www.allamaiqbal.com
  bullet سرورق   bullet شخصیت bulletتصانیفِ اقبال bulletگیلری bulletکتب خانہ bulletہمارے بارے میں bulletرابطہ  

شخصیت
حیاتِ اقبال
سوانح
سنین کے آئينے میں
سوانحی مواد
کتابیات
اکثر پوچھے گئے سوالات

چوتھا باب

حقیقت ایک ہے
(۱۹۲۲-۱۹۳۰)

'The Dawn of Islam'


 

یکم جنوری ۱۹۲۳ء کو عزت مآب گورنر آف ہندوستان نے شیخ محمد اقبال کو نائٹ کے عہدے پر فائز کرنے کا اعلان کیا اور وہ سرکاری طور پر ڈاکٹر سر محمد اقبال ہوگئے۔ آٹھ سال میں دوسری مرتبہ انھوں نے اپنے لوگوں کو برافروختہ کیا تھا (پہلا موقعہ وہ تھا جب انھوں نے 'اسرارِ خودی' میں حافظ اور روایتی تصوف پر تنقید کی تھی) ۔ قومیت پسند اخبارات نے ان کی مذمت کی اور سب سے جارحانہ حملہ عبد المجید سالک کی طرف سے ہواجو ایک نوجوان صحافی تھے اور دس سال تک غیررسمی طور پر اقبال کے شاگرد رہ چکے تھے۔ ان کا مصرعہ'' سرکار کی دہلیز پہ سر ہوگئے اقبال ''راتوں رات مشہور ہوگیا (''سر''کے لفظ کو ذومعنی طور پر استعمال کیا گیاتھا) ۔ اس واقعہ کے بعد کافی عرصہ تک سالک اقبال کا سامنا نہیں کرسکے لیکن جب بالآخر ان کی ملاقات ہوئی تو سالک اس بات پر حیران رہ گئے کہ اُن کے سابق مرشد کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی اوروہ اسی گرمجوشی اور شفقت سے ملے۔

اقبال کو بھی اس مخالفانہ ردّ ِ عمل کا اندازہ تو رہا ہوگا (اور مخالفت کے ساتھ ساتھ اس عزت افزائی کا بھی جس کا مظاہرہ ان استقبالیوں میں ہوتا تھا جو حکومت کے وفاداروں کی جانب سے ان کے اعزاز میں دئیے جاتے تھے) ، مگر وہ لوگوں کی پروا کرنے والوں میں سے نہیں تھے اور اپنے مخالفین کے برعکس یہ بات بھی یقینا جانتے تھے کہ انھوں نے حکومت سے کوئی رعایت ''لی''نہیں بلکہ اُلٹا اس کو رعایت''دی'' ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان کی برطانوی حکومت کو خود اس کے اپنے لوگوں کی طرف سے بھی تنقید کا سامنا تھا، جو کہ جنگِ عظیم کے بعد اب بیحد پژمردہ اور تھکے ہوئے تھے۔ لہٰذا یہ ہندوستانی نژاد حکمرانوں کا بروقت اقدام تھا تاکہ وہ برطانوی عوام کو ایک ایسے عظیم ہندوستانی شاعر کی طرف سے معاونت کے رویے کا مظاہرہ دکھا کر سُرخرو ہوسکیں، جس کے آزادی کے گیت اس وقت تک برطانیہ کے باخبر حلقوں میں بھی متعارف ہوچکے تھے۔ اور اپنی طرف سے اقبال نے برطانوی حکومت پر یہ ظاہر کردیا تھا کہ عدم تعاون کی تحریک بنیادی طور رپر ہندؤوں سے تعلق رکھتی تھی اور وہ مسلم قوم کے نمایندے کے طور پر اس کی مذمّت کرتے تھے۔ دوسرے لفظوں میںاس سے یہ بات بھی واضح ہوتی تھی کہ علی برادران کے باوجود ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں تھیں۔

اس دوران دنیا بھر میں دوسرے اہم واقعات رُونما ہورہے تھے، جیسے ۹ستمبر ۱۹۲۲ کو سمرنا میں ترکوں کی فتح۔ یوں لگتا تھا کہ اتحادیوں نے جنگِ عظیم کے بعد اگرچہ ترکی کی تقسیم بہت عرق ریزی اور باریک بینی سے کی مگر ایک چھوٹے سے جزو کو نظر انداز کر بیٹھے تھے۔ یہ چھوٹا سا جزو مصطفی کمال پاشا تھا، جس نے اب حالات کا نقشہ ہی بدل دیا۔ ترک عارضی طور پر کئی علاقوں میں، حتیّ ٰ کہ طرابلس اور بلقان میں بھی، فتح حاصل کرچکے تھے اور پوری جنگِ عظیم کے دوران ہندوستانی مسلم اخبارات نے ان سب پر ایسے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا تھاجیسے کوئی فیصلہ کن فتح ہو۔ اقبال نے اُن تمام جوشیلے مظاہروں کا کوئی نوٹس نہیں لیا تھا، اب 'طلوعِ اسلام' کی شکل میں ایک نئے دور کی خوش خبری سنا رہے تھے، اردو کی کسی دوسری نظم میں اتنی زیادہ تعداد میں ایسے اشعار موجود نہیں جنھیں اس شاعر کے پرستاروں کے علاوہ دوسرے لوگ بھی ضرب المثل کی حیثیت دیتے ہوں۔ مثلاً:

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

یہ اور ایسے بہت سے شعر زبان زد ِ عام ہوگئے تھے حالانکہ بہت کم لوگ جانتے تھے کہ یہ شعر دراصل اتاترک کے بارے میں ہے۔ اسی طرح :
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

یہ شعر اس قدر مقبول ہوا کہ اکثر اسے غلط انداز میںبھی استعمال کیا جاتا ہے۔

پیام مشرق


 

مارچ ۱۹۲۳ میں جب اقبال اپنی نظم'طلوعِ اسلام' پڑھ کر ڈائس سے اُتر رہے تھے تو ان کے ایک پرستار نے انھیں ایک کتاب دی جس نے انھیں سوچ کے ایک نئے رُخ پر ڈال دیا۔ یہ مسلم مالیاتی قوانین پر امریکہ سے شایع ہونے والی ایک کتاب تھی اور اس میں ایک جگہ یہ کہا گیا تھا کہ بعض مسلم فقہا کے نزدیک اجماع کے ذریعے قرآن کے واضح احکامات بھی تبدیل کیے جاسکتے تھے۔ کیا واقعی ایسا تھا؟اگلے کچھ سال اقبال اسی سوال کا تسلی بخش اور منصفانہ جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے رہے۔

دریں اثنا انھوں نے پیامِ مشرق مکمل کرلی جو مئی ۱۹۲۳ میں شایع ہوئی۔ نظموں کا یہ مجموعہ بہت عرصے سے التوأ کا شکار ہورہا تھا اور کچھ سال پہلے تک وہ اپنی اردو اور فارسی کی نظموں کو ایک ہی مجموعہ میں اکٹھا کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے لیکن انھیں دنوں ان کومغربی ادب و فن کے موضوع پر کچھ کہنے کی جو تحریک ملی تھی اس کی وجہ سے انھوں نے ایک نئی بات سوچی:اس کتاب کااپنا ایک انداز ہونا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے گوئٹے کے دیوانِ مغرب کا تھا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ انھوں نے مغرب سے گوئٹے ہی کو کیوں منتخب کیا۔ نہ صرف یہ کہ گوئٹے اس رومانوی تحریک کا نقطۂ آغاز تھا جس کے آخری رُکن اپنے دور میں اب اقبال ہی رہ گئے تھے، بلکہ فارسی شاعری کی روایت بھی خاص طور سے اس پر اثر انداز ہوئی تھی۔ لہٰذا اگر وہ ایک مغربی شاعر کاانداز اختیار کرنا چاہ رہے تھے تو اس سے ہمیں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ سفیدفام آقاؤں کو خوش کرنا چاہتے ہوں گے کیونکہ اس مغربی شاعر نے تو خود فارسی شعرا کا انداز اختیار کیا تھا۔ دوسرے یہ کہ جرمن کبھی بھی ہندوستان کے حکمران نہیں رہے تھے بلکہ وہ تو حالیہ جنگ میں انگریزوں کے خلاف شکست خوردہ ترکوں کے ساتھی رہے تھے۔

پیامِ مشرق افغانستان کے بادشاہ امان اللہ سے منسوب کی گئی۔ انتساب ایک نظم کی شکل میں تھا اور جہاں شاعر بادشاہ کے سامنے اپنی تعریف بیان کرتاہے وہاں یہ نظم واضح طور پر ہمیں عُرفی کی یاد دلاتی ہے۔ آگے چل کروہ نہایت ادب کے ساتھ بادشاہ کو کچھ مشورے دیتے ہیں جن میں اپنے آپ میں ڈوبنے، زندگی کے عمیق تر معانی تلاش کرنے اور عوام کے حوالے سے اپنے فرائض یاد کرنے کو کہا گیا ہے۔ (امان اللہ کو کچھ سال بعد ان کے لوگوں نے اسی طرح کے کام کرنے کی وجہ سے معزول کر ڈالا اور بعد میں جب ۱۹۳۱ میں وہ روم میں جِلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے تو ان کی ملاقات اقبال سے ہوئی۔

یہی وہ کتاب ہے جس میں اس موضوع کو پہلی مرتبہ واضح طور پر اُٹھایا گیا جو کہ اس کے بعد سے اقبال کی شاعری میں غالب نظر آتا ہے:'عشق'اور 'خودی' کی کشمکش۔ گو کہ اس سے پہلے بھی ان کی شاعری میں یہ موضوع کہیں نہ کہیں نظر آتا تھا اور ایک شعر تو ۱۹۰۴ ہی سے ضرب المثل کی صورت اختیار کرچکا تھا:

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

لیکن بہرحال یہ تصور اتنی تفصیل کے ساتھ اس سے پہلے بیان نہیں کیا گیا تھا جیسا کہ اب سامنے آیا تھا، مثلاً 'پیغام' میں، جس سے کتاب کے اس حصہ کا آغاز ہوتا ہے جو مغرب سے متعلق ہے، اقبال مغربی فلاسفہ کو ترغیب دیتے ہیں کہ وہ منطق کی حدود سے اوپر اُٹھیں اور عشق کی ہمیشہ زندہ رہنے والی قوتوں کو پہچانیں۔ ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ اقبال مشرق و مغرب میں اپنے سننے والوں سے یہی توقع رکھتے تھے کہ وہ ان کے تصور ِ عشق کو 'اسرارِ خودی' ، یا اس کے انگریزی ترجمے، کی روشنی ہی میں دیکھیں گے جہاں کئی ابواب'عشق' کی وضاحت کے لیے مخصوص ہیں۔ وہاں عشق اپنے مفہوم میں عقل کے خلاف نہیں ہے، بلکہ آدمی کے اپنے احساسِ زیست سے مربوط ہے۔ خودی اپنی طاقت عشق سے حاصل کرتی ہے، وہاں اقبال نے واضح کیا تھا؛عشق اپنی فطرت میں خارجی دنیا کے جبر کے مخالف ہے اور اسی لیے اس میں یہ خوبی ہے کہ یہ خودی کو تمام رکاوٹوں پر قابو پانے کے قابل بناتا ہے۔ پیامِ مشرق کی ایک نظم 'محاورہ علم و عشق' (علم اور عشق کے درمیان مکالمہ) میں اقبال'عقل ' کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کی اصل بھی روحانی ہے مگریہ محض ایک ذریعہ ہے۔ اس کی فطرت میں بے یقینی کا عنصر پایا جاتا ہے جو اسے باآسانی 'غیر' کا محکوم بنادیتا ہے۔ لہٰذا اس کو خودی کا غلام بن کر رہنا چاہیے، جیسا کہ اس نظم میں عشق علم کو کہتا ہے کہ آؤ میرے دردِ دل سے ایک ذرہ لے لو اور آسمان تلے خلدِ بریں بنادو۔ ہم روزِ ازل کے ساتھی ہیں اور ایک ہی نغمے کے زیروبم ہیں:

بیا یک ذرّہ از دردِ دلم گیر
تہِ گردوں بہشت جاوداں ساز
زروزِ آفرینش ہمدم استیم
ہماں یک نغمہ رازیروبم استیم

آگے چل کر 'پیام ' میںاقبال دوستانہ انداز میں اپنے مغربی ساتھی فلسفیوں کو مخاطب کرتے ہیں اور سائنسی ترقی کی تعریف بھی کرتے ہیںکہ ہم نے عشق کے خلوت کدہ سے نکل کر یلغار کی ہے ، ہم وہ ہیں جنھوں نے پاؤں تلے روندی جانے والی خاک کو آئینہ کی مانند شفاف بنادیا ہے۔ اور اپنے دلوں کی آگ سے پرانی دنیا کو پھونک ڈالا ہے۔ مگرپھر عشق ہوس بن گیا اور اس نے سارے بندھن توڑ دیے، اور اس کے فتنہ نے آدمی کو مچھلی کی مانند شکار کرلیا:

ما زخلوت کدۂ عشق بروں تاختہ ایم
خاکِ پا را صفتِ آئینہ برداختہ ایم
عشق گردید ہوس پیشہ دہر بند گسست
آدم از فتنۂ اُو صورت ِ ماہی در شست

اس کتاب میں ایک اور جگہ وہ مغربی تہذیب کی مادّیت پسندی، اور مغربی شہنشائیت کی ناانصافیوں پر تنقیدکرتے ہیں مگر اس تنقید کو برطانیہ کے ان تحائف کی ایک معنی خیز تعریف کے ذریعے برابر کردیتے ہیں جو اس نے ہندوستان کو دیے ہیں۔ انگریز کو ہندوستانیوں کے گستاخانہ رویہ کی شکایت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ برّ ِ صغیر کے ان تقدیر پرستوں میں قوت ِ ارادی کا احساس خود انھوں نے ہی تو جگایا ہے۔ (۱۹۳۱ میں ایک برطانوی ادیب کے نام اپنے ایک خط میں اقبال نے ایک بار پھر اس ضرورت پر زور دیا کہ ہندوستان کو آزادی دینے کے بعد ہندوستان اور برطانیہ کو اپنی اپنی شکایات پر قابو پانے کے لیے حسِ مزاح کو زندہ رکھنا ہوگا) ۔

''اقوام کا باطنی اضطراب جس کی اہمیت کا صحیح اندازہ ہم محض اس لیے نہیں لگا سکتے کہ ہم خود اس اضطراب سے متاثر ہیں، ایک بہت بڑے روحانی اور تمدّنی انقلاب کا پیش خیمہ ہے، ''اقبال نے اپنی کتاب کے پیش لفظ میں لکھا۔ ''یورپ کی جنگِ عظیم ایک قیامت تھی ، '' (انھوں نے پہلی جنگِ عظیم کو ہمیشہ یورپی جنگ کا نام دیا) ، ''جس نے پرانی دنیا کے نظام کوقریباً ہر پہلو سے فنا کردیا ہے اور اب تہذیب و تمدّن کی خاکستر سے فطرت زندگی کی گہرائیوں میںایک نیا آدم اور اس کے رہنے کے لیے ایک نئی دنیاتعمیر کررہی ہے ، جس کا ایک دھندلا ساخاکہ ہمیں حکیم آئن سٹائن اور برگساں کی تصانیف میں ملتاہے۔ ''پھر اقبال نے اپنے یورپی ساتھیوں کو خبردار کیا کہ انہیں'انحطاطِ فرنگ' پر توجہ دینی چاہیے، جو کہ کچھ مغربی سیاستدانوں کے مطابق شروع ہوچکا تھا۔ ''خالص ادبی اعتبار سے دیکھیں تو جنگِ عظیم کی کوفت کے بعد یورپ میں زندگی کے قوائے حیات کا اضمحلال ایک صحیح اورپختہ ادبی نصب العین کی نشونما کے لیے نا مساعد ہے۔ بلکہ اندیشہ ہے کہ اقوام کی طبایع پر وہ فرسودہ، سست رگ اور زندگی کی دشواریوں سے گریز کرنے والی عجمیت غالب نہ آجائے، جذباتِ قلب کو افکار ِ دماغ سے متمیّز نہیں کرسکتی ۔ البتہ امریکہ مغربی تہذیب کے عناصر میں ایک صحیح عنصر معلوم ہوتا ہے اور اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ ملک قدیم روایات کی زنجیروں سے آزاد ہے اور اس کا اجتماعی وجدان نئے اثرات و افکار کو آسانی سے قبول کرسکتا ہے۔ ''

دیباچہ کے آخر میں اقبال اپنے مشرقی قارئین کو مخاطب کرنا بھی نہیں بھولے تھے اگرچہ کتاب بنیادی طور پر مغرب سے مخاطب ہوکر لکھی گئی تھی:''مشرق اور بالخصوص اسلامی مشرق نے صدیوں کی مسلسل نیند کے بعد آنکھ کھولی ہے مگر اقوامِ مشرق کو یہ محسوس کرلینا چاہیے کہ زندگی اپنے حوالی میں کسی قسم کا انقلاب پیدا نہیں کرسکتی جب تک کہ پہلے اس کی اندرونی گہرائیوں میں انقلاب نہ ہو اور کوئی نئی دنیا خارجی وجود اختیار نہیں کرسکتی جب تک کہ اس کا وجود پہلے انسانوں کے ضمیر میں متشکل نہ ہو۔ ''

ایک مرتبہ پھر سب سے پہلے نکلسن اپنی سطحی نظرکے ساتھ اس کی جانب متوجہ ہوئے۔ ایک یورپی جرنل میں اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے مغرب کو یاد دلایا کہ اقبال دو مؤثر زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ ایک طرف وہ اردو میں ہندوستانی محبِ وطن لوگوں کو مخاطب کرتے ہیںاور دوسری طرف''فارسی جیسی خوبصورت اور میٹھی زبان میں اپنے مسلم قارئین کو گیت سناتے ہیں۔۔۔''اور یوں نکلسن نے بڑی آسانی سے پیامِ مشرق کی اُن تمام نظموں کو نظر انداز کردیا جو اُس رائے پر پوری نہیں اُترتی تھیں جو وہ اقبال کے بارے میں رکھتے تھے، یعنی اقبال ایک تنگ نظر مسلمان مبلّغ تھے۔ ''ایک سچا عاشق کعبہ اور بت خانے میں کوئی فرق نہیں رکھتا، کہ ا س کا محبوب ایک میں کھلم کھلا اس سے ملاقات کرتا ہے جبکہ دوسر ی جگہ تنہائی میں، ''اقبال پیامِِ مشرق کی ان بہت سی نظموں میں سے ایک میں کہتے ہیں جہاں وہ انسانیت کو چھوٹے چھوٹے بے معنی تفرقات سے اوپر اٹھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ مگر ایسے حوالوں کے باوجود نکلسن کو اس بات پر تعجب تھا کہ ''آخر اقبال کے [مثالی معاشرہ]میں شمولیت کا اعزاز صرف مسلمانوں تک ہی کیوں محدود ہے؟''

پچھلی مرتبہ مغربی فلسفیوں سے متاثر قرار دیے جانے پر اقبال نے جو شدید احتجاج کیا تھا اس کا خیال رکھتے ہوئے پروفیسر نکلسن اس مرتبہ محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے بھی یہ بات دہرانا غائب دماغ اقبال کی روح بنیادی طور پر تو مشرقی ہے گو کہ ''وہ مغربی تہذیب سے بے حد متاثرہیں۔۔۔''مگر اس کے ساتھ ساتھ نکلسن نے شکوہ بھی کیا کہ انھوں نے مغرب پر جوتنقید کی ہے، گو کہ وہ بے بنیاد تو نہیںہے مگر کہیں کہیں اس میں وسعتِ نظر کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ ''ایسا لگتا ہے کہ ثقافت کی انسانیت پسند بنیادوں سے ان کی واقفیت بہت کم ہے، ''انھوں نے لکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اقبال یورپ کی انسانیت پسندبنیادوں سے اتنا ہی قریب تھے جتنا کہ اُس دَور میں یہ رجحان رکھنے والا کوئی یورپی ادیب ہوسکتا تھا، مگر بدقسمتی سے اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے تعداد میں زیادہ نہیں تھے۔

یورپ کا ذہن پہلے ہی اُس قنوطیت پسندی کی گرفت میں تھا جس کے خلاف اقبال اسے خبردار کرنے کی کوشش کررہے تھے؛'پیامِ مشرق' پر اُن لوگوں نے کوئی توجہ ہی نہ دی جن کو مخاطب کیا گیا تھا اور جو بدقسمتی سے خودی اور انسانی عظمت کے نغمے سننے کی بجائے بیزارکُن شاعری اور ڈاڈااِزم کی جمالیات کو قبول کرنے کے لیے زیادہ تیار بیٹھے تھے۔

یہاں ایک بار پھر اقبال اور آئن رینڈ میں موازنہ کیا جاسکتا ہے کیونکہ فن اور ادب کے موضوع پران کے تصورات میں کچھ مماثلت پائی جاتی ہے۔ ۱۹۲۳ء میں اقبال اس خدشے کا اظہار کررہے تھے کہ مغرب کہیں فن کے ''ان زوال پذیراور سُست رو''تصورات کی ''گرفت میں نہ آجائے'' جو ''زندگی کی مشکلات سے فرار اختیار کرتے ہیں اور دل کے جذبات اور دماغ کی سوچوں میں فرق نہیں کرسکتے۔ ''چالیس سال بعد، آئن رینڈ مغربی ادب کے اکثریتی رجحان سے اپنے اختلاف کو ان الفاظ میں بیان کرتی ہیں:''یہ عقلیت پسند، مقصد اور اقدار ہیں جنھیں یہ عامیانہ سمجھتے ہیں۔۔۔جبکہ ان کا دعویٰ ہے کہ نفاست، فرد کے ذہن کو ردکردینے، مقاصد کو مسترد کردینے ، اقدار کو ختم کردینے اور جنگلے اور فٹ پاتھوں پر چار حرفی الفاظ لکھ دینے کانام ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ پہاڑ پر چڑھنا آسان ہے لیکن گٹر میں لڑھکنا ایک قابلِ ذکر کارنامہ ہے۔۔۔یہ خودساختہ فخر کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ انسانی روح ایک گندی نالی ہے۔۔۔یہ ہماری ثقافت کی موجودہ حالت پر ایک واضح تبصرہ ہے کہ میں نفرت، بدنامی، اور مذمّت کا ہدف بن چکی ہوںمحض اس لیے کہ میں دراصل وہ واحد ناول نگار ہوں جس نے یہ اقرار کیا ہے کہ اس کی روح ایک گندی نالی نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے کرداروں کی روح، اور نہ ہی دوسرے انسانوں کی روح۔ '' ('میری تحریر کے مقاصد'، ۱۹۶۳) یہ ہے مروّجہ ادب کا رویّہ ایک ایسے ناول نگار کے ساتھ جس نے یہ کہنے کی ہمت کی کہ''اگر میری تمام تحریروں کے لیے کوئی انتساب کا صفحہ ہوسکتا ہے تو اس پر لکھا ہوگا:اِ نسانی عظمت کے نام۔ ''

اقبال اور آئن رینڈ کے اِس موازنے سے یہ بات بھی سمجھ میں آجاتی ہے کہ اقبال بیسویں صدی کے اواخر میں اپنے ہی خطّے میں، متعدد آزاد خیال نقادوں کے ہدف کیوں بن گئے تھے۔ مروجہ ادب چاہے جنوبی ایشیا کا ہو یا کہیں اور کا، کسی ایسے مرد یا عورت کو معاف نہیں کرسکتا تھا جو انسانی روح کو عظیم تر بنانے کی بات کرے۔

بانگ درا


 

پیامِ مشرق کے کچھ ہی عرصے بعد اردو کا مجموعہ شایع ہوگیا۔ اس کا عنوان بانگِ درا رکھا گیا، جو کہ ایک نہایت موزوں نام تھا۔ بانگ ِ درا یعنی کارواں کی گھنٹی کی ترکیب اس مجموعہ میں موجود نظموں میں ایک سے زیادہ مرتبہ استعمال کی گئی ہے۔

نظموں کو تاریخی اعتبار سے ترتیب دیا گیا اور اس وقت تک کی ان کی زندگی کے تین ادوار میں تقسیم کیا گیا تھا: (الف) ۱۹۰۵ تک، یعنی ان کے یورپ جانے سے قبل کادور؛ (ب) ۱۹۰۵ سے ۱۹۰۸ تک، جب وہ یورپ میں پڑھ رہے تھے؛اور (ج) ۱۹۰۸ سے بعد کا دور (۱۹۲۴ تک) ، یعنی ان کی یورپ سے واپسی کے بعد کادور۔ اپنی ابتدائی نظموں پرانھوں نے اچھی طرح نظرِ ثانی کی، انھیں مختصر اور مزید خوبصورت بنایا ، اور ان میں سے تقریباً نصف کو ضایع کردیا۔۔۔کچھ اس وجہ سے کہ وہ فنی اعتبار سے معیاری نہیں تھیں اور کچھ اس وجہ سے کہ وہ اسی مشرقی جذباتیت کو ظاہر کرتی تھیں جن کی مذمت پیامِ مشرق میں کی گئی تھی (جو تقریباً انھیں دنوں میں لکھی گئی جب بانگِ درا ترتیب دی جارہی تھی) ۔

ان کے یورپ کے قیام کے دوران لکھی گئی نظموں کی تعداد اتنی کم تھی کہ بعض ایسی نظمیں بھی اس حصہ میں شامل کردی گئیں جو انھوں نے واپسی کے بعد مگر اسی رو میں لکھی تھیں ۔ تاریخوں کے بارے میں یہ سہو ظاہر ہے کہ ارادتاً ہی کیا گیا تھا کیونکہ یہ تو ممکن نہیں کہ وہ یہ بات بھول گئے ہوں کہ یہ نظمیں مثلاً '۔۔۔کی گود میں بلی دیکھ کر' کن موقعوں پر لکھی گئیں۔ تیسرا حصہ ظاہر ہے کہ سب سے طویل تھا اور گو کہ 'شکوہ'اور 'جوابِ شکوہ' کو عام طور پر جڑواں نظمیں سمجھا جاتا ہے مگر ان کے درمیان یہاںنہ صرف چند چھوٹی نظمیں رکھی گئی ہیںبلکہ ایک طویل نظم'شمع اور شاعر' بھی موجود ہے جیسا کہ ہونا چاہیے تھا۔ مجموعی طور پر یہ پوری کتاب ان کے ذہنی سفر کی ایک پُرلطف دستاویز تھی اور اگر ان نظمو ںکو گہری نظر سے پڑھا جائے تو ان کے فکری ارتقا کے مدارج کو جانچنا بھی ممکن ہے۔

ان میں زیادہ تر ایسی نظمیں ہیں جو مخزنمیں وضاحتی پیش لفظ اور نوٹ کے ساتھ شایع ہوئی تھیں ، مگر یہ ادارتی مواد اس مجموعہ سے حذف کردیا گیا تھا۔ اس سے کئی پیچیدگیاں بھی پیدا ہوگئیں اور سب سے زیادہ مشکل 'آفتاب'نامی نظم کا وضاحتی نوٹ حذف کردینے سے پیش آئی جو کہ ہندؤوں کے مقدس اور مقبول منتر''گایتری''کا ترجمہ تھا:

اے آفتاب ہم کو ضیائے شعور دے
چشمِ خرد کو اپنی تجلّی سے نور دے

اس نظم کے آخر میں سورج کو 'پروردگار' کے نام سے پکارا گیا تھا (جو کہ ایک فارسی اصطلاح ہے جس کے معنیٰ 'پالنے والے' کے ہیں اور جو مسلمانوں میں صرف خدا کے لیے استعمال ہوتی ہے) ۔ مخزن میں اقبال نے اس کے پیش لفظ کے طور پر ایک وضاحتی نوٹ دیا تھا جس میں انھوں نے بتایا تھا کہ 'آفتاب' کا استعارہ اس نظم میں اس نور کے لیے استعمال ہوا ہے جس سے یہ ستارہ اپنی روشنی حاصل کرتا ہے؛اس وضاحت کے حذف ہوجانے کی وجہ سے بانگِ درا کی اشاعت کے ایک سال کے اندر ہی انھیں لاہور کی دوسری بڑی مسجد کے خطیب کی جانب سے کفر کے فتوے کا سامنا کرنا پڑا (یہ فتویٰ جس میں اقبال کو ایک مرتد قرار دیا گیا، ۱۹۲۵ میں دیا گیا، اور یہ 'شکوہ'کاردّ ِ عمل نہیں تھا جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے)۔

ان دنوں ایک عام روایت یہ تھی کہ ایک طویل نظم سنانے سے پہلے شاعر کو ئی غزل، رباعی یا قطعہ سناتا تھا۔ اقبال کا خود بھی یہی طریقہ رہا تھا جب وہ لوگوں کے کسی اجتماع ، مثلاً انجمن حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسوں میں، اپنی نظم سنارہے ہوتے تھے۔ لہٰذا اپنے اردو مجموعے میں بھی غالباً وہ اپنے قاری کے سامنے یہی تاثرپیش کرنا چاہ رہے تھے جس کی وجہ سے یہاں ہر طویل نظم سے پہلے ایک قدرے مختصر نظم اس کی تمہید کے طور پر رکھی گئی ہے۔ اس اصول سے صرف ایک استشنأ تھا۔ خضرِ راہ کے فوراً بعد طلوعِ اسلام شامل تھی اور بیچ میں کوئی مختصر نظم نہ تھی۔ گویا پہلی نظم کے اختتام پر جو پیش گوئی کی گئی تھی، وہ کس طرح اگلی نظم کے لکھنے سے پہلے ہی پوری ہوگئی۔

یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ اقبال کے شعری مجموعوں کوان کی مکمل ترتیب میں بہت کم پڑھا گیا ہے اور اس وجہ سے نظموں کا آپس کا تعلق، ان کی مخصوص ترتیب کی اہمیت، ایک نظم کے بعد دوسری نظم کی حکمت اور ان کے بین السطور پوشیدہ معنی، یہ سب نہ صرف ایک عام قاری بلکہ تحقیقی اسکالرز کی نظروں میں آنے سے بھی رہ گئے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نصابی کتب اور میڈیا پر تشہیر کی وجہ سے زیادہ تر قارئین کے ذہنوں پر چند مشہورِ زمانہ نظمیں اس قدر حاوی ہوتی ہیں کہ جب وہ ان میں سے کسی مجموعے کو پہلی مرتبہ کھولتے ہیں توبراہِ راست اپنی پسندیدہ نظموںپر پہنچ جاتے ہیں اور یوں کتاب کی مجموعی ترتیب کو عام طور پر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ اقبال کو ایک ایسے فلسفی شاعر کے طور پر پیش کیا جاتا رہاہے جو ہمہ وقت اپنے فکر و فلسفہ ہی میں کھویا رہتا ہے، لہٰذا ان سے یہ توقع ہی نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ بین السطور معنی کی نزاکتوں پر بھی دھیان دیتے ہوں گے۔ یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ اقبال اپنے کلام کی ترتیب بہت دھیان سے کرتے تھے اور بین السطور معنویت سے بہت عمدگی سے کام لیتے تھے جیسا کہ ان جیسے حاضر جواب اور حسّاس شخص سے توقع ہونی چاہیے۔

جو لوگ ان کی کتابوں میں بین السطور مضامین پڑھنے کی تکلیف گوارا کرسکتے ہیں، اُن کے لیے ان کتابوں میں بہت کچھ ہے۔ مثال کے طور پرنظم 'اسیری'کے فوراً بعد، جس میں انھوں نے برطانوی قید سے علی برادران کی رہائی پر مسرت کا اظہار کیا ہے، جو نظم رکھی گئی ہے اس کا عنوان ہے'دریوزۂ خلافت'۔ یہ دونوں نظمیں اور ایک مرثیہ مل کر'خضرِ راہ' کی ایک غیر رسمی سی 'تمہید' بن جاتے ہیں (بین السطور مضامین بیان کرنے میںاور ان کی ترتیب میں اقبال کی مہارت 'بالِ جبریل' میں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے جس کا تذکرہ پانچویں باب میں آئے گا) ۔

اجتہاد


 

امریکی مصنف کی کتاب نے جو سوال اقبال کے ذہن میں پیدا کیا تھا، اس نے ان کو ازسرِ نو 'اجتہاد' کے موضوع میں دلچسپی لینے پر مجبور کردیاجو اسلامی فقہ کے چار ماخذوں میں سے ایک ہے۔

اس امریکی ادیب کے بیان سے متعلق جن مذہبی علمأ سے اقبال نے رائے لی، ان سب کا جواب نفی میں تھا؛ماضی یا حال کے کسی بھی فقیہہ کو یہ کہتے نہیں سنا گیا تھا کہ نصِ قرآن کو مسترد کیا جاسکتا ہے۔ اقبال نے بھی اسی رائے کو قبول کیا۔ لیکن مسلم فقہ کی حدود کے اندر، جو کہ بے حد باریک نظری سے وضع کی گئی ہیں، نئی تشریحات کی بے انتہا گنجایش موجود ہے اور اقبال کا لوگوں کوفکری آزادی دینے اور ان کو مضبوط بنانے پر اس قدر زور دینا دراصل اسی مقصد کے لیے تھا کہ وہ ان نئی تشریحات کی تفہیم کے قابل ہوسکیں۔ ان کے اپنے زمانے تک روایت پسند علمأ کے نزدیک محض قرآن وحدیث اور پچھلے فقہا کا اتفاقِ رائے، یا اجماع، ہی مسلم فقہ کے مروجہ مآخد سمجھے جاتے تھے، جبکہ اُس وقت اجتہاد کا دروازہ بدستور بند رکھنے کو ہی ترجیح دی جاتے تھی۔

باوجود اس کے کہ اقبال تغیر اور آزادی کے زبردست قائل تھے، انھوں نے 'رموزِ بے خودی' میں اس بات کو قبول کیا کہ ایک زوال پذیر دور میں یہی مناسب ہے کہ ان اداروں کی پیروی کی جائے جو کہ ایک رو بکمال ماضی میں وضع کیے گئے تھے۔ ایسے حالات میں نئے ادارے قائم کرنے سے اُن میں وہ تمام خرابیاں در آئیں گی جو ایک زوال پذیر معاشرے میں سرایت کیے ہوئے ہوتی ہیں۔ ترکی کے دوبارہ اُبھرنے سے جدید مسلم تاریخ کا وہ تاریک دور اب ختم ہوتا نظر آرہاتھا، جس کے بارے میں کچھ ہی عرصہ بعد وہ 'تشکیلِ جدید' میں کہنے جارہے تھے کہ، ''اگر اسلام کی نشاۃِ ثانیہ ایک حقیقت ہے ، اور مجھے یقین ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے، تو ہمیں بھی ایک دن ترکوں ہی کی طرح اپنی فکری میراث کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا۔ اور اگر ہم اسلام کی مجموعی فکر میں کسی نئی چیز کا اضافہ نہ کرسکے تب بھی ہم صحت مند تنقید کے ذریعے، کم از کم دنیائے اسلام میں اٹھنے والی آزاد خیالی کی تیز تحریکوں کو جانچنے کا کام تو کرسکیں گے۔ ''

۱۹۲۹ میں تو انھوں نے یہ بات کمال اتاترک کی طر ف سے کی گئی اختراعات کے حوالے سے کہی تھی، لیکن۱۹۲۴ میںتو ابھی یہ اختراعات سامنے نہیں آئی تھیں حالانکہ اُس سال خلیفہ جلاوطن کردیے گئے تھے۔ تاہم وہ اجتہاد کے حق پر برابر مُصر رہے، کیونکہ اجتہاد کا استدلال ختمِ نبوّت پر مبنی تھا۔ اقبال کہتے ہیں کہ ختمِ نبوّت دراصل انسانی عقل کی آزادی کا اعلان ہے۔

''اسلام کا جنم۔۔۔تجربی فکر کا جنم ہے، ''وہ تشکیلِ جدید میں لکھتے ہیں، ''رسالت اسلام کی شکل میں اپنے کمال کو پہنچ گئی اور اس نے خود اپنے خاتمہ کی ضرورت کو محسوس کرلیا۔ اس میں باریک نکتہ یہ ہے کہ زندگی کو ہمیشہ کے لیے رسیوں میں جکڑ کر نہیں رکھا جاسکتا؛یعنی اپنی ذات کا مکمل شعور حاصل کرنے کے لیے انسان کو بالآخر اپنے ہی وسائل کی طرف دیکھنا ہوگا۔ ''اقبال کے نزدیک صوفیانہ تجربہ ممکن ہے اور خدا اب بھی افراد سے کلام کرسکتا ہے، جس انداز میں وہ چاہے، لیکن یہ وجدان کسی دوسرے فرد پر لاگو نہیں ہوسکتا:''اسلام میں پاپائیت اور نسلی شہنشائیت کا خاتمہ، قرآن میں عقل اور تجربہ سے کام لینے پر مستقل اصرار، یہ سب ختمِ نبوت کے مختلف پہلو ہیں۔ ''اب ہر کوئی خود ہی اپنا رہنما ہے، خدا کی آخری وحی موجود ہے اور ہمیں اس کا پابند رہنا ہے، لیکن چونکہ اب کوئی اور نبی نہیں آئے گا تویہ ہر انسان کا اعزاز اور ذمہ داری ہے کہ وہ خدا کے الفاظ کو اپنے طور پر سمجھے۔ مذہب کی تعبیر و تشریح ایک بنیادی حق ہے جس کا احترام کرنا لازم ہے۔

اقبال نے اس موضوع پر ۱۹۲۴ء میںایک بڑے اجتماع کے سامنے لیکچر دیا جس کے نتیجے میں ان کو' روایات کی بے حرمتی 'کرنے پر ایک بار پھر شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ ایک بار پھر شاعری کی طرف متوجہ ہوئے اور اسرارورموزکے تیسرے حصے پر کام کرنا شروع کیا جو ایک طویل عرصے سے التوا کا شکار ہورہاتھا۔ مگر ان کا ذہن اب مابعد الطبیعیات کی جانب مڑگیا۔ ''اے میری زندگی کے مالک!''وہ فارسی میں اللہ سے مخاطب ہوتے ہیں، ''کہاں ہے تیری نشانی؟یہ دنیا اور آخرت تو محض میرے اپنے وجود کی لہریں ہیں، تیری دنیا کہاں ہے؟''جلد ہی انھوں نے اپنے دوستوں کو بتایا کہ وہ فارسی نظموں کا ایک مجموعہ تشکیل دینے والے ہیں جس کا عنوان انھوں نے 'ایک نئے داؤد کا نغمہ'سوچا ہے۔ تین سال بعد یہ مکمل ہوکر زبورِ عجمکے نام سے شایع ہوا۔ اس وقت تک اقبال صوبائی قانون ساز کونسل کے ممبر بھی بن چکے تھے اور سیاست میں بھی دلچسپی لے رہے تھے (جس کا تذکرہ آگے آئے گا) مگر پہلے ان کی مابعدالطبیعاتی فکر کے ارتقا کی جانب سرسری نظر ڈال لینی چاہیے ۔

زبور عجم اور


 

زبورِ عجم اس دور میں لکھی گئی جب وہ تشکیلِ جدید کے پہلے تین لیکچرز تحریر کررہے تھے اور ایسا نظر آتا ہے کہ اگلے تین لیکچرز کا موضوع بھی ان کے ذہن میں تھا۔ یوں مل کر یہ دونوں کتابیں وجود باری تعالیٰ کے مروجہ تصورات کو چیلنج کرتی نظر آتی ہیں اور ایک نیا تصور دیتی ہیں جو انسانی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔

بادی النظر میں ان کی فارسی نظموں کودیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ اللہ سے مخاطب ہوتے ہوئے ان کی روایتی بے تکلفی بے ادبی کی حد تک پہنچ گئی ہے۔ لیکن اس کی وجہ سمجھنے کے لیے ان کا اصل مقصد سمجھنا بہت ضروری ہے۔ جیسا کہ انھوں نے ایک مرتبہ Stray Reflections میں لکھا تھا کہ ان کے نزدیک ہر چیز کی اہمیت صرف اور صرف انسان کے حوالے سے ہے، اگرچہ ہر چیز کو تخلیق خدا نے کیا ہے۔ مثلاً ہیرے کی قیمت ا س میں نہیں ہے کہ خدا نے اسے کیسا بنایا ہے، بلکہ اس بات میںہے کہ انسان نے اسے باقی تمام پتھروں پر فوقیت دی ہے۔ اقبال کے نزدیک، انسان بھی ایک خالق ہے اور خدا اس کا مددگار ہے۔ 'اگر اس کے گردوپیش کی قوتیں اس کے حق میں مجتمع ہوجائیں توانسان میں یہ طاقت ہے کہ انھیں جو چاہے شکل دے دے اور اپنا مطیع کرلے؛اور اگر اس کے خلاف ہوجائیںتواس میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنے اندرکی گہرائیوں میںاس سے کہیں زیادہ وسیع دنیا تعمیر کرلے، ''انھوں نے مذہبی تجربہ پر دیے گئے اپنے لیکچر میں انسانی عقل کے خارجی اور داخلی پہلوؤں کے دائرۂ عمل کا خلاصہ پیش کیا۔ ''اس کا بوجھ بھاری ہے اور اس کا وجود کمزور، جیسے گلاب کی پتّی، مگر اس کے باوجود حقیقت کی کوئی اور شکل اتنی طاقتور، اتنی متاثر کن اور اتنی حسین نہیں ہے جتنی کہ انسانی روح!''

زبورِ عجم اللہ کے ساتھ اِسی تخلیقی تعلق کا پُرمسرت اعلان تھی۔ اس کی بہت سی نظمیں اس محبوبِ حقیقی کے آگے ایک خودآگاہ شیدائی کا اظہارِ عقیدت ہیں۔ پہلی نظم کا عنوان ہی دُعا ہے:

یا رب درونِ سینہ دلِ باخبر بدہ
دربادہ نشہ رانگرم، آں نظر بدہ
یا رب درونِ سینہ دلِ باخبر بھی دے
صہبا میں نشہ دیکھ لوں میں، وہ نظر بھی دے
(ترجمہ عبدالعلیم صدیقی)

دوسری نظم میں سوالات کی بوچھاڑ ہے:

درونِ سیلہ ما، سرزِ آرزو کجاست؟
سبوز ماست، ولے بادہ در سبوز کجاست؟
گرفتم ایں کہ جہاں خاک و ماکفِ خاکیم
بہ ذرہ ذرۂ ما دردِ جستجو زکجاست؟
سینے میں سوزِ آرزو آیا کہاں سے ہے؟
شیشہ ہے میرا، شیشے میں صہبا کہاں سے ہے؟
عالم کی طرح خاک ہوں میں بھی مگر مرا
یہ ذوقِ جستجو و تماشا کہاں سے ہے؟

ہمارے سینے میں آرزو کا سوز کہاں سے آیا ہے؟ سبو تو ہمارا ہے، لیکن اِس میں جو شراب ہے، وہ کہاں سے آئی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ دنیا محض خاک ہے اور میں ایک مشتِ خاک، مگر میرے ہر ذرے میں جستجو کی تڑپ کہاں سے آئی ہے؟ دوسری نظمیں اس تعلق کی وضاحت کرتی ہیںجسے مشرق نے بھلادیا اور مغرب نے نظر انداز کردیا۔ ''اپنے گردوپیش میں پھیلی کائنات کی گہری آرزؤوں میں اس کا ساتھ دینا انسان کا مقدر ہے، ''اقبال اپنے لیکچر میں لکھتے ہیں، ''اور اپنی تقدیر کو خود بنانا اور ساتھ ساتھ اس کائنات کی تقدیر کو بھی، کبھی خود کو اس کی طاقتوں کے مطابق بناکر، اور کبھی اپنی تمام تر توانائیاںاس کی طاقتوں کو اپنے مقاصد کے مطابق ڈھالنے میں صرف کرکے۔ اور اس تخلیقی عمل میں خدا اس کا مددگار بن جاتا ہے، بشرطیکہ انسان پہلا قدم اٹھائے:'یادرکھو خدا انسانوں کی حالت کواس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود کو نہیں بدل لیتے۔ ' یہ آخری جملہ قرآن سے لیا گیا ہے۔

زبورِ عجم واقعی نئے دور کے داؤد کی زبور تھی؛جس میں یہ تاثر پیش کیا گیا تھا کہ یہ دنیا کافی نہیں ہے، اور اسی نظم کو تحریر کرنے کے دوران کہیں ان کے ذہن میں اپنے عظیم ترین شاہکار کا مرکزی خیال آگیا تھا، جو کہ انھوں نے ۱۹۲۷ میں زبورِ عجم کی نظمو ںکو مکمل کرنے کے فوراً بعد ہی لکھنا شروع کردیا تھا، اور جب خطبات ابھی لکھے جارہے تھے۔ یہ شاہکار کتاب جاویدنامہ کی شکل میں سامنے آئی اور اس میں انھوں نے پوری کائنات کی تصویرایک بالکل نئے زاوئیے سے پیش کی۔ یہاں تک کہ جنت اور خدا کے تخت کا بھی ایک بالکل نیا تصور پیش کیا۔ جاوید نامہ کا تفصیلی تذکرہ اگلے باب میں آئے گا۔

۱۹۲۶ سے ۱۹۲۹ تک انھوں نے اپنے وہ چھ خطبات تحریر کیے جن کو ان کے نثری فن پاروں میں سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ یہ لیکچرز جلدہی لاہور سے شایع ہوئے اور بعد ازاں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے ساتویں لیکچرز کے اضافے کے ساتھ اسے دوبارہ شایع کیا۔ تشکیلِ جدید کا مقصد جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے ایک طرف تو اپنے فلسفہ کو قرآن کی روشنی میں پیش کرنا تھااور دوسری طرف ہم عصر فلسفہ اور سائنسی فکر کے نقطۂ نظر سے۔۔۔''وہ دن دور نہیں جب مذہب اور سائنس ایسی ہم آہنگی دریافت کرلیں گے جس کا ابھی تک اندازہ نہیں لگایا گیا۔ ''

''مذہبی علم کو سائنسی شکل میں پیش کرنے کا تقاضا تو فطری ہے، ''انھوں نے پیش لفظ میں اس وضاحت کے بعد لکھا کہ جدید ذہن کو ٹھوس فکرکی عادت ہے، جو اس روحانی تجربہ کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہے جس پر مذہبی عقیدہ کی اصل بنیاد ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اب وقت آگیا ہے کہ مذہبی فلسفہ کو جدید علوم سے ملادیا جائے (وہ اکثر کسی ارادے کا اظہار بہ مدح ہے یا قدح؟ کرتے ہوئے یہی ظاہر کرتے تھے جیسے تمام کائناتی قوتیں ان کے منصوبے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں) کیونکہ، کلاسیکی طبیعیات نے خود اپنی ہی بنیادوں کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا ہے، (جس سے ان کی مراد ظاہر ہے نظریۂ اضافیت تھا) ۔ ''مگر یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ فلسفہ میں کوئی چیز آخری نہیں ہوتی، ''وہ اپنے مخصوص انداز میں اپنے قاری کو یاد دلاتے ہیں۔ ''جیسے جیسے علم ترقی کرے گااور فکر کے نئے در کھلیں گے، نئے نظریات کا، اور شاید ان لیکچرز میں بیان کیے گئے نظریات سے بہتر نظریات کا امکان موجود رہے گا۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انسانی فکر کی ترقی کا بغور مطالعہ کریںاور اس کے لیے ایک غیر جانبدار تنقیدی روّیہ اپنائیں۔ ''غرض انھیں آنے والی نسلوں پر اعتماد تھا کہ وہ اس تصور کو ازسرِ نو مرتب کرتی رہیں گی اور ان کی غلطیوں کی نشان دہی اسی بے باکی سے کرتی رہیں گی جس کا مظاہرہ خود انھوں نے اپنے سے پہلے آنے والوں پر تنقید میں کیا تھا؛یہ ان کے لیے یقینا بے حد خوشی کی بات ہوگی اگر یہ سب کچھ ایک خالص انسانی مفاد کے نقطۂ نظر سے ہوتا رہے۔ بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا اور ان کے لیکچرز کو کلاسیک کا درجہ دے دیا گیاحتیّٰ کہ ان حصوں کو بھی جہاں وہ اپنے پڑھنے والے پر زور دے کر کہتے ہیں کہ زندگی کی روح، اورخود قرآن کی روح بنیادی طور پر کلاسیکل تصور کے خلاف ہے۔

ایک جدید قاری کو البتہ ان لیکچرز میں ایک بنیادی مسئلہ کا سامنا ہے:زندگی اور کائنات سے متعلق اقبال کے خوبصورت اور متاثر کن بیانات دوسرے مصنفین کے مشکل اور بوجھل اقتباسات کے تلے دفن ہوتے ہوئے نظرآتے ہیں، جن میں سے اکثرکے نام سے بھی اب ہم واقف نہیں ہیں۔ پھر بھی، اس ڈھیر کے نیچے سے بھی ہم ان کے بنیادی تصورات کو نکال سکتے ہیں اور اُس کائنات کا ایک خاکہ تیار کرسکتے ہیں جو ان کے ذہن میں تھی۔ ان لیکچرز میں انھوں نے مشرقی ذہن کے بنیادی اجزائ( اللہ، قدرت، وقت، حقیقت، فکر، تقدیر، موت، دُعا وغیرہ) کی تعریف نئے سرے سے بیان کی ہے اور اس طرح سے ایک ایک اینٹ رکھ کر انھوں نے ایک مکمل کائنات تخلیق کی ہے۔ اقبال نے اپنا کام وہاں سے شروع کیا، جہاں سے مدت ہوئی، کانٹ نے چھوڑا تھا۔ ان کے نزدیک روحانی تجربے کو عقلی طور پر جانچا جاسکتا ہے لیکن ایسا کرنے کے لیے فکر کو اپنی عمومی سطح سے اوپر اٹھنا ہوگا۔ وجدان ذہن کی ایک برتر شکل ہے، اور ہم وجدان اور فکر کی وحدت کے ذریعے یہ جان سکتے ہیں کہ''حقیقت کی اصل ماہیت روحانی ہے، ''لیکن اس کو ''ایک خودی کے طور پر بھی لینا چاہیے۔ ''ان کے نزدیک خدا ایک ''خودیٔ مطلق ہے'' ، اور ''ایک ایسی تخلیقی حیات جو عقل کے تابع ہے۔ ''لہٰذا انسان میں سب سے ماورائی عنصر خودی ہے جو اسے خدا سے ملادیتا ہے تاکہ وہ خدا کے ساتھ ایک'معاون' کے طور پر کام کرسکے۔

ایک اور تصور جس کو یہاں بہت شاندار نئے معنی پہنائے گئے ہیں وہ ''تقدیر'' ہے۔ اقبال تقدیر کوایک پہلے سے لکھی گئی تحریر کے طور پر نہیں دیکھتے، بلکہ ان کے نزدیک تو یہ کائنات کے اندر موجود ممکنات کے ایک ایسے ذخیرہ کا نام ہے جو مستقل تغیرپذیرہے۔ جاوید نامہ میں وہ ایسے لوگوں سے بڑے جارحانہ انداز میں مخاطب ہوتے ہیں جو زندگی کے مایوسانہ تصورات سے جڑے ہوئے ہیں: ''جاؤ اور خدا سے اپنے لیے ایک بہتر تقدیر مانگ لو۔ وہ بڑا فراخ دل ہے اس لیے اس کے پاس تمھارے لیے یقینا اتنا کچھ ہے کہ تم اس میں سے اپنے لیے انتخاب کرسکو۔ اگر شیشے کی تقدیر ٹوٹ جانا ہے تو کوئی بات نہیں، تم اپنے آپ کو پتھر میں بدل لو، کیونکہ انسان بدل سکتے ہیں۔ تم اپنی تقدیر کو بدل دیتے ہو جب تم خود کو بدل لیتے ہو۔ ''

خدا کوایک باشعور تخلیقی حیات اور خودیٔ مطلق کے طور پر بیان کرنے؛انسان کو ایک ایسی خودی کے طور پر پیش کرنے، جو ابدیت کی امیدوار ہے اور نہ صرف اپنی بلکہ کائنات کی تقدیر کو تشکیل دینے کی ذمہ داری بھی ا س پر ہے؛اور عبادت کی یہ تعریف کرنے کے بعدکہ یہ ایک''ایسا سادہ حیات بخش عمل ہے جس کے ذریعے ہماری شخصیت کا چھوٹا سا جزیرہ اچانک زندگی کے عظیم تر کُل میں اپنا مقام دریافت کرلیتا ہے''، اقبال اُس موضوع کی طر ف آتے ہیں جس پر کچھ سال پہلے لاہور میں غم وغصے کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ البتہ اب بھی انھوں نے یہ احتیاط برتی کہ پہلے اپنے پانچویں لیکچر میں'مسلم ثقافت کی روح'کی وضاحت کی اور پھر اگلے لیکچر میں وہ 'اجتہاد'کے موضوع پر آئے۔ قرآن کی روح بنیادی طور پر'قدامت پرستی کی مخالف' ہے، وہ نشاندہی کرتے ہیں، اور پیغمبرِ اسلامؐ وہ شخص ہیں جنھوں نے قدیم دنیا کو راسخ العقیدی کی گود سے نکالااورجدید سانچے میں ڈھالا۔ ''انسان بنیادی طور پر جذبات اور جبلّت کے تابع ہوتا ہے، ''اقبال لکھتے ہیں۔ ''استقرائی تعقل اسے حاصل کرنا پڑتا ہے، جو کہ وہ واحد چیز ہے کہ جو انسان کو اس کے ماحول پر قابو پانے کے قابل بناتی ہے؛اور جب ایک بار یہ پیدا ہوجائے تو اسے مزید نکھارنے کی ضرورت رہتی ہے۔۔۔''

اور پھر بالآخر اپنے چھٹے لیکچر میں اجتہاد کے نازک موضوع پر آتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ''ایک ثقافتی تحریک کے طور پر اسلام کائنات کے پرانے جامد نظریہ کو مسترد کرتا ہے، اور ایک حرکی نظریہ پر پہنچتا ہے۔ ایک جذباتی وحدت کے نظام کے طور پر یہ انسان کو بھی ایک ایسے ہی نظام کے طور پر اہمیت دیتا ہے، اور خونی رشتہ کو انسانی وحدت کی بنیاد کے طور پر رد کرتا ہے۔ خونی رشتہ کی جڑیں زمین میں ہیں۔ انسانی زندگی کی ایک خالصتہً نفسیاتی بنیاد کی تلاش اپنی اصل میںروحانیت لیے ہوئے ہے۔ ایسا نقطہ ٔ نظر نئی نئی وفاداریوں کو جنم دیتا ہے، جن کو برقرار رکھنے کے لیے رسمی آداب و تکلفات کی ضرورت نہیں ہے، اور اس طرح انسان کے لیے یہ ممکن بناتا ہے کہ وہ خود کو زمینی قیود سے آزاد کرسکے۔۔۔''

انسان کے زمینی قیود سے آزادی کے تصور کی ایک اور وضاحت ہمیں اقبال کے اس صدارتی خطاب میں ملتی ہے جو انھوں نے ۱۹۳۰ میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ جلسے میں کیا، جس میں انھوں نے ''برطانوی ہند کے اندر یا اس سے الگ''ایک مسلم ریاست کے امکان پرگفتگوکی ۔ اگرچہ انھوں نے مسلم لیگ کے مقاصدکے لیے بہت سی دوسری خدمات بھی انجام دی تھیں، خصوصا ًاپنی زندگی کے آخری دوبرسوں میں، مگریہ ۱۹۳۰ کا ''خطبۂ الہٰ آباد'' ہی ہے جس نے ان کو تصورِ پاکستان کے خالق کے طور پر شہرت بخشی۔

الیکشن 1926، اور آج کے بعد


 

''جہاں بصیرت نہ ہو وہاں لوگ برباد ہو جاتے ہیں، ''اقبال حضرت سلیمان ؑکا حوالہ دیتے ہیں اور پھر ایک صاحبِ نظر اور ایک سیاست دان کا فرق یوں واضح کرتے ہیں۔ صاحبِ نظر کو دنیاوی حدود کو عبور کرنے کا سلیقہ آتا ہے، جبکہ سیاست داں کا ہُنر یہ ہے کہ وہ اِن حدود سے الجھتا رہے اور اِنھی کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا کام کرتا رہے۔یہی وجہ ہے کہ ایک صاحبِ نظر کو کبھی کبھی اندھا، احمق، خبطی، حتّٰی کہ غدّار بھی سمجھ لیا جاتا ہے، اس لیے کہ وہ اپنی قوم کودرپیش بعض مسائل کو نظر انداز کرتا نظر آتا ہے۔ اگر درپیش مسائل محض وقتی نوعیت کے ہیں تو اسے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ان کو دوام بخشے۔ صاحبِ نظر کا کام تو ایک وسیع تر نظام دریافت کرنا ہے، تاریخ ساز عالمگیر قوانین کو اپنے اندر سمو لینے والا نظام!

اقبال کے نظریۂ تاریخ کا مرکزی نکتہ شاید اُس جملے میں بیان کیا جاسکتا ہے جو انھوں نے ایک سال بعد سرفرانسس ینگ ہزبینڈ کے نام اپنے ایک خط میں لکھا تھا: ''مطابقت پذیری تاریخ میں عام بات ہے۔ ''

سوسال پہلے جب برطانوی شہنشائیت ہندوستان میں اپنے عروج پر تھی، اس وقت اعلیٰ طبقے کے روشن خیال اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ مگر اب۱۹۳۰ء کے عشرے میں، انگریز رخصت ہونے والے تھے لہٰذا عوام اپنے منفی جذبات کے اظہار کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے جو مصلحتاً ایک طویل عرصے سے ان کے اندر دبے ہوئے تھے۔ حالات بدل رہے تھے اوران کا تقاضا تھا کہ ''ردّ ِ عمل''دکھانے کے بجائے ایک ''نئی مطابقت'' کامظاہرہ کیا جائے۔

انگریز کا جانا یقینی ہے، اس بارے میں تو اقبال کو کوئی شک نہیں تھا۔ ۱۹۲۳ میں پیام ِ مشرق کے دیباچہ میں بھی انھوں نے یورپ میں جنگِ عظیم کے بعد ''قوائے حیات کے اضمحلال'' کا تذکرہ کیا ہے۔ وہ اپنے تجزیہ میں بالکل درست تھے کیونکہ سلطنت پر زوال انھیں وجوہ سے آیا حالانکہ اسے ختم ہونے سے پہلے ایک اور جنگِ عظیم کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر جہاں سیاست داں، سیاسی مبصّر اور تاریخ دان سلطنت کی سطحی اور ظاہری وجوہ کو دیکھ رہے تھے، جیسے کہ جنگوں میں ہونے والی ہلاکتیں اور تباہی، وہاں اقبال کی نظر اس بات پر ہوتی کہ ان سطحی وجوہ نے برطانوی قوم کی اندرونی زندگی کو کس کس طرح سے متاثر کیا ہے۔ یہ جنگیں نہیں بلکہ ''قوائے حیات''پر پڑنے والے ان کے اثرات تھے جوزوال کا باعث بنے۔ آخر پچھلی صدی میں یہی برطانوی شہنشائیت تھی جسے نپولین سے ہونے والی عظیم جنگیں بھی کوئی ضرر نہ پہنچاسکی تھیں۔

ہندوستان کے لوگوں کو مطابقت پذیری کے دو مرحلوں سے بہرحال گزرناتھا۔ پہلا مرحلہ اس صورت حال سے نمٹنے کا تھا جو انھیں درپیش تھی۔ ''بغاوت کی صورت حال''پیدا ہوتی نظر آرہی تھی کیونکہ مغربی ذہن اپنی ماہیت میں تاریخی تھا جبکہ مشرقی ذہن ایسا نہیں تھا۔ ''مغربی آدمی کے لیے تمام چیزیں بتدریج وجود میں آتی ہیں؛ان کا ایک ماضی، حال اور مستقبل ہوتا ہے۔ مشرقی آدمی کا دنیاوی شعور غیر تاریخی ہے۔ ''مشرقی آدمی کے لیے یہ سب براہِ راست مکمل حالت میں، بغیر وقت کی کارفرمائی کے خالصتہً حال میں موجود ہوتے ہیں۔ انگریز، مغربی آدمی ہوتے ہوئے یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ سیاسی اصلاحات بھی مرحلہ وار ارتقا ٔکا ایک باقاعدہ عمل ہے۔ جبکہ''مہاتما گاندھی کے نزدیک، یہ رویّہ بُری نیت اور اقتدار چھوڑنے میں تامل کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی تردید میں وہ ہر قسم کے منفی طریقے استعمال کررہے ہیں تاکہ فوری نتیجہ حاصل ہوسکے۔ دونوں ہی بنیادی طور پر ایک دوسرے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اور اس کا نتیجہ بغاوت کی شکل میں ظاہر ہورہا ہے۔ ''

اس بات کا امکان بھی بہرحال موجود تھا کہ برطانیہ اور ہندوستان کے درمیان یہ تلخ جذبات وقت کے ساتھ ساتھ ٹھنڈے ہوجائیں گے، بشرطیکہ دونوں فریق مستقبل میں اپنی قوتِ برداشت کوقائم رکھیں۔ اس کے بعدمطابقت کا دوسرا مرحلہ پیش آنے والا تھا۔ ایک آزاد ہندوستان کو اپنی سیاسی خودمختاری کو اپنے اجتماعی کردار میں آنے والی تبدیلی کے مطابق ڈھالناہوگا۔ ایک طرف تو اسے عالمی برادری میں اپنے پرانے حریف برطانیہ کے ساتھ ایک دوست اور ساتھی کی حیثیت سے اپنے نئے مقام کا تعین کرنا ہوگا اور دوسر ی طرف اسے یہ طے کرنا ہوگا کہ دنیا میں اب اسے کیا کردار ادا کرنا ہے۔

کیا ہندوستان آزادی کے بعد یورپی ممالک کی طرح محض ایک اور قومی ریاست کے طور پر اُبھرے گا، یا پھر یہ اپنے ضمیر کی اندرونی گہرائیوں میں کوئی نئی چیز دریافت کرے گا؟کیا یہ نئی چیز ایسی ہوسکتی ہے کہ اس خطّے کے لوگوں کی بے مثال اور منفرد ثقافتوں میں نئے اندازکے سیاسی نظام کے بیج موجود ہوں جن کو ماضی کے مطلق العنان آمروں کے تحت پنپنے کا موقع نہ ملا ہو۔

ایک ہندوستانی کی حیثیت سے، اقبال یہ تصور کرنے کے لیے تیار نہیں تھے کہ ان کا ملک بھی مغرب کی جدید ریاستوں کی راہ اپنالے گا۔ اُن ریاستوں کی تو تشکیل ہی اس طرح سے کی گئی تھی کہ وہ ایک دوسرے سے مسابقت میں مصروف رہیں اور کمزور اقوام کو غلام بنائیں۔۔۔خواہ سیاسی اعتبار سے یا معاشی اعتبار سے۔ وہ اپنے ملک کو اگلی صدی کی ایک استبدادی شہنشائیت کے طور پر دیکھنے کو تیار نہیں تھے۔

انھیں یہ خوف بھی رہا ہوگا کہ کہیں خودمختار ہونے کے بعد ملک دوبارہ انگریزوں سے پہلے کے دور کی پسماندگی میں واپس نہ چلا جائے۔ شبلی اور بنگال کے ہندوناول نگاروں کے برعکس وہ ماضی کو سنہری ادوار کے ایک طویل سلسلے کے طور پر نہیں دیکھتے تھے۔ وہ ہمیشہ اولین دور کی عرب شہنشائیت پر تنقید کرتے رہے حالانکہ اچھے جذبات بیدار کرنے کی نفسیاتی ضرورت کے تحت خود انھوں نے بھی اپنی شاعری میں ان استعاروں کو استعمال کیا ہے۔ علاوہ ازیںوہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اسلام کے اصل مقاصد دریافت ہونا توابھی باقی ہیں۔ ہندوستان کے ایک ایسی قومی ریاست (جس پر عملاً ہندو اکثریت کی حکمرانی ہو)، میں تبدیل ہوجانے کا مطلب یہ تھا کہ اس ملک میں اسلام کی اس سیاسی انسانیت پسندی کو آزمانے کا ایک آخری موقع بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتا۔

مزیدبرآں تشویش کا ایک اور پہلو بھی تھا، زیادہ حقیقی اور زیادہ خطرناک۔ ''ہندوستان میں لوگ پرانے وقتوں کے بارے میں جاننے کے قطعی عادی نہیں ہیں، نہ تو تاریخی حقائق کے ذریعے نہ ہی کتابیں پڑھ کر، ''سرسیّد نے افسوس کے ساتھ لکھا تھا جب وہ ۱۸۵۷ کی کشمکش کے بعد اپنے لوگوں سے مخاطب تھے۔ ''یہی وجہ ہے کہ آپ لوگ ان ناانصافیوں اور جارحیت سے واقف نہیں ہیں جو ماضی کے حکمرانوں کے زمانے میں ہوا کرتی تھیں۔ ''یہ بلاشبہ ایک تشویش ناک بات تھی کہ ۱۹۲۰ء کے عشرے میں جوں جوں ہندوستان کی تحریکِ آزادی زور پکڑرہی تھی، ہندؤوں اور مسلمانوں کے درمیان فسادات آسمان سے باتیں کرنے لگے تھے۔ اقبال اس بات میں حق بجانب تھے کہ مستقبل میں حالات جو بھی شکل اختیار کریں، ان میں وہ اپنی قوم کے ثقافتی تشخص کی بقا کے لیے کسی آئینی تحفظ کا تقاضا کریں۔

آئینی تحفظ کا تقاضا کانگریس کو منظور نہ تھا، جس کی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ قومیت پسند ایک تاریخی مغالطہ کا شکار تھے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہندوستان میں تمام قومیں بہت امن وآشتی کے ساتھ رہ رہی تھیں کہ انگریز مداخلت کرکے اپنی ''تقسیم کرو اور حکومت کرو''والی پالیسی لے کر آگئے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر حکمران، ہر سیاسی امیدوار حتّٰی کہ ایک کھلاڑی بھی ہمیشہ اپنے مخالفین کو تقسیم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیا کبھی کوئی ایسا فاتح بھی گزرا ہے جس نے اپنے مخالفین کی حوصلہ افزائی کی ہو کہ وہ اس کے خلاف ''متحد ''ہوجائیں؟

''تقسیم کرو اور حکومت کرو'' کا مفروضہ جس کسی نے بھی ایجاد کیا ہو، انگریزوں کے بارے میں ایک عمدہ لطیفہ کی حیثیت تورکھتا ہے مگر بہرحال یہ ایک لطیفہ کے سوا کچھ نہیں۔ اس میں کسی قدر نمک مرچ تو اگایا جاسکتا ہے مگر بدقسمتی سے یہ قومیت پسندوں کی آنکھ کا وہ شہتیر بن گیا جس نے انھیں اپنے ناک کے نیچے کی سچائی کو دیکھنے سے بھی محروم کردیا۔ انھوں نے مسلمانوں کی طرف سے آئینی تحفظ کے تقاضہ کو ایک ناگزیر''مطابقتِ پذیری''کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ محض ''تقسیم'' کے ایک جُز کے طور دیکھا جسے ان کے خیال میں انگریزوں نے شروع کیا تھا۔

ہندو قوم پرست قیادت کی تنقید


 

اقبال کے سامنے تین قسم کی ہندوقیادتیں تھیں۔ پہلی وہ جو قدامت پرست اور انتہا پسند تحریکوں پر مبنی تھی اور غیرہندو اقلیتوں کو مٹانے پر کمر بستہ تھیں، خصوصاً مسلمانوں کو۔ ظاہر ہے کہ ایسی تحریکوں نے مسلمانوں کے اندر ایک خوف اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کردیا تھا، اور ہوسکتا ہے کہ اقبال بھی اس قسم کی بے چینی محسوس کرتے ہوں۔

دوسری قسم متوسط طبقے کے پڑھے لکھے سیاست دانوں کی تھی، جیسے نہرو (موتی لعل اور ان کا بیٹا جواہر لعل) ، یا ان سے پہلے کی نسل کے زیادہ وسیع القلب اور مصالحت پسند گھوکھلے۔ اقبال کے نزدیک یہ لوگ سیاست کی پٹڑی سے اُترے ہوئے، محض خواب دیکھنے والے تھے۔ انھوں نے ۱۹۱۰ء میں اپنی نوٹ بک میں لکھا: ''جدید ہندو ایک عجیب اور غیر معمولی چیز ہے۔''میرے نزدیک ا س کے رویے کا مطالعہ سیاسی نہیں بلکہ ایک نفسیاتی مطالعہ ہوگا۔ ایسا لگتا ہے کہ سیاسی آزادی کا تصور، جو اس کے لیے ایک قطعی نیا تجربہ ہے، اس کی روح پر مکمل طور پر حاوی ہے، اور اس کی توانائیوں کے مختلف دھاروں کوان کے مقرّرہ راستوں سے موڑ رہا ہے اور ان کی تمام تر قوت کو عمل کی اِس نئی راہ پر ڈال رہا ہے۔ ''

اقبال کو اندیشہ تھا کہ یہ نیا راستہ ہندؤوں کو بالآخر ان کے ''آباؤاجداد کے اخلاقی تصورات''سے بالکل بے گانہ کردے گا، بالکل اسی طرح جیسے قرونِ وسطیٰ کے عیسائیوں نے جب ایک بار قومی ریاست کا اصول اپنا لیا تو ان کی سیاسی زندگی کا مسیحی تصورات سے کوئی تعلق نہ رہا، مگر خیر یہ تو شاید ان کا ذاتی معاملہ تھا اور ہندوسیاستدانوں کے اس طبقہ کے لیے اقبال کا رویہ روادارانہ تھا اور بعض اوقات محبت پر مبنی بھی محسوس ہوتا ہے۔ جاوید نامہ (۱۹۳۲) میں ایک جگہ انھوں نے نہرو کی تعریف کی ہے، جو کہ شاید جواہر لعل کی 'سوراج'والی تقریر سے متاثر ہوکر کی گئی ہے۔

لیکن یہ جدید سیاستدان عوام کی نبض سے کس حد تک قریب تھے؟ہندوستانی حب الوطنی کے نشے میں یہ لوگ انگریز کو ہندوستان سے نکال پھینکنا تو چاہتے تھے مگر اس بات کی کیا ضمانت تھی کہ ایک بار جب انگریز چلے جائیں گے اور ہندوستان کو ہندوستانیوں کے لیے چھوڑ جائیں گے تو سڑکوں، دیہات اور کھیتوںمیں موجود ہندؤوں کی بے شمار اکثریت انھی سیاستدانوں کے ہاتھوں میں رہے گی اور اُن انتہا پسندوں کی للکار کے اثر میں نہیں آئے گی جو عوام میں ان سے زیادہ مقبول ہیں؟کیونکہ بہرحال عوام کی بڑی تعداد اب بھی قطعی اَن پڑھ تھی اور ان مغربی اداروں سے بے بہرہ جنھوں نے نہرو ٹائپ کے سیاستدانوں کی ذہنی تربیت کی تھی۔ مغرب سے حاصل کردہ حب الوطنی کے تصورات کو حقیقی صورتِ حال کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت تھی مگر یہ محترم ذہن یورپ میں چلنے والی آزادی کی تحریکوں کے رہنماؤں کی تقلید میں کچھ زیادہ ہی آگے بڑھے ہوئے نظر آتے تھے۔ اقبال کو ان سے یہی شکایت تھی کہ وہ حقیقت پسندی کا راستہ چھوڑ چکے تھے۔

ہندوسیاست کی تیسری قسم کی نمایندگی گاندھی جی کررہے تھے۔ وہ گنگا دھرتلک جیسے انتہا پسند کے جانشین تھے اور ایک طرح سے یہ اسی نظام کا محض ایک فلسفیانہ رُخ تھا جس نے ہندو انتہا پسندوں کو جنم دیا تھا، یعنی وہ مشرق کی دانائی کی ایک مجسم شکل تھے، اور ساتھ ہی ساتھ مشرق کی حماقت انگیزی کی بھی۔ (جس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ وہ ان انتہا پسندوں کے نظریات کے بھی حامی تھے، بالکل اسی طرح جیسے نظریۂ ارتقا اور نسل پرستی کی بنیاد ایک ہونے کے باعث ڈارون کو نازی نہیں کہا جاسکتا) ۔ اپنے غیر تاریخی مزاج کی وجہ سے گاندھی بھی یہ دیکھنے سے قاصر تھے کہ جو عظیم جنگ انھوں نے شروع کی ہے، وہ دراصل انگریزوں کے خلاف بغاوت تو ہے ہی نہیں ۔ یہ تو ہندوستان کی اقلیتوں کے خلاف ایک جنگ ہے۔ جنوبی ایشیا میں اس کشمکش کے اصل فریق برطانیہ اور ہندوستان نہیں تھے، ''بلکہ ہندوستان کی اکثریتی اور اقلیتی قومیں تھیں جو اگر ہندوستانی زندگی کے حقیقی حالات کے مطابق مناسب تبدیلیاں نہ کی گئیں تو مغربی جمہوریت کے اصولِ قومیت کو غلط طریقے سے اختیار کرنے پر آمادہ ہوسکتی تھیں ۔ ''

آلہ آباد خطبہ


 

۱۹۲۷ء میں سائمن کمیشن کے مسئلے پر مسلم لیگ میں جو اختلافِ رائے ہوا اس نے اس کو بہت بری طرح متاثر کیا۔ یہ اختلافِ رائے مشرقی اور مغربی ذہنوں کے اس فرق کو ظاہر کررہا تھا جسے اقبال پہلے ہی محسوس کررہے تھے۔ انگریزوں نے اس کمیشن میں کسی ہندوستانی کو شامل نہیں کیا کیونکہ اول تو یہ ایک شاہی کمیشن تھا، اور دوسرے یہ کہ ہندوستان کی سیاسی صورت حال ابھی اس قابل نہ ہوئی تھی۔ مگر مستقبل قریب میںایسی صورتِ حال پیدا ہوسکتی تھی۔ لہٰذا اقبال اور ان کے سیاسی رہنما سر محمد شفیع کی قیادت میں مسلم لیگ کے ایک دھڑے نے اس کمیشن کے ساتھ تعاون کا موقف اپنایا، جبکہ جناح نے، کانگریس کے موقف کے قریب رہتے ہوئے ، لیگ کی اکثریت کو اپنی طرف کرکے اس تعاون سے باز رکھا۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ ۱۹۲۹ میں لیگ کا سالانہ جلسہ منعقد نہ ہوسکا، اور بعد میں جب یہ دو دھڑے دوبارہ اکٹھے ہوئے، تب بھی لیگ کا مستقبل غیر یقینی سا نظر آنے لگاتھا۔ یہی وہ وقت تھا جب جناح نے آئندہ ہونے والی گول میز کانفرنس میں شرکت کے بعد ہندوستانی سیاست سے دست برادر ہونے کا فیصلہ کیا۔

۱۹۳۰ء کے تباہ کن موسمِ گرما میں جب ملک کانگریس کی 'سوراج'کی پکار سے گونج رہا تھا، تباہ حال مسلم لیگ نے مایوسی کے عالم میں کوئی ایسا اقدام کرنے کے بارے میں سوچا جس سے کہ وہ دوبارہ اپنی ساکھ قائم کرسکے۔ اس کے لیے ایک مشہور شخصیت کی رہنمائی ضروری تھی اور مسلم ہندوستان میں اس فلسفی شاعر سے زیادہ بڑی شخصیت اور کوئی نہ تھی جو اب ''علامہ''اقبا ل کہلانے لگے تھے۔ چنانچہ انھوں نے کچھ پس و پیش کے بعد اپنی منظوری بھیج دی مگر یہ جلسہ جو کہ اصل میں اگست کے وسط میں لکھنؤ میں ہونا قرار پایا تھا، غیر رسمی طور پر دوسری مرتبہ ملتوی ہو گیا۔ مگر بہرحال خوش قسمتی سے بالآخر اسی سال کے آخر میں یہ الٰہ آباد کی ایک بے آباد 'حویلی'میں منعقد ہُوا۔

''اس وقت قومی تصور مسلمانوں کو نسل پرستی کی طرف مائل کررہا ہے، اور اس طرح حقیقتاً اسلام کی انسان نوازی کے خلاف کام کررہا ہے، ''انھوں نے اس چھوٹے سے اجتماع میں، مٹھی بھر مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ ''اور نسلی شعور کے بڑھ جانے کا مطلب ایسے معیاروں کا پھلنا پھولنا بھی ہوسکتا ہے جو اسلام کے معیاروں سے بالکل مختلف بلکہ متضاد ہوں، ''انھوں نے کہا۔ یہ چیز واضح نظر آتی ہے کہ وہ اس موقع کو اپنے زندگی بھر کے خواب کی ترویج کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، یعنی انسانیت کی اخلاقی صلاحیتوں میں اضافے کے ذریعے' 'عالمی خوشحالی کا حصول''۔ اور اس کے لیے انھوں نے یہ تجویز پیش کی کہ ہندوستان کے مسلم اکثریتی صوبوں کو اس مقصد کے لیے ایک تجرباتی میدان میں تبدیل کردینا چاہیے۔

''کیا یہ ممکن ہے کہ اسلام کو ایک اخلاقی تصور کے طور پر توبرقرار رکھا جائے اور بحیثیت ایک سیاسی نظریہ کے اسے قومیت پسندی کے سیاسی نظریات کی جھولی میں ڈال دیا جائے، جن میں مذہبی نقطۂ نظر کا کوئی کردار نہ وہ؟''انھوں نے اپنے سننے والوں سے سوال کیا اور پھر وضاحت کی کہ یورپ میں چرچ اور ریاست کے علیحدہ ہوجانے کی وجہ ہی سے استحصال پر مبنی سیاسی نظاموں نے جنم لیا ہے۔ خوش قسمتی سے اسلام میں چرچ جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور مسلمانوں کو اس آزادی اور ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے جوہر فرد کو اس آزادی کا پیغام دینے والے مذہبی تصور نے ودیعت کی ہے۔

''میں چاہتا ہو ںکہ پنجاب، صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان کو ایک ریاست میں ضم کردیا جائے، ''یہ وہ الفاظ ہیں جو اس دن کے بعدسے زبان زدِ خاص و عام ہوگئے۔ ''ایک خود مختار حکومت، برطانوی سلطنت کے اندر یا ا س سے باہر، ایک مستحکم شمال مغربی ہندوستانی مسلم ریاست ہی بالآخر مجھے کم سے کم شمال مغربی ہندوستان میں مسلمانوں کی اٹل تقدیر نظر آتی ہے۔ ''وہ خود اس بات کا اعتراف کرتے تھے کہ وہ اس تصور کے بانی نہیں ہیں جس کے ارتقا کی ایک طویل تاریخ موجود ہے بلکہ ایک با حیثیت انگریز نے تو ۱۸۷۷ء میں بھی ان صوبوں کواکٹھا کرنے کی تجویز پیش کی تھی، اور یہ وہ سال ہے جب اقبال پیدا ہوئے تھے۔ پاکستان کو اقبال کی ذہنی تخلیق قراردینے کی تین وجوہ ہیں۔ اول یہ کہ وہ اپنی تحریروں کے ذریعے پہلے ہی ہندوستان کی مسلمان قوم میںوہ سماجی و نفسیاتی عوامل پیدا کرچکے تھے جو ان کو خطّے میں اپنا ایک جداگانہ سیاسی تشخص محسوس کرنے کے لیے ضروری تھے۔ دوسرے، انھوں نے بلاشبہ اس تصور کو زیادہ وسیع معنی بخش دئیے تھے، اور اسے کچھ اور زیادہ اثر انگیز بنا دیا تھا (اور یہ بھی یا درہے کہ ہندواخبارات نے فی الفور اس تصور کو ان کے نام کے ساتھ منسوب کردیا اور یوں اسے پہلے سے کہیں زیادہ قابلِ توجہ بنا دیا خواہ منفی انداز میں ہی سہی) ۔ تیسرے یہ کہ اس دن کے بعد سے وہ ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاست میں عملی حصہ لینے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔

تاریخی اعتبار سے یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ انھوں نے خاص طور پر صوبوں کی ازسرِ نو گروہ بندی کو ہندوستان کے وفاق کے اندر ہی رکھنے پر زور دیا تھا:اپنے صدارتی خطبے میں انھوں نے کہا تھا کہ چاہے اس کے اندر ہو یا اس سے الگ۔ اگر مسلمان قوم کا حقِ خود ارادیت آئینی طور پر تسلیم کرلیا جاتا تو یہ تفریق ویسے بھی کوئی معنی نہیں رکھتی تھی ۔

مگراس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بہرحال وہ یہ بات کبھی پسند نہ کرتے کہ اس طرح سے وجود میں آنے والی دو (یا دوسے زائد) ریاستیں ایک دوسرے کی بدترین دشمن بن جائیں، نہ وہ ان دونوں کے درمیان کسی آہنی پردے کی تائید بھی نہ کرتے۔ بلکہ بہت ممکن ہے کہ تقسیمِ کے بعد وہ یہ پسند کرتے کہ منقسم ہندوستان کے خطّوں کے مسلمانوں میں کسی نہ کسی طرح ثقافتی تعلق قائم و برقرار رہے۔

وہ ایسی ریاست کے قیام کو ناگزیر کیوں سمجھتے ہیں؟ اس سوال کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا:''ہندوستان کے لیے اس کے معنی ہیں تحفظ اور امن، جو کہ داخلی طور پر طاقت کے توازن کے نتیجے میں حاصل ہوں گے؛جبکہ اسلام کے لیے یہ ایک ایسا موقع فراہم کرے گی کہ اس کے نام پر عرب ملوکیت کی جو مہر لگا دی گئی ہے وہ مٹ جائے گی۔ اسلام کے قوانین، اس کے طرز ِتعلیم، اوراس کی ثقافت کو عمل میں لایا جاسکے گا اور ان چیزوں کو اسلام کی اصل روح اور جدید دور کی روح کے قریب تر لایا جاسکے گا۔ ''

اقبال نے اپنے خطۂ صدارت کا اختتام اپنے جرأت مندانہ ذہن کے اُسی غیر معمولی مظاہرے سے کیا جو اُن کا خاصہ تھا:''میں نے مسلمانوں کی تاریخ سے ایک سبق سیکھا ہے، ''انھوں نے کہا، ''جب بھی تاریخ میں کوئی نازک مقام آیا ہے یہ اسلام ہی ہے جس نے مسلمانوں کو بچایا ہے، مسلمانوں نے اسلام کو نہیں بچایا۔ ''اس طرح دراصل انھوں نے مذہب کے بارے میں مسلمانوں کے روایتی نقطۂ نظر کو بدلنے کی تجویز پیش کی۔ اس اعتماد کے بعد کہ اسلام کبھی بھی 'خطرے 'میں نہیں ہوسکتا، مسلمان اپنی زندگی کا راستہ زیادہ آزادی کے ساتھ چُن سکتے ہیں؛انھیں مذہب کی طرف اپنے مسائل کے حل کے لیے دیکھنا چاہیے نہ کہ ماضی کے ایک ٹھٹھرے ہوئے بُت کے طور پر جس کی عزت وتکریم کے مظاہرے کے لیے انھیں اپنی عقلی صلاحیتوں کی قربانی دینی پڑے۔ مذہب ایک تحفہ ہے، خدا کی طرف سے انسانیت کی گردن میں پہنایا گیا کوئی طوق نہیں ہے۔ اس لیے اسے خوشی، خوش حالی اور امن کا ضامن ہونا چاہیے۔

یہ بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ آیا اقبال کو اس چیز کا احساس تھا کہ ان کے الفاظ اس خطّے کی تاریخ کے دھارے پر کس طرح سے اثرانداز ہوں گے یا وہ یہ سوچ سکتے تھے کہ جس ریاست کی انھوں نے پیش گوئی کی ہے وہ ان کی وفات کے کچھ ہی عرصے بعد وجودمیںتو آجائے گی، مگر پھر ان کے وسیع تر نقطۂ نظر کے اہم پہلوؤں سے یکسر بیگانہ رہے گی۔ جو کوئی بھی پاکستان کے پہلے ۶۲سالوں کا موازنہ اقبال کے تخیّل سے کرے گا اسے مایوسی ہی ہوگی۔ مگرہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ۶۲سال، یا ایک صدی بھی، کسی عظیم ادبی تخلیق کی زندگی کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر انسانی خوشحالی کا جومثالی تصور اقبال نے دیا تھا وہ اب بھی ان کے فن پاروں میں زندہ ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ایلیڈ اورآڈیسی اپنی تہذیب کے ختم ہوجانے کے ایک طویل عرصے بعد بھی زندہ ہیںجبکہ وہ زبان بھی اب مٹ چکی ہے جس میں وہ لکھی گئی تھیں۔ اقبال کی زندگی کا سرمایہ بھی ان کی تحریروں میں زندہ ہے جو ہمیشہ تازہ رہیں گی؛جب بھی حساس لوگوں کے کسی گروہ نے اس سے رہنمائی حاصل کرنا چاہی تو ان میں دوبارہ جان پڑجائے گی۔

''قومیں اپنے شاعروں کے دلوں میں جنم لیتی ہیں، ''انھوں نے بہت پہلے اپنی نوٹ بک میں لکھا تھا۔ ''اوروہ سیاستدانوں کے ہاتھوں پھلتی پھولتی یا فنا ہوجاتی ہیں۔ ''


اقبال اکادمی پاکستان