ ترجمہ کو شایع کروانے سے پہلے انھوں نے اقبال سے تمہید لکھنے کی درخواست کی جس کے جواب میں شاعر فلسفی نے ایک نوٹ لکھ کر بھیج دیا۔ ''شخصیت کا تصور ہمیں ایک اخلاقی معیار دیتا ہے؛یہ خیروشر کا مسئلہ حل کردیتا ہے، جو چیز بھی شخصیت کو مضبوط بنائے وہ خیر ہے، اور جو اسے کمزور بنائے وہ شر ہے۔ فن، مذہب، اور اخلاقیات کو شخصیت کے حوالے سے جانچا جانا چاہیے۔۔۔''باوجود اس کے کہ نکلسن کے پاس اقبال کے بھیجے ہوئے مکمل نوٹ سے استفادہ کرنے کی سہولت و صلاحیت موجود تھی، انھوں نے اپنی بھرپور تخلیقی صلاحیتیں صرف کرکے انہیںایک'' مذہبی جوش سے بھرے ہوئے'' ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کیا، ''جس کے ذہن میں ایک نئے مکّہ کا تصورہے، جو کہ ایک عالمگیر مذہبی اور تصوراتی ریاست ہوگی جہاں تمام مسلمان، نسل و قومیت کی تقسیم سے بالا تر ہوکرایک ہوں گے-یاد رہے کہ جب وہ مذہب کی بات کرتے ہیں تو ان کی مراد ہمیشہ اسلام سے ہوتی ہے۔ غیر مسلم ان کے لیے محض کافر ہیںاور (کم از کم نظری اعتبار سے) جہاد کرنا بالکل جائز ہے اگر وہ 'صرف فی سبیل اللہ کیا جائے۔ '''اس رائے کی اشاعت کے بعد اگر اقبال کوسی آئی ڈی کے انسپکٹر جنرل نے مزید تفتیش کے لیے بلانے کی بجائے گورنر نے سر کا خطاب دینے کے لیے بلا بھیجا تو اسے ان کی خوش قسمتی سمجھنا چاہیے!
کیمبرج کے زمانے کے ایک واقف کار لسلی ڈکنسن نے، جس نے کیمبرج کے دنوں میں اقبال کے لیے ولیم بلیک اور مشرقی حکمأ کے درمیان تقابلی جائزے کی کوشش میں مدد کی تھی، سب سے پہلے اس ترجمے کا نوٹس لیا۔ ''یہ بات بالکل واضح نظر آتی ہے کہ مسٹر اقبال ایک مذہبی جنگ کے خواہشمند ہیں اور اس کی راہ دیکھ رہے ہیں، ''ڈکنسن نے لندن کے اخباردی نیشنمیں لکھا اور کہا کہ مغرب، جو ایک جنگ ِ عظیم کی تباہ کاریوں کا سامنا کرنے کے بعد اب زخم خوردہ اور مضمحل ہوکر مشرق کی جانب دیکھ رہا تھا کہ وہاں وہ اُمید کے ایک نئے ستارے کو دیکھ سکے گا وہاں اسے جو کچھ نظر آرہا ہے وہ''بیت اللحم کا ستارہ نہیں بلکہ یہ لہو رنگ سیاّرہ ہے'' (غالباً ڈکنسن ییٹس کی نظم''دوسری آمد'' کا استعارہ استعمال کررہا تھا) ، ''مشرق اگر ہتھیار اُٹھا لے تو ہوسکتا ہے کہ وہ مغرب پر فتح حاصل کرلے، ''آخر میں اس نے کہا، ''لیکن اس سے وہ انسانیت کے لیے کوئی نجات حاصل نہیں کرسکے گا۔ وہی پُرانی خونی جنگ اس منتشر اور زخم خوردہ دنیا کے طول و عرض میں بار بار دہرائی جائے گی:کیا یہی مسٹر اقبال کا حرفِ آخر ہے؟''
ڈکنسن کا '''بروٹس تم بھی؟ تو پھر سیزر کو مرنا ہی چاہیے!'' والا احساس دراصل اس وجہ سے تھا کہ جنگِ عظیم کے اختتام پر یورپ کے رجعت پسندوں کو یہ توقع ہوگئی تھی کہ اب مزید کوئی جنگ نہیں ہوگی، خاص طور پر جب سے لیگ آف نیشن قائم ہوئی تھی۔ اقبال خواہ امن کی کتنی ہی خواہش کیوں نہ رکھتے ہوں، بہرحال کسی فریب میں نہیں تھے، لیگ آف نیشنزگویا کفن چوروں کا ایک اجتماع تھا تاکہ وہ قبروں کی تقسیم کرسکیں۔ انھوں نے نکلسن کو خط لکھا اور اس پیغام کو آگے بڑھانے کے لیے کہا، ''مسٹر ڈکنسن یہ کہنے میں بالکل حق بجانب ہیں کہ جنگ تباہ کن ہے، چاہے وہ حق و انصاف کے نام پر کی جائے یا فتح اور استحصال کے مقصد سے۔ اس کو ہر حال میں ختم ہوجانا چاہیے۔ مگر ہم دیکھ چکے ہیں کہ معاہدے، لیگیں، مصالحتیں اور کانفرنسیں اس کو ختم نہیں کرسکتیں۔ چاہے ہم ان کا استعمال پہلے سے زیادہ مؤثر انداز ہی میں کیوں نہ کریں، مفاد پرست اقوام اُن نسلوں کے استحصال کی مزید پُرامن شکلیں اختیار کرلیں گی، جو کم حمایت یافتہ اور کم تہذیب یافتہ سمجھی جاتی ہیں ۔ سچ یہ ہے کہ ہمیں ایک جاندار شخصیت کی ضرورت ہے کہ وہ ہمارے معاشرتی مسائل حل کرے، ہمارے تنازعوں کا تصفیہ کرے، اور بین الاقوامی اخلاقیات کو ایک یقینی بنیاد پر استوار کرے۔۔۔''
اقبال خود بھی اس امکان کے پورا ہونے کی راہ دیکھ رہے تھے کہ تہذیبوں کا ارتقا ایک دن جنگ اور تنازعات کو ختم کردے گا، مگر ، ''میں اقرار کرتا ہوں کہ اس معاملے میں میں تصوریت پسند نہیں ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ وہ وقت ابھی بہت دور ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ انسانیت ایک طویل عرصے تک وہ سبق یاد نہیں کرسکے گی جو پہلی جنگِ عظیم نے اُسے سکھایا ہے۔ تبصرہ نگار نے یہ شکوہ بھی کیا تھا کہ اقبال نے اپنے عالمگیر فلسفے کا اطلاق صرف ایک خاص قوم پر کیا ہے اور غیر مسلموں کو اس سلطنت موعودہ سے باہر رکھا گیا ہے۔ اقبال نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آفاقی تصورات کو جب عمل کے سانچے میں ڈھالنا مقصود ہو تو اس کی شروعات ایک ایسے گروہ سے کرنی چاہیے جو ایک جیسی ذہنیت رکھتے ہوں۔ گو کہ ان کا مقصد اسلام کی حمایت میںراہ ہموار کرنا نہیں تھا، مگر پھر بھی انھوں نے اس مقصد کے لیے مسلم معاشرے ہی کو منتخب کیا کیونکہ''اس نے اب تک خود کو نسلی تصور کا سب سے کامیاب حریف ثابت کیا ہے، جو کہ انسانیت پسندی کے تصور کی راہ میں غالباً سب سے بڑی رکاوٹ ہے-نسلی اور علاقائی خطوط پر استوار قبائلی اور قومی تنظیمیں اجتماعی زندگی کی نشونما میں محض عارضی مرحلے ہیںاور اس اعتبار سے مجھے ان سے کوئی بحث نہیں؛مگر جہاں انہیںنسلِ انسانی کی زندگی کا ایک آفاقی اظہار قرار دیا جاتا ہے وہاں میں شدید ترین الفاظ میں ان کی مذمّت کرتا ہوں ، جتنے شدید الفاظ میں ممکن ہو۔'' اُس زمانے میںان کے الفاظ کا مطلب مکمل طور پر سمجھنا شاید ممکن نہ رہا ہومگر آج ان کو سمجھنا نسبتاً آسان ہے جب انسانی ترقی کی فطری رو نے ہمیں ''گلوبل ولیج'' کی اصطلاح سے روشناس کردیا ہے۔
سب سے بے رحمانہ تنقید ای ایم فوسٹرکی جانب سے ہوئی (جس کی پیسج ٹو انڈیا ابھی تکمیل کے مراحل میں تھی اور دوسال بعد شایع ہوئی) ۔ دی اتھینیم میں نکلسن کے ترجمے پر تبصرہ کرتے ہوئے اس نے کہا کہ ٹیگور کی طرح اقبال کا ترجمہ پہلے ہوجانا چاہیے تھا۔ٹیگور سے اقبال کا موازنہ کرتے ہوئے اس نے کہا:''ٹیگورجب تک یورپ نہیں گئے تھے تب تک ان کو بنگال سے باہر زیادہ قابلِ توجہ نہیں سمجھا جاتا تھا، جبکہ اقبال مغرب کی مدد کے بغیر ہی اپنی وسیع سلطنت کو [اپنے لوگوں کے درمیان]حاصل کرچکے ہیں۔ ''اقبال کے اپنے لوگوں کے تبصروں کی نسبت یہ الفاظ ان کی خوددار طبیعت کی زیادہ بہتر عکاسی کرتے تھے۔ مگر فوسٹرکی نگاہ کچھ زیادہ گہری نہیں تھی اور نہ ہی وہ جزئیات پر زیادہ توجہ دیتا تھا، لہٰذا اس نے تاریخوں کو خلط ملط کردیا اور اقبال کی بھاٹی گیٹ کے دور کی نظموں کو، جنھیں 'قومیت پسندی' پر مبنی سمجھا جاتا تھا، ان کی تازہ ترین نظمیں سمجھ لیا؛اس کے خیال کے مطابق اقبال نے اسلامی نظمیں لکھنے کے بعداب اپنا نقطۂ نظر تبدیل کرلیا تھا تاکہ وہ ہندوستان میں اُٹھنے والی آزادی کی تحریکوں کے مرکزی دھارے میں شامل ہوسکیں اور اب وہ ایک ہمہ جہت ہندوستانی قوم کے تصور کے قریب ہوتے جارہے ہیں۔
گو کہ فوسٹر ایک نرم مزاج اور سمجھدار دانشور تھامگر وہ حقائق کوباریک بینی سے دیکھنے کا عادی نہ تھا اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ اقبال کے کلام سے قطعی بے بہرہ تھا، لہٰذا وہ بھی اسی غلط فہمی کا شکار ہوا جو دراصل نکلسن کے ترجمے سے پیدا ہوئی تھی اور اس کے بعد اسے ہر تبصرہ نگار نے دہرایا:یعنی اقبال پر نیٹشے کا اثر!مگر فوسٹر ایک قدم آگے بڑھ گیا۔ ''اقبال کااصل کمال یہ نہیں کہ انھوں نے (نیٹشے کے نظریہ) کو اپنایا بلکہ ان کا اصل کارنامہ تو یہ ہے کہ انھوں نے اسے قرآن سے ہم آہنگ کردیا۔ اس کے لیے دو، اور محض دو ترامیم کی ضرورپڑی۔۔۔ ''
ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس بے سروپا تبصرہ پر اقبال نے کیا محسوس کیا ہوگا۔ ''ایتھینیمکامبصّر میرے انسانِ کامل کے تصور کو ٹھیک طرح سے نہیں سمجھ سکا جس کو اس نے جرمن مفکر کے سپر مین پر مبنی سمجھ لیا ہے، ''اقبال نے نکلسن کو ایک شکایتی خط لکھا، ''میں نے انسانِ کامل کے صوفیانہ نظریہ پر بیس سال قبل لکھا تھا، نیٹشے کی کسی بھی چیز کو پڑھنے یا سننے سے بہت پہلے۔۔۔''اقبال نے اپنے الجیلی والے مقالہ کی تاریخِ اشاعت کا حوالہ بھی دیااور توقع ظاہر کی کہ اگر مبصّر کو ''میری اُردو نظموںمیںسے کچھ کی، جن کا اس نے اپنے تبصرہ میں حوالہ بھی دیا ہے، تاریخوں کا علم ہوتا تو وہ یقینا میرے ادبی ارتقا کے بارے میںایک بالکل مختلف نقطۂ نظر رکھتا۔ '' مگر فوسٹر سے ایسی اُمید رکھنا محض خوش فہمی تھی۔ پہلی بات تو یہ کہ فوسٹر کو حقائق کو صرف خلط ملط کرنے ہی کی نہیں بلکہ اس میں اپنی طرف سے باتیں جوڑ لینے کی عادت بھی تھی۔ جب اس نے اقبال کی وفات کے بہت عرصہ بعد ان پر دوبارہ آرٹیکل لکھا تواس میں نہ صرف اقبال کی اردو اور فارسی نظموں کا تذکرہ تھا بلکہ ان کی ''پنجابی نظموں'' کا ذکر بھی موجود تھا!دوسرے یہ کہ وہ فن اور ادب کے بارے میں اقبال سے قطعی مختلف نظریات رکھتا تھا، اور اقبال کو بہرحال فورسٹر سے اپنے بارے میں کسی بھی مثبت رویے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے تھی۔ فورسٹر کے ناول اے پیسج ٹو انڈیا کوعام طور پر نسل پرستی کے خلاف انسانیت کی آواز سمجھا گیا اور اسی وجہ سے یہ بے حد مقبول ہوا۔ مگر اسی وجہ سے اس کتاب کے منفی پہلوؤں کی جانب لوگوں کی نظر نہیں گئی:آخر ایسا کیوں ہے کہ ہندوستان اور برطانیہ ، دونوں جانب کی بہتر مثالوں کو ناول کا کردار نہیں بنایا گیا؟خودساختہ احساسِ جرم سے جنم لینے والی اس قابلِ رحم تصویر دونوں طرف (ہندوستان اور برطانیہ) کی شخصیات کی بہترین مثالیں سے غائب ہیں۔ اِس افسوس ناک ادب پارے سے ایسی تحریروں نے جنم لیا۔ جن میں برّ ِ صغیر کو ایسی قابلِ رحم مخلوق کامسکن بنا کر پیش کیا جاتا رہا جو ایک ایسی جدیدیت کے زخم خوردہ ہیں جو ان کے لیے قطعی اجنبی ہے؛اور یہ روایت کئی نام نہاد معرکۃ الآرأ شاہکاروں کی شکل میں ہمارے عہد تک بھی پہنچی ہے۔
کافی عرصہ پہلے اقبال نے مغربی ادب کے مستقبل کے بارے میں ایک پیش گوئی کی تھی مگر جسے انھوں نے قلم بند نہیں کیا تھا۔۱۹۲۰ میں بھی شاید انھیں اس کے پورا ہوجانے کا اتنا یقین نہیں تھا کہ وہ اسے زیادہ اہمیت دیتے۔ ایک نجی محفل میں انھوں نے کہا تھا: ''۱۹۰۵ء میں جب میں انگلستان آیا تھا تو میں محسوس کر چکا تھا کہ مشرقی ادبیات اپنی ظاہری دلفریبیوں اور دلکشیوں کے باوجود اس روح سے خالی ہیں جو انسان کے لیے امید، ہمت اور جرأت عمل کا پیغام ہوتی ہے۔۔۔ یورپی ادبیات پر نظر ڈالی تو وہ اگرچہ ہمت افروز نظر آئیں لیکن ان کے مقابلے کے لیے سائنس کھڑی تھی، جو اُن کو افسردہ بنا رہی تھی۔ ۱۹۰۸ء میں جب میں انگلستان سے واپس آیا تو میرے نزدیک یورپی ادبیات کی حیثیت بھی تقریباً وہی تھی، جو مشرقی ادبیات کی تھی۔''
ایک عجیب پیغمبرانہ قطعیت کے ساتھ اقبال نے، جو کہ رومانویت پسندوں کے آخری دور کے شاعر تھے، ایک ایسے عہد کو طلوع ہوتا ہوا دیکھ لیا تھا جس میں انسانی روح میں پیدا ہونے والی عزتِ نفس کی کمی زندگی کے ہر میدان میں جھلکتی نظر آئی:سیاست میں فاشزم، نازی ازم اور عوام پر ظلم وستم کے نت نئے طریقے؛نفسیات میں ذہنی صحت کی تعریف مقرر کیے بغیر ہی ذہنی امراض کی تحقیق کا جنون ؛اورآرٹ میں بنیادی ساخت ہی کا تحلیل ہوجانا اور حسن سے صرفِ نظر کرنا، عزتِ نفس کی اسی کمی کی مختلف شکلیں ہیں (بنیادی ساخت، اقبال کے نزدیک خودی کے لیے بے حد اہم ہے اور انھوں نے اس کی تعریف ''ایک طرح کے مکانی حوالہ یا تجربی پس منظر' 'کے طور پر کی ہے) ۔
برطانوی ادبی حلقوں میں اپنی نظموں پر ہونے والے سیرِ حاصل تبصروں، اور غالباً ان کی فہم کی غلطی کو دور کرنے کے لیے، اقبال نے اہلِ مغرب کی مشکل کاایک اور حل سوچا یہ کہ ان کی اگلی کتاب یورپ ہی کو مخاطب کرے یعنی پیامِ مشرق!


اقبال اکادمی پاکستان