www.allamaiqbal.com
  bullet سرورق   bullet شخصیت bulletتصانیفِ اقبال bulletگیلری bulletکتب خانہ bulletہمارے بارے میں bulletرابطہ  

شخصیت
حیاتِ اقبال
سوانح
سنین کے آئينے میں
سوانحی مواد
کتابیات
اکثر پوچھے گئے سوالات

اختتامیہ

Three basic questions


 

شاعربہت ہوتے ہیں مگر ان میں سے چند ہی نئی تہذیبوں کو جنم دیتے ہیں۔ ہومر اوراقبال ایسے ہی دو شاعر ہیں۔ ایسے شاعروں کاکام صرف شاعری کے طور پر اہم نہیں ہوتا بلکہ یہ ان تہذیبوں کے لیے بھی ایک فکری پس منظر فراہم کرتا ہے جو ان کے تخیل سے جنم لیتی ہیں۔ ہومر کی شاعری نہ صرف اس کے بعد آنے والے یونانی شاعروں اور ڈرامہ نگاروں کے مطالعے میں حوالہ کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ سکندر ِاعظم کی تمام مہمات کے لیے بھی حوالہ ہے جس نے اُسی کے پیش کیے ہوئے تصورات سے مسوےر ہوکر دنیا کو مسخر کرنے کا عزم کیا تھا۔
پاکستان جو ایک ریاست کے ساتھ ساتھ ایک تہذیب بھی ہے، اس کی تخلیقی جڑوں کو اقبال کے کام میں دیکھا جاسکتا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے معروضی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے۔
پاکستان کو وجود میں آئے ۶۲ سال ہوگئے ہیں۔ ایک مستند تاریخ کا حوالہ بننے کے لیے یہ ایک خاصا طویل عرصہ ہے۔ اس ملک کے مستقبل کا لائحۂ عمل ۱۹۴۷ء سے لے کر اب تک کے تجربات کی روشنی میں مرتب ہونا چاہیے۔ چونکہ اقبال اس قوم کے نظریاتی بانی بھی سمجھے جاتے ہیں لہٰذا ان کی فکر کی اہمیت کا تعین اس ملک کی حالیہ تاریخ کی روشنی میں کرنا چاہیے۔

سب سے پہلے تو ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ موجودہ معاشرہ اقبال کے زمانے سے اب تک کس حد تک تبدیل ہوچکا ہے۔ انگریز جاچکے او رہم آزاد ہوچکے ہیں۔ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ برطانوی راج کا مضبوط ڈھانچہ جس کے استحکام کے پیچھے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر انگریزوں کے صدیوں کے سیاسی اور انتظامی تجربات تھے، وہ بھی ان کے ساتھ ہی رخصت ہوا۔ بہت سی چیزیں جن کے اقبال اپنے معاشرے میں عادی تھے، مثلاً جمہوریت، ثقافتی تنوع، کسی نہ کسی قسم کی رواداری اور مؤثر نظم ونسق، وہ اب ہمیں اپنی کوششوں سے دوبارہ حاصل کرنی ہیں۔ ہمیں ان کی فکر کو اس صورت حال میں نئے سرے سے دیکھنا ہوگا۔
دوسری بات یہ ہے کہ عموماً یہ بات بھلا دی جاتی ہے کہ جس مسلم ملت کاتذکرہ اقبال کرتے تھے وہ اِس مسلم ریاست سے بالکل مختلف تھی جو اَب ہمارے سامنے ہے۔ جدید سیاسی معیار کے مطابق ریاست ایک عفریت بنتی جا رہی ہے اور اس میں جو کچھ ہوتا ہے وہی استحصالی کاروبار ہے جس کی مذمت اقبال نے اس وقت کی تھی جب وہ وطن پرستی کو نئے دور کا جھوٹا دیوتا قرار دے رہے تھے۔ فرد اور معاشرے کے درمیان لین دین ایک براہِ راست عمل ہے جبکہ ریاست کا آمرانہ رجحان قطعی مختلف قسم کی چالبازیوں کا متقاضی ہوتا ہے۔ یہ نئے انداز کی شعبدہ بازیوں کو جنم دیتا ہے اور تحفظات کے نام پر عوام کی آنکھوں پر نئے نئے پردے ڈالتا ہے۔ جس طرح قرونِ وسطی ٰکے دور میں عوام کے استحصال کے لیے حکمرانوں نے مذہب کا غلط استعمال کیا تھابالکل اسی طرح جدید ریاست کی شعبدہ بازیوں کو حکمران طبقہ اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرسکتا ہے، خواہ کوئی بھی ہو۔
اقبال نے جب مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک کا مطالبہ کیا تھا تو ان کا مقصد بالکل اُسی طرح کی چالبازیوں سے نجات حاصل کرنا تھا جن کا استعمال بعد میں پاکستان کے چند حکمرانوں نے کیا۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ ریاستی ضرورت کے نام پر انسانی وقار اور عزتِ نفس کی نفی کرنا اقبال کے نزدیک شرک کے برابر ہوتااور وہ اسے ریاست کو خدا کے برابرحیثیت دینے کے مترادف قرار دیتے (اس نظر سے دیکھیں تو فیض احمد فیض جو اقبال کے بعد کی نسل کے سب سے نمایاں پاکستانی شاعر ہیں، ان کی احتجاجی نظمیں اُسی روایت کا تسلسل تھیں جسے اقبال نے 'وطنیت' جیسی نظموں کے ذریعے قائم کیا تھا) ۔
یہ صحیح ہے کہ ریاست قائم ہونے کے بعد معاشرے کا ریاست میں تبدیل ہونا ناگزیر ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ تبدیلی زیادہ تر غیرتربیت یافتہ، غیر پیشہ ور لوگوں کے ہاتھوں عمل میں آئی۔ بُرے سیاستدان، سرکاری عمال اور فوجی موقع پرست کسی طرح بھی اُس کام کے اہل نہ تھے جو دنیا کی کسی بھی دوسری ریاست کو چلانے سے کہیں زیادہ صلاحیتوں کا متقاضی تھاکیونکہ یہ وہ ریاست تھی جسے زمانے کے عام رُجحانات کے برعکس ایک نمونہ پیش کرنا تھا۔ پاکستان بنانے کا بنیادی مقصد ہی دنیا کو جغرافیائی حدبندیوں کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے تصور کو ختم کرنا تھا اور نوعِ انسانی کو ایک عالمگیر روحانی جمہوریت کی طرف لے کر جانا تھا۔ اس کام کے لیے محض اچھے رہنما نہیں بلکہ غیر معمولی رہنما درکار تھے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں ایک طویل عرصے تک ایسی قیادت رہی جو ان صلاحیتوں سے قطعی محروم تھی جن کی ملک کو ضرورت تھی۔ جب اقبال کے چھوٹے بیٹے جاوید اقبال کی ملاقات پاکستان کے ابتدائی دور کے ایک ڈکٹیٹر سے ہوئی تو اخلاق کے تمام تقاضے نبھانے کے بعد ان سے کہا گیا کہ ان کی خدمات کی حکومت کو کوئی ضرورت نہیں اس لیے کہ وہ ایک شریف آدمی ہیں۔ ''مجھے بدمعاشوں کی ضرورت ہے، ''اس ڈکٹیٹر نے جاوید سے کہا۔ جمہوری اعتبارسے، عظیم رہنما تو تب سامنے آسکتے ہیں جب عوام کے پاس اختیارات ہوں اور ان کو بحیثیت شہری کے اپنی آزادی کا پورا احساس ہو۔
تیسری بات یہ کہ پاکستانی معاشرہ اس نکتے پر ہمیشہ اختلاف کا شکا ر رہا ہے کہ آیا اسلام کو ریاست کا سرکاری مذہب ہونا چاہیے یا نہیں۔ ''ترقی پسندوں' 'اور ''رجعت پسندوں'' کے درمیان اس اختلاف نے سیاسی توانائیوں اور ذہنی صلاحیتوں کو بُری طرح ضائع کیا ہے۔ ا س کوتوجدید معاشرے کے معیارات کے مطابق اختلافِ رائے بھی نہیں کہا جاسکتا۔ بلکہ یہ تو انتشار کی ایک شکل ہے۔ مخالف مکاتیبِ فکر کے مابین کبھی کسی بامعنی گفت و شنید کی کوشش نہیں کی گئی۔ ہوسکتا ہے کہ ان کے مابین ایک مشترکہ میدان تلاش کرلیا جاتا اگر دونوں انسانیت پسندی کے ناطے ایک دوسرے کو قبول کرنے پر تیار ہوتے، او راپنی توجہ عام لوگوں کو درپیش حقیقی مسائل کو حل کرنے کی طرف مبذول کرلیتے، بجائے محض ناموں اور علامتوں پر جھگڑنے کے۔
اس تنازعے میں اقبال ایک ایسے سمجھوتے کا باعث بن سکتے ہیں جس کی اس قوم کو ایک عرصہ سے ضرورت ہے۔ انھوں نے مسلم قانون کے نفاذ کی ہمیشہ حمایت کی مگر ان کی اصل توجہ غربت اور ناانصافیوں کے خاتمے پر مرکوز تھی۔ اقبال کا مطالعہ کرنے والوں کو اب کچھ ایساضرور کرنا چاہیے کہ انھیں اس خطے کے ادبِ عالیہ کے مرکزی دھارے میں لایا جائے جس سے انھیں ۱۹۴۷ء سے اب تک الگ رکھا گیا ہے۔ یہ صرف تب ہی ہوسکتا ہے جب ہم اپنے نظریات کو ان پر تھوپنا ختم کردیں اور ان کو ویسا ہی پیش کریں جیسا کہ وہ ہیں۔

The birth of a civilization


 

اس سطح تک پہنچا دے جہاں ہم یہ احساس کرسکیں کہ ہمارے تصورات کو محض چھوٹے گروہوں تک محدود رہنے کی کوئی ضرورت نہیںبلکہ ان کا اطلاق پوری نسلِ انسانی پر بھی کیا جاسکتا ہے۔ ایک دوسرے کے تعاون سے سیکھنے کا عمل محض کمرۂ جماعت ہی تک محدود کیوں رہے-کیوں نہ اسے جنیوا میں اکٹھے ہونے والے سربراہانِ ریاست پر آزما کر دیکھا جائے؟جیت کاانداز محض کاروباری مذاکرات کے لیے کیوں ہو - دنیا کیا کچھ حاصل کر لے گی اگر اِس اصول کو بین الاقوامی معاہدوں میں اپنایا جائے۔
ہمیں ایک عالمی سطح کے مفکر کی ضرورت ہے جو ہمارے دلوں اور ذہنوں میں اس قسم کے ارادے پیدا کرنے کے لیے ضروری تحریک فراہم کرے۔ اقبال ایک ایسے ہی مفکر ہیں۔ وہ ہر ممکن دانائی، بے باکی، نرمی اور دلآویزی کے ساتھ الفاظ کا استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنے سننے والوںکو یہ سوچنے پر مجبور کردیں کہ اگر سیاسی راہنما اپنے اپنے ممالک میں جہالت اور غربت مٹانے کی بات کرسکتے ہیں تو کیا کوئی ایسا نہیں ہوسکتا جو روئے زمین پر سے ان برائیوں کو ختم کرنے کی بات کرے؟اگر کسی ایک کے لیے یہ ممکن نہیں تو کیوں نہ بہت سے مل کر یہ کام کریں بلکہ کچھ عجب نہیں کہ سب ہی اکٹھے ہو جائیں۔
انتظامی علوم کے ماہر آج ہمیں جو کچھ ایک چھوٹی سطح پر ممکن، آسان اور شعور پر مبنی بنا کر دکھارہے ہیں، وہی سب کچھ بڑی سطح پر بھی ممکن، آسان اور عقل پر مبنی ہوسکتا ہے۔ یہ بات عجیب لگتی ہے مگر ہے بالکل صحیح کہ ان بہت سے جدید مفکروں میں، جو کسی بھی لحاظ سے عالمی سطح کے مفکر کہلائے جاسکتے ہیں، اقبال غالباً وہ واحد مفکر ہیں جن کے افکار، اُن تصورات سے مسائل کے ایک عالمگیر حل کا عظیم ڈھانچا تعمیر کرنے کے لیے ایک جامع فلسفیانہ بنیاد فراہم کرتے ہیںجو ہمارے زمانے میں زمینی سطح پر مقبول ہورہے ہیں۔
یہ وہ تبدیلی ہے جو ہماری دنیا میں اقبال برپا کرسکتے ہیں۔ ایک مشترکہ انسانی مستقبل پر ان کا یقین ان کے اپنے زمانے سے کہیں آگے کی بات تھی لہٰذا اُس وقت اس کو سمجھنا مشکل تھااور اسی لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ اسے غلطی سے کچھ اور سمجھ لیا گیا، ان کے اصل تصور سے کہیں چھوٹا اور محدود۔ آج ان کی آواز ہمارے نظریۂ کائنات میں انقلابی تبدیلی لاسکتی ہے۔

The Way Ahead


 

اقبال کا مطالعہ کرنے والوں پر مشرق کی مخصوص زوال پذیرسوچ کا گہرا اثر رہا ہے۔ یہاں اکثر اصلی تصورات کو بھی ماضی کی کسی مشہور شخصیت کی تشریح کے طور پر پیش کردیا جاتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال تو اقبال کے ہیروالجیلی ہیںجن کا نظریۂ وحد ت الوجود ابن عربی سے واضح طور پر محتلف تھا مگر پھر بھی ان کے تصورات کو اسی اندلسی صوفی کی تشریحات کے سلسلے کی ایک کڑی قراردیاگیا۔ اسی طرح اگر ''فکرِ اقبال''پر لکھے جانے والے ''احکامِ جہاد عظیم مواد'' کا ایک محتاط مطالعہ کیا جائے تو پتہ لگے گا کہ ان کی تشریح کرنے والوں کے پیش کردہ بہت سے تصورات ایسے ہیں جن کا اقبال کی اپنی تحریروں میں کہیں تذکرہ نہیں ہے۔
اقبال کے پائے کے مفکر کی فکرسے تو ایک مکتبۂ فکر جنم لے سکتا ہے یا کئی مکتبہ ہائے فکر پیدا ہوسکتے ہیںجن کا منبع تو بے شک اقبال کے افکار ہوں، مگر جو اپنی سوچ رکھنے والے مفکرین کی ایک نسل کو جنم دے سکیں۔ جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ پاکستان کا فکری منظرنامہ اس سے کہیں مختلف ہوسکتا تھا اگر یہ لاتعداد نقاد اور شارحین شعوری طور پر ایک قدم اُٹھاتے اور خود اپنے تصورات کا پرچار کرتے، تو ہمارا احساسِ زیاں اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ ذرا اندازہ کیجیے کہ کتنے نئے سماجی ماہرین اور مفکرین سامنے آسکتے تھے اگر وہ اپنے تصورات کو اقبال سے منسوب ناکافی حوالوں کے ساتھ صحیح ثابت کرنے پر اپنی توانائیاں ضائع کرنے کی بجائے اِن نئے تصورات کو منطق، استدلال اورفہمِ عامہ کے قوانین کے مطابق جانچتے اور ثابت کرتے!
اگر اقبال پر ہونے والے تبصروں کو محض ان موضوعات تک محدود رکھا جائے جن کو خود اقبال نے موضوع اور ذیلی موضوع بنانے کے لیے چُنا تھا تب بھی کچھ اچھے نتائج نکل سکتے ہیں۔ خاص طور پر وہ موضوعات جن پر انھوں نے اپنی زندگی کے ہر دَور میں تحریروں کی شکل میں سیر حاصل موادچھوڑا ہے تاکہ ہم نہ صرف ان کی فکر کے تدریجی ارتقا کو دیکھ سکیں بلکہ اس بارے میں بھی پُریقین ہوں کہ جو کچھ وہ ان موضوعات پر کہہ رہے ہیں وہ محض ایک جذباتی ردّ ِ عمل نہیں ہے جو ہمیں غلط فہمی کا شکار بھی کرسکتا ہے بلکہ ان کی ٹھوس فکر کا نتیجہ ہے جو ایک مناسب عرصے میں قائم کی گئی ہے۔
مثال کے طور پر وقت، تعلیم، قانون وغیرہ کے موضوعات جنھیں اقبال نے اپنی شاعری اور نثر میں لیا تو ہے مگر ان کا مکمل احاطہ نہیں کیا۔ ان کے بارے میں یہ جاننے کا دعویٰ کرنا کہ اقبال کے ذہن میں ان موضوعات کی مکمل تصویر کیا تھی، علم کا نہیں غیب کے علم کا علاقہ ہے۔
اس طرح کی مکمل وضاحتیں تحریر کرنے میں قوم کی خاصی توانائی ضائع ہوچکی ہے جو ان اہم موضوعات پر نئی اور آزادانہ فکر میں استعمال کی جاسکتی تھی جو ہمیںآج درپیش ہیں۔ اقبال کی سوچ کا بنیادی اصول یعنی انسانی روح کی عظمت اور صحت مندانہ روحانی احساس پر پختہ اور لازوال یقین آج کی زندگی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک اچھا نقطۂ آغاز ہوسکتا ہے مگر نئے تصورات کو بھی راہ دینی چاہیے۔ نئے تصورات اور نئے فلسفوں کو سامنے آنا چاہیے۔
مگر کسی چیز کو اپنے نام سے پیش کرنے اور اُسی چیز کو ماضی کی کسی مشہور شخصیت کے نام سے پیش کردینے کے درمیان جو فرق ہے وہ دراصل دوبالکل مختلف ذہنی فضاؤں کا فرق ہے۔ کسی بیان کو پورے اعتماد کے ساتھ اپنے نام سے پیش کرنے کے لیے آپ کو ایک ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں تنقیدی سوچ اور عقلیت پسندی کو اہمیت دی جاتی ہو، لوگ کُھلے ذہن کے ہوں اور نئے تصورات کا خیر مقدم کرنے پر آمادہ ہوں۔ لیکن اگر آپ ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہوں جہاں تنقیدی فکر اور عقلیت پسندی کو کفر کا درجہ دیا جاتا ہو، لوگ اخلاقی طور پر عدم تحفظ کا شکار ہوں اور اپنے اعمال کی ذمہ داری قبول کرنے سے بچنے کے لیے مستقل ماضی میں دیکھتے رہنے کے عادی ہوں تو پھر آپ اُسی چیز کو اپنی بجائے کسی ایسی شخصیت کے نام سے پیش کرنا پسند کریں گے جسے فوت ہوئے عرصہ ہوگیا ہو۔
ہر چند کہ پاکستانیوں کو اپنے معاشرے کے ذہنی ماحول میں بہت سے مسائل کا سامنا ہے مگر پھر بھی آج ان پر یہ ذمہ داری بہرحال عائد ہوتی ہے کہ وہ اقبال کی آواز کو دنیا بھر میں پھیلائیں:دنیا کو ان کی آواز سننے کی جتنی ضرورت آج ہے، اتنی پہلے کبھی نہ تھی۔

اقبال اکادمی پاکستان